یہ ہیں میرے سراجا منیرا۔پروفیسر سینیٹر ساجد میر

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا 0‏ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ﴾ (سورة الأحزاب: 45-46)

ہر قسم کی تعریف اور ہر طرح کا شکر اللہ کے لیے، اللہ کی ذات کے لیے جو مالک الملک ہے، خالق کل ہے ۔درود و سلام، صلاۃ وتسلیم، سرور انبیاء کے لیے جو انسانوں میں مؤمنِ کل اور رحمتِ کل ہیں۔

خطبہ مسنونہ کے ساتھ ابھی میں نے قرآن کریم کی جو آیات بینات پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ جن میں نبی اکرم ﷺ ہی کی شان اقدس اور اس کے ساتھ بحیثیت نبی آپ کے وہ فرائض اور آپ کی وہ ڈیوٹیاں جو آپ کے ذمے اللہ نے لگائیں، ان کا ذکر فرمایاکہ اے نبی! ہم نے آپ کو اپنی ہستی، اپنی توحید، آخرت اور غیبی حقائق کا گواہ بنا کر بھیجا ہے۔

﴿ وَمُبَشِّرًا ﴾ خوشخبریاں دینے والا بنا کے بھیجا۔

﴿ وَنَذِيرًا ﴾اللہ کے عذاب اور سزا سے ڈرانے والا بنا کے بھیجا ہے۔

﴿ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ﴾ (سورة الأحزاب: 46)

اللہ کے حکم سے آپ اس کی طرف بلانے والے ہیں۔ یہ آپ کی حیثیت ہے، یہ آپ کی شان ہے اور پھر آخر میں فرمایا:

﴿وَسِرَاجًا مُّنِيرًا﴾ (سورة الأحزاب: 46)

اور ہم نے آپ کو ایک چمکدار چمکتا ہوا سورج بنا کے بھیجا ہے۔انہی آخری الفاظ پہ آج ان شاءاللہ بات کریں گے۔آسمان پر ستارے بہت ہیں، ان میں ایک چاند روشن بھی ہے، لیکن روشنی آتی ہے اور اندھیرا دور ہوتا ہے تو سورج سے۔ اندھیرے کو سورج دور کرتا ہے۔ ستارے اور چاند اتنے روشن نہیں ہیں، جتنا سورج ہے، جیسا کہ مشہور اور ایک معروف تفسیر کشاف میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آپ کو سراج منیر کیوں کہا گیا؟

” جَلَّ بِهِ الظُّلُمَاتُ، وَاهْتَدَى بِهِ الضَّالُّونَ” (تفسیر کشاف:3/547)

آپ کے آنے سے، آپ کی نبوت سے، آپ کے فیض سے شرک کے اندھیرے دور ہوئے اور گمراہوں نے ہدایت کی راہ پا لی، جس طرح رات کا اندھیرا چمکتے ہوئے سورج سے دور ہو جاتا ہے۔ جیسے

” كَمَا يَجُلُّ ظَلَامَ اللَّيْلِ” (تفسیر کشاف:3/547)

شرک، توہمات، کفراور بری رسوم وغیرہ کے اندھیرے آپ نے آ کر دور فرمائے۔ سورج کے ساتھ، چمکتے ہوئے، سورج کے ساتھ آپ کی کچھ مشابہتیں بھی ہیں اور کچھ فرق بھی ہیں۔ مشابہت کیا ہے؟ سورج کے ساتھ ملتی جلتی بات کیا ہے؟ پہلی بات یہ ہے کہ سب انبیاء ہمارے نزدیک قابل احترام ہیں، سب آسمانِ نبوت کے ستارے اور چاند ہیں مگر آپ سورج یعنی سب سے ممتاز ،سب سے اعلیٰ اور اوپر والا درجہ رکھنے والے سید المرسلین ہیں، سید الانبیاء ہیں، امام الانبیاء ہیں۔

اور صرف انبیاء نہیں بلکہ ساری مخلوق کے ہیڈ اور ساری مخلوق کے سردار ہیں۔ آپ نے فرمایا:

« أَنَا سَيِّدُ ولدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ » (سنن ابن ماجه: 4308)

میں فخر نہیں کرتا لیکن ایک حقیقت بتاتا ہوں، حقیقت کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے سارے بنی آدم کا ،آدم کی ساری اولاد کا سردار بنایا ہے۔ پھر بتایا، پھر فرمایا کہ

«ِ وبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (سنن ابن ماجه: 4308)

قیامت کے دن مخلوق کی قیادت کا جھنڈا ، جس کو آپ نے لواء الحمد کہا ہے مخلوق کی قیادت کا وہ جھنڈا کم ہے اور اللہ کی تعریف کا جھنڈا زیادہ ہے۔ بہرحال اللہ کی تعریف کا جھنڈا یا مخلوق کی قیادت کا جھنڈا کس کے ہاتھ میں ہو گا؟ نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں ہو گا۔ انبیاء کی امامت بیت المقدس میں آپ سے کروا کر اس بات پر ایک دفعہ پھر مہر لگا دی کہ آپ ہی امام الانبیاء ہیں اور آپ ہی سید الانبیاء ہیں، پھر قیامت کے میدان میں صرف جھنڈا نہیں بلکہ سب سے بلند اور سب سے اونچا اور سب سے بہتر مقام جہاں آپ کو کھڑا کیا جائے گا یا جہاں آپ تشریف رکھیں گے، وہ کیا ہے؟ وہی ہے جسے مقام محمود کہتے ہیں:

﴿عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾ (سورة الإسراء: 79)

اس کی خوشخبری سورۂ بنی اسرائیل میں آپ کو دے دی گئی کہ عنقریب ان شاءاللہ اللہ آپ کو اس مقام محمود پہ کھڑا کرے گا۔

دوسری مشابہت یہ ہے کہ جس طرح سورج کے، آفتاب کے آنے کے بعد چاند تاروں کی ضرورت نہیں رہتی۔آفتاب آ جائے، سورج آ جائے تو چاند تارے خود ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ وہ کریں گے کیا؟ روشنی تو سورج سے ہو گی۔ وہ آگے کیا کریں گے؟ تو جس طرح آفتاب کے آنے کے بعد چاند تاروں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اسی طرح آپ کے آنے کے بعد پہلے انبیاء کی نبوت ختم ہوگئی۔ آخری نبی آگئے۔ آپ کی نبوت سب انبیاء کی نبوت پر چھا گئی۔ وہ ماند پڑ گئی، وہ ایک وقت کے لیے تھی۔ آپ کی نبوت ایک وقت کے لیے نہیں ہے۔ اس نے پہلی نبوتوں کو بھی ختم کیا اور آئندہ بھی ہمیشہ چلے گی۔ پہلی شریعتیں منسوخ ہو گئیں، ختم ہو گئیں۔ اب آپ کی شریعت ہے، جو قیامت تک چلے گی۔ اسی پر عمل کرنا ہو گا۔ اس حقیقت کا اظہار آپﷺ نے فرما دیا ، ایک اور حدیث میں قسم کھا کے کہا :

« لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي، لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ، وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي، لَاتَّبَعَنِي » (سنن دارمى:449)

اس ذات عالی کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر آج اللہ کے جلیل القدر نبی، موسیٰ﷤ اگر وہ آج آ جائیں، جن کے ذکر سے قرآن کریم کے صفحات بھرے ہوئے ہیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی نبوت کے پیچھے لگ جاؤ۔ تو کیا ہوگا؟ فرمان ہے:

«لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» (سنن دارمى:449)

تم سیدھی راہ کو کھو دو گے، تم سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاؤ گے۔ ہدایت کی بجائے گمراہی میں جا پڑو گے۔

آگے فرمایا:

«وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي، لَاتَّبَعَنِي» (سنن دارمى:449)

اگر وہ زندہ ہوتے، آج کے میرے دور میں ہوتے، تو انہیں بھی میری اتباع کرنی پڑتی۔ انہیں بھی میری نبوت کو تسلیم کرنا پڑتا۔ یہ مقام ہے، سراج منیر کی نبوت کا کہ آپ کے آنے کے بعد اب کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ جو دعویٰ کرے گا، جو آئے گا، جو کہے گا، وہ جھوٹا اور کذاب ہو گا۔ خواہ وہ مسیلمہ ہو، خواہ وہ غلام احمد قادیانی ہو، خواہ کوئی اور ہو۔

آپ کی نبوت کی تیسری مشابہت، آفتاب یعنی سورج سے کیا ہے؟ جس طرح ایک سورج سارے عالم کے لیے کافی ہے، ساری دنیا کے لیے کافی ہے، اسی طرح آپ کی نبوت بھی عالمگیر ہے، ساری دنیا کے لیے کافی ہے، سارے جہان کے لیے عالمگیر نبوت ہے۔فرمایا:

﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا﴾ (سورة الأعراف: 158)

لوگو! سنو، میں تم سب کی طرف رسول بنا کے بھیجا گیا۔ آپ رحمت للعالمین ہیں۔ کسی ایک قوم کے لیے رحمت نہیں۔ آپ کی رحمت، آپ کی نبوت عالمین کے لیے ہے، تمام جہانوں کے لیے ہے۔ فرمایا:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾ (سورة سبا: 28)

ہم نے آپ کو سب لوگوں کے لیے بشیر و نذیر نبی بنا کے بھیجا ہے، ۔ پوری انسانی برادری میں سے کوئی آپ کی نبوت سے باہر نہیں ہے۔ جو باہر نکلے گا، وہ اپنا نقصان خود کرے گا۔

چوتھی بات:

 سورج کی روشنی اصلی ہوتی ہے۔ چاند کو وہ روشنی دیتا ہے، اس کے ذریعے اللہ چاند کو روشنی دیتا ہے۔ ستاروں کو بھی اتنی روشنی نہیں ملتی۔ آفتاب کی روشنی اصلی ہے۔ ستاروں وغیرہ کو آفتاب کی روشنی منتقل ہوتی ہے۔ مستقل بھی اللہ نے بنائے ہوں گے ستارے، لیکن بہت سے ستاروں کو یہی کہتے ہیں کہ یہ آفتاب کی روشنی منتقل ہوئی۔آپ کی لائی ہوئی روشنی میں ہزاروں امام، ہزاروں فقیہ، ہزاروں محدث، ہزاروں صحابی پیدا ہوئے۔ آپ کی روشنی آپ تک محدود نہیں رہی۔ اس نے لاکھوں نہیں، کروڑوں نہیں، اربوں انسانوں کے دلوں کو آج تک منور کیا ہے۔ یہ ہیں آپ، آفتاب ِ نبوت ۔

پانچویں بات:  آنکھ والا، دیکھنے والا، بینا شخص آنکھیں کھولے تو آفتاب کی روشنی سے، سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن اگر کوئی ضد اور تعصب میں آ کر آنکھیں بند کر لے تو اپنا نقصان کرے گا کسی اور کا نہیں کرے گا۔

سعدی نے کہا تھا: اگر کوئی چمگادڑ جیسی آنکھ والا، جو رات کو کھلتی ہے اور دن کو سورج کی روشنی میں بند ہو جاتی ہے، تو اگر چمگادڑ جیسی آنکھوں والا کوئی سورج کی روشنی نہ دیکھ سکے تو اس میں سورج کا کوئی قصور نہیں ۔ گناہ اس کا اپنا ہے، جو آنکھیں نہیں کھول رہا۔یہ تو کچھ مشابہت کی باتیں تھیں، لیکن آپ کی نبوت کی روشنی کا سورج سے فرق بھی ہے۔

پہلا فرق تویہ ہے کہ سورج ایک وقت میں پوری دنیا کو روشن نہیں کرتا، آدھی دنیا کو روشن کرتا ہے، باقی کی باری بعد میں آتی ہے، لیکن آپ کی روشنی ایک ہی وقت میں ساری دنیا کو منور کیے ہوئے ہے۔ساری دنیا میں آپ کی ہدایت پھیلی ہوئی ہے۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ سورج کی روشنی جتنی بھی ہو، بالآخر رات اس پر چھا جاتی ہے۔ کچھ وقت کے لیے وہ روشنی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ روشنی وہ روشنی ہے، جس پر رات نہیں آتی۔ آپ نے فرمایا بھی ہے کہ جو دین، جو راستہ، جو ہدایت میں لے کر آیا ہوں، یہ وہ راستہ ہے کہ

«لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا.» (سنن ابن ماجه:43)

 جس کی رات بھی اس کے دن جیسی ہے، یعنی رات بھی روشن ہے۔میرے دین کی رات بھی دن جیسی ہے، یعنی اس میں تاریکی ہے ہی نہیں۔ روشنی ہی روشنی ہے۔مختصر یہ کہ سورج حرارت دیتا ہے، روشنی دیتا ہے، زندگی دیتا ہے۔ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ بارش کی طرح، بارش اپنے طور پر زندہ کرتی ہے، سورج اپنے طور پر زندہ کرتا ہے۔ خالی بارش ہو تو ہماری فصلیں اور پھل پک نہیں سکتے۔ بارش کے بعد سورج کی روشنی انہیں پکاتی ہے۔تو جو حرارت، جو روشنی، جو زندگی آپ لے کر آئے، اس کی تھوڑی سی تفصیل اب میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے پہلی بات یہ کہ آپ کی لائی ہوئی روشنی، سراج منیر کی لائی ہوئی روشنی ہے۔ اس روشنی نے بت پرستی کو مٹایا، شرک کی جڑوں کو ہلا دیا۔ عرب میں شرک کا سلسلہ ختم کر کے رکھ دیا۔ وہ عرب جن کی زندگی شرک سے عبارت تھی، جو توحید سے میلوں اور کوسوں دور تھے، ان کو آپ نے توحید کا رسیا بنایا، توحید سکھائی۔یہ وہ لوگ تھے، جو اپنے ہاتھوں سے مٹی اور پتھر کے خدا، مصنوعی خدا، جھوٹے خدا بناتے تھے اور ان کے سامنے سجدے کرتے تھے، ان کی عبادت کرتے۔ یہ وہ لوگ تھے جو سفر پر نکلتے تو کہتے کہ ریگستان کا سفر ہے، وہاں کوئی پتھر ملے یا نہ ملے، گھر سے پتھر لے کے نکلتے۔ تین پتھر کم از کم ساتھ رکھتے۔ وہی پتھر سفر میں کھانا پکانے کے کام آتے، چولہا بنانے کے کام آتے۔ انہی پتھروں میں سے جو اچھا لگتا، اس کو سامنے رکھ کر سجدہ کرتے۔آج ہم یہ واقعات سنتے اور پڑھتے ہیں تو ہنستے ہیں یا کم از کم مسکراتے ہیں کہ کیسے بے عقل لوگ تھے؟ بے عقل نہیں تھے، ان میں بڑے بڑے فاضل،قوم کے راہنما اور بڑے بڑے دانشور موجود تھے۔ جیسے حالی نے کہا کہ

قبیلے قبیلے کا ہر اک بت جدا تھا

کسی کا ہُبل تھا کسی کا صفا تھا

یہ عزیٰ پہ وہ نائلہ پہ فدا تھا

اسی طرح گھر گھر بنا اک خدا تھا

حفیظ جالندھری نے کہا:

زمین پر خاک، پتھر اور شجر معبود تھے ان کے

فلک پر انجم و شمس و قمر معبود تھے ان کے

یعنی زمین پر خاک سے بنائے ہوئے بت، پتھر، درخت اور آسمان پر چاند، سورج، ستارے ان کے معبود تھے۔ انہی لوگوں میں پھر آپ نے کیسے لوگ پیدا کیے۔ فرمایا:

﴿رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ﴾ (سورة النور: 37)

جو توحید پر ثابت قدم رہے، جن کو دنیا داری، تجارتیں، کاروبار اللہ کی یاد سے روک نہیں سکتے تھے۔بلال﷜ نے کیا کچھ قربان نہیں کیا توحید کے لیےوہ ماریں کھاتے، پتھروں کی سیل سینے پر رکھواتے اور گلیوں میں گھسیٹے جانے کے باوجود “أحد، أحد” پکارتے رہے۔ یہ جذبہ سراج منیر نے ان کے اندر پیدا کیا تھا۔

خبّاب﷜ کو جلتے ہوئے انگاروں پر لٹایا گیا، یہاں تک کہ ان کے جسم کی چربی نے آگ کو بجھا دیا، مگر توحید کو پھر بھی نہیں چھوڑا۔ وہ صحابی جو روم میں گرفتار ہوئے، بادشاہ نے کہا: “محمد کا دین چھوڑ دو، توحید چھوڑ دو، سلطنت میں حصہ دوں گا، بیٹی کا رشتہ دوں گا۔ جب نہ مانے تو سامنے ایک قیدی کو گرم پانی کی دیگ میں ڈال کر ایک قیدی کو بھون دیا۔ کہا:

’’تمہارا بھی یہی حشر کروں گا، ورنہ محمد (ﷺ) کا دین چھوڑ دو!‘‘

مگر وہ توحید کے رسیا ہو چکے تھے، انہیں دنیا کالالچ نہ ہلا سکا۔ یہ سب انہی لوگوں میں سے پیدا ہوئے جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے۔

دوسرا فرق جو آپ کی تعلیم نے پیدا کیا: آپ کی روشنی نے لوٹ مار کے عادی لوگوں کو ایماندار بنا دیا۔ جو سود خور تھے، جُوا باز تھے، انہی لوگوں میں پھر اللہ کی راہ میں دینے والے، اللہ کی راہ میں سب کچھ لوٹانے والے پیدا ہوئے، جو مال کھینچنے کے عادی تھے، دینے کے عادی نہیں تھے۔ ہر ذریعے سے، ہر جائز ناجائز طریقے سے مال بنانے والے، کھلے دل سے مال دینے والے بنے۔ یہ ہے سراج منیر کا کمال۔ حضرت عمر﷜ نے سنا، آیت کریمہ سنی، ہم بھی سنتے ہیں، ہم بھی پڑھتے ہیں۔ چوتھے پارے کی پہلی آیت:

﴿ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ (سورة آل عمران: 92)

تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت پہنچو گے جب اپنے سب سے پسندیدہ مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ فوراً سوچا میرا سب سے پسندیدہ مال کون سا ہے؟ سب سے قیمتی مال تو وہ ہے جو ارض خیبر میں ہے۔ خیبر کی زمین میں سے جو حصہ ملا تھا، ذہن میں آیا کہ وہ سب سے قیمتی ہے۔ یہ سوچ کر اسے وقف کر دیا، اللہ کی راہ میں دے دیا۔

ابو طلحہ﷜ اپنے قیمتی باغ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ گھنا باغ،ایک پرندہ آیا، بعض درخت اس کے اتنے گھنے تھے کہ اسے باہر نکلنے کا راستہ نظر نہیں آتا تھا، کبھی ادھر جاتا ہے، کبھی ادھر جاتا ہے۔ نفل نماز میں ابو طلحہ کی توجہ پرندے کے ادھر ادھر اڑنے سے پرندے کی طرف ہو گئی۔ بعد میں اتنی سی بات پہ اتنی پشیمانی ہوئی کہ ایک پرندے کی نقل و حرکت نے مجھے اللہ کی یاد سے غافل کر دیا، میری نماز خراب کر دی، نماز پہ توجہ خراب کر دی۔ اس کا علاج کیا ہے؟ خود ہی اس کا علاج یہ سوچا کہ یہ قیمتی باغ اللہ کی راہ میں دے دیتا ہوں تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو۔ یہ جذبہ کہاں سے آیا؟ آپ کی تعلیم سے آپ کی لائی ہوئی روشنی سے، یہ سراج منیر کا کمال تھا، کسی اور کا کمال نہیں تھا۔ اللہ کی توفیق تھی، لیکن آپ اس کا ذریعہ بن گئے۔

تیسری بات، لڑتے رہنے والے لوگ، بات بات پہ تلوار نکالنے والے، جن میں قبیلوں کی جنگ شروع ہوتی تھی تو ہفتوں نہیں، مہینوں نہیں، سالوں تک چلتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہوتے تھے۔ حالی مرحوم نے کہا کہ

کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا

کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا

جانور چرانے پہ، جھگڑا کہ تمہارا جانور میری چراگاہ میں کیوں آیا؟ میری جگہ پہ کیوں آیا؟ کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا، تمہارا گھوڑا میرے گھوڑے سے آگے کیوں بڑھ گیا؟

یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں

یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں

یہ جھگڑے ہوتے تھے۔اور آپ ﷺ نے آ کے کیا کیا؟ سراج منیر کا کمال کیا تھا؟

﴿ مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ﴾ (سورة الأنفال: 63)

آپ نے دلوں کو جوڑ دیا، لڑنے والوں کے دلوں کو جوڑ دیا، تکرار اور جھگڑا اور لڑائی کرنے والوں کے دل آپس میں ملا دیئے۔ اسی سے متاثر ہو کر ایک ہندو شاعر نے کہا تھا:

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا

قطرے قطرے کو ملا کے دریا بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ذرے ذرے کو ملا کے ایک وسیع صحرا اور ریگستان بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے، لیکن آپ نے یہ کر دکھایا، اللہ کی توفیق سے کر کے دکھایا۔ مواخاتِ مدینہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

مدینے میں آ کے جس طرح آپ نے انصار اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنایا، ایک ایک کو پکڑا اور اسے دوسرے کا بھائی بنا دیا، یہ تمہارا بھائی ہے اے مہاجر! یہ انصاری تمہارا بھائی ہے، اے انصاری! یہ مہاجر تمہارا بھائی ہے۔ اور پھر انہوں نے واقعتاً بھائی بن کے دکھایا۔ اپنے گھروں میں، اپنے کاروبار میں، اپنے مال میں، اپنی تجارت میں، اپنے باغوں میں، اپنی کھجوروں میں جو بھی چیز تھی، اس میں انہیں باقاعدہ شامل کیا، باقاعدہ حصہ دار بنایا۔ وہ واقعہ بھی مشہور ہے۔

عبدالرحمن بن عوف﷜ کے انصاری بھائی نے کہا:

میرا سارا مال آدھا میرا، آدھا آپ کا، حتی کہ دو بیویاں ہیں، ان میں سے جس کو چاہو، میں طلاق دے دیتا ہوں، آپ اس سے شادی کر لیں۔ انہوں نے کہا: میں تاجر آدمی ہوں، مجھے بازار کا راستہ دکھا دو، بازار میں انٹروڈیوس کرا دو، باقی میں جانوں اور میرا اللہ جانے۔(صحیح بخاری : 3937)

 لیکن اس نے کوئی کمی نہیں کی اپنی طرف سے۔ اتنا ان کو قریب کیا آپس میں کہ حالی نے کہا ہے:

وہ دیں جس نے اعدا کو اخواں بنایا

وحوش اور بہائم کو انساں بنایا

درندوں کو غمخوارِ دوراں بنایا

گڈریوں کو عالم کا سلطان بنایا

یہ کارکردگی ہے ،یہ کارنامہ ہے سراج منیر ،ﷺ کا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ چھوٹی اور پست باتوں کےلئے، ذاتی اغراض اور ذاتی انتقام کےلئے لڑنے والے سب کچھ بھول گئے۔لڑتے تھے تو صرف اللہ کے دین کےلئے لڑتے تھے۔ذاتی چیزوں کےلئے نہیں لڑتے تھے اور یہ انقلاب آیا۔حضرت علی ﷜ کی مثال موجو د ہے۔میدان جنگ میں دشمن کو زیر کیا۔اس کے سینے پہ سوار ہوئے۔خنجر سے اس کا کام تمام کرنے والے تھے کہ اس نے منہ پر تھوکا۔فوراً اسے چھوڑ کر الگ ہوگئے۔وہ حیران کہ تم مجھ پر قابو پا چکے تھے ،آسانی سے ختم کر سکتے تھے پھر مجھے چھوڑ کیوں دیا ہے

؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں  اللہ کے دین کےلئے میں مارنے والا تھا ، جب تم نے میرے منہ پر تھوکا تو ایک ذاتی انتقام والی بات بن گئی۔ اس لیے چھوڑ دیا ، یہ اخلاص اور یہ للہیت ان لوگوں میں پیدا کیا، جو پست اور چھوٹی اغراض کےلئے تکرار کرنے والے تھے۔پھر یہ قوم بالعموم بے صبر تھی، صبر سے خالی تھی، انہیں صابر بنایا، انہیں اللہ کی رضا کے لیے اور دین کے لیے تکلیف، مشقت کاٹنے والا اور برداشت کرنے والا بنایا۔

اس کی ایک مثال خنساء ﷞ ہیں،صحابیہ ، جوشاعرہ تھیں ،جو زمانہ جاہلیت میں اتنی بے تاب، اتنی بے صبر کہ بھائی فوت ہوا تو اس کی موت میں آنسو اور رونا ان کا تھمتا نہیں تھا۔ بھائی سے محبت میں اشعار کہے، اپنے رونے کو جسٹیفائی کیا۔

” أَعْينِي جُودًا وَلَا تَبْخَلَا . ” (سيرة ابن اسحاق: 1/67)

سخاوت والے بھائی کے بارے میں میری آنکھو! بہتے جانا ہے ، میرے بھائی کی یاد میں۔یہ کیفیت تھی اسلام سے پہلے، لیکن اسلام لانے کے بعد پھر کیا ہوا۔ پھر صبر کیسا آیا؟ ہمت کیسے آئی دل میں؟ سراج منیر کی تعلیم و تربیت سے کہ جنگ میں اپنے چار شیر جوان بیٹوں کو اتارا اور انہیں نصیحت کی،انہیں کہا کہ بیٹو:

یاد رکھنا ۔ اس فانی دنیا سے آخرت کا باقی رہنے والا، ہمیشہ رہنے والا گھر بہت اچھا ہے۔ وہ مل جائے تو اس کی کوشش کریں۔ وہ کیسے ملے گا؟ شہادت سے ملے گا اور واقعی چاروں کے چاروں شہید ہو گئے، لیکن ایک ایسی خاتون جس نے بھائی کی میت پہ جس طرح آنسو بہائے ،بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی سالوں تک بہاتی رہی،اُس طرح آنسو بہانے کی بجائے کیا کہا؟ شکر ہے اللہ کا کہ اس نے مجھے چار شہیدوں کی ماں بنایا ہے۔

یہ فرق ہے کفر اور اسلام کے دور کااور یہ ایک عجیب بات ہے ،عجیب واقعہ ہے۔ جس طرح وہ بھائی کی میت پہ آنسو بہاتی تھی، بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی سالوں تک بہاتی رہی، اس طرح آنسو بہانے کے بجائے اب کہا: شکر ہے اللہ کا کہ اس نے چار بیٹوں کی، چار شہیدوں کی ماں مجھے بنایا ہے۔یہ فرق کفر اور اسلام کا، جاہلیت کے دور اور اسلام کے دور کا ہے۔

عمر وبن عاص کے بھائی ہشام بن عاص ﷠،یہ رومیوں کے ساتھ ایک جنگ میں شہید ہوئےاور ان کی لاش ایک تنگ درے میں پڑی تھی۔درہ پہاڑوں کے درمیان گھاٹی کو کہتے ہیں۔مسئلہ یہ تھا کہ رومیوں کا تعاقب کرنا تھا،بھا گے ہوئے رومیوں کے پیچھے جانا تھا ، لیکن اس کےلئے مسلمان سپاہیوں کو اس لاش کے اوپر سے گزرنا پڑنا تھا۔سب ہچکچاتے تھے، اپنے شہید بھائی کی لاش کو روندتے ہوئے کیسے گزریں اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔تنگ راستے پہ لاش پڑی تھی۔اس کے اوپر سے چلتے ہوئے جانا تھا۔سب وہاں رک گئے،ان کو ہمت کس نے دلائی ۔سگے بھائی نے ،عمرو بن عاص ﷜نے ۔انہوں نے کہا:

” أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ قَدِ اسْتَشْهَدَهُ وَرَفَعَ رُوحَهُ، وَإِنَّمَا هِيَ جُثَّةٌ، فَأَوْطِئُوهُ الْخَيْلَ، ثُمَّ أَوْطَأَهُ هُوَ، ثُمَّ تَبِعَهُ النَّاسُ حَتَّى قَطَّعُوهُ۔ ” (الاستیعاب: 4/154)

لوگو! اللہ نے اس کی روح اٹھالی ہے،یہ جسم ہے،بے جان جسم ہے،جہاد کےلئے اسے روندنا پڑتاہے، میری طرف سے اجازت ہے۔یہ ہے صبر کی انتہا،جو آپ نے ان میں پیدا کی۔

پھر اگلی بات اخلاقی عیوب بھی اس قوم میں بے شمار تھے،حالی نے کہا کہ

جُوا ان کی دن رات کی دل لگی تھی

شراب ان کی گھٹی میں گویا پڑی تھی

تعیش تھا، غفلت تھی، دیوانگی تھی

غرض ہر طرح ان کی حالت بُری تھی

اخلاقی طور پر۔کیا حال تھا؟ بدکاری کرتے تھے۔ اس پہ فخریہ اشعار لکھتے تھے۔ عورت کے نام کے ساتھ اسے نشر کرتے تھے۔ فلاں سے میں نے یہ کیا۔ علی الاعلان شعروں میں اس کو بیان کرتے تھےاور قوم اسے انجوائے کرتی تھی۔ انہی میں آپ نے مرثد ابن ابی مرثد جیسے پیدا کیے ۔ اس کا واقعہ میں پہلے کئی دفعہ سنا چکا ہوں۔

 مرثد ابن ابی مرثد ڈاکو تھے، نقب زن تھے اور اس لیے اسلام لانے سے گھبراتے تھےکہ اسلام میں چوری ڈاکہ منع ہے۔ مجھے اور کوئی کام نہیں آتا میں کیا کروں گا؟ کیا کھاؤں گا؟ بال بچے کو کیا کھلاؤں گا؟ آپ سے مشورہ کرتے اپنا مسئلہ آپ کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے کہا، جو کام آتا ہے وہی کرتے رہو۔ سننے والے حیران ہوئے کہ اس کو خاص اجازت دی جا رہی ہے، نقب زنی کی، ڈاکے کی، یہ کیا بات ہے؟ کیا وجہ ہے؟ آپ نے ایکسپلین کیا، کیا وجہ بتائی۔ آپ نے فرمایا۔ نقب زنی کرتے ہو نا دیواریں توڑتے ہو، چھت توڑتے ہو، لوگوں کا مال چراتے ہو۔ اب تم نے نقب زنی کرنی ہے۔ اپنے ان بھائیوں کو چھڑانے کے لیے، جو مکے میں قید ہیں، صرف اس جرم میں کہ وہ مسلمان کیوں ہوئے؟ ہم تمہارا خرچ ہم اٹھائیں گے۔ ریاست اٹھائے گی، سٹیٹ اٹھائے گی، میں اٹھاؤں گا۔ تم یہ کام کرو۔ کرنا شروع کیا، کئی لوگوں کو آزاد کیا۔ اسی مہم میں جا رہے تھے۔

 ایک پرانی یار، بدکار پرانی دوست عورت نے بلایا ،اس زمانے میں ساری خرابیوں کے باوجود یہ تھا کہ ایسی عورتوں کو شہر سے باہر نکالتے تھے، شہر کے اندر گندمت ڈالو۔ شہر کے باہر اس کا مکان تھا۔ اس نے چاند کی روشنی میں دیکھا کہ یہ تو مرثد ہے۔ پرانا ساتھی ہے۔ آواز دی آؤ۔ اس نے کہا نہیں آتا۔ نہیں آتا۔ اس نے کہا کیا ہوا؟ کس نے روکا ہے؟ خوبصورت جملہ کہا۔

” إِنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ” (زاد المسير: 1/187)

میرے اور تیرے درمیان ایک دیوار آ گئی ہے، روک اور آڑ آ گئی ہے، جس کا نام ہے اسلام، اب میں نہیں آسکتا۔ یہ انہی بدکاروں میں تھے جو بدکاری پہ فخر کرتے تھے۔ انہی میں ایسے لوگ پیدا کیے۔

ساتویں بات یہ لوگ حرام خور بھی تھے۔ ڈاکہ چوری، زیادتی وہ تو اپنی جگہ لیکن ان کی عادت تھی کہ مردار کو بھی نہیں چھوڑنا۔ انسانی خون کو بھی نہیں چھوڑنا، جانور کے خون کو بھی نہیں چھوڑنا۔ ان حالات میں (ابو امامہ باہمی، صدی بن عجلان) مسلمان ہوئے۔ تو ساتھ ہی شعور پیدا ہوا کہ اسلام کی روشنی میری قوم تک بھی پہنچے۔ ان کو مان تھا کہ میں قوم میں بڑا باعزت ہوں اور قوم میری بڑی قدر کرتی ہے۔

 اس لیے میری بات بھی سنے گی لیکن جب اسلام کی دعوت دی۔ تو جواباً انہوں نے ایذا دی، انہوں نے مانا بھی نہیں اور ایذا دی۔ ایک جگہ بھوکا پیاسا ڈال دیا ، اور دو تین دن کی بھوک کے بعد جان بوجھ کر جانور کے پیالہ لے کر آئے کہ یہ پی لو ، بھوکے ہو پیاسے ہو تو یہ پی لو۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میرے دین نے اضطرار کے وقت جب آدمی مرنے تک پہنچ جائے مجبور ہو، موت اور زندگی کا سوال پیدا ہو جائے تو میرے دین نے مردار اور حرام کھانے کی اجازت دی ہے، لیکن میں اسے پی کے تمہارے دلوں کو خوش نہیں کروں گا۔ میں نہیں پیوں گا۔

 اس لیے کہ تم میری مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔ وہ چلے گئے ناکام ہو کے چلے گئے۔ یہ سو گئے تو خواب میں ان کو کسی نے ایک مشروب پلایا، ایسا پانی پلایا کہ پھر زندگی بھر پیاس کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ یہ وہ انقلاب ہے جو سید العالمین سراج منیر ﷺ لے کر آئے اور زبردستی نہیں عفو وکرم کی تلوار سے آپ نے لوگوں کو گھائل کیا اور اپنا مطیع اور تابع فرمان بنایا۔

 وہی عمر ﷜ جو تلوار لے کر نکلے تھے کہ نعوذ باللہ محمد کو ختم کرتا ہوں ، شہید کرتا ہوں ، تاکہ یہ کفر و اسلام کے اختلاف کا سلسلہ ہی ختم ہو جائے۔ ایک دن ان پر وہ بھی آیا تھا پھر نبی کریم ﷺ کی وفات کا دن آیا، دنیا سے جانے کا دن، جب انہی عمر نے پھر تلوار نکالی اور کہتے یہ تھے کہ

 جس کی زبان سے میں نے سنا کہ محمد فوت ہوئے، میں اس کو فوت کر دوں گا میں یہ لفظ سننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اتنا انقلاب کہ نفرت کرنے والوں میں اتنی محبت پیدا کرنا، اپنے اخلاق سے، اپنے کردار سے، اپنے لطف وکرم سے، اپنی مہربانی سے، اس کی کہیں مثال نہیں ہے ۔

عمرو بن سہیل یہ وہ بندہ تھا، جو مذاکرات کار تھا ، گفت و شنید کرتا تھا، صلح حدیبیہ کے موقع پہ قریش کا نمائندہ تھا، جس وقت معاہدہ لکھا جا رہا تھا تو دستور کے مطابق دونوں فریقوں کا نام لکھا گیا۔

یہ معاہدہ محمد رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان ہے۔ اس نے کہا، مجھے ان لفظوں پہ اعتراض ہے۔ یہ رسول اللہ کا لفظ ہم نہیں مانتے۔ مانتے ہوتے تو ہمارے درمیان جنگیں کیوں ہوتیں؟ آج کی صلح کی نوبت کیوں آتی؟ میں آپ کو رسول مانتا ہی نہیں، یہ الفاظ میں نہیں لکھنے دوں گا۔ حضرت علی﷜ دوسری طرف سے لکھنے والے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

علی مٹا دو! ان لفظوں کو۔ میں رسول ہوں۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے۔ میں تو رسول ہوں۔ کاٹ دو۔ ہم صلح کرنا چاہتے ہیں۔ کاٹ دو ان الفاظ کو۔ علی(﷜)جو انتہائی فرمانبردار تھے، انہوں نے کہا، اللہ کے رسول! آپ کا ہر حکم سر آنکھوں یہ ، لیکن لفظ میں اپنے ہاتھوں سے نہیں کاٹ سکتا۔ آپﷺ نے فرمایا:

اچھا اتنی نشاندہی کر دو کہ یہ لفظ کہاں ہے؟ میں اپنے ہاتھ سے مٹا دیتا ہوں۔ صلح جو کرنی ہوئی۔ تو یہ عمرو بن سہیل جو اتنا ضدی تھا کہ رسول اللہ کے لفظ نہیں لکھنے دیتا تھا، یہی وہ تھا کہ آپ کی وفات کے دن مسلمانوں کی وہ ہمت اور تسلی دلانے کے لیے ایک نمبر کا خطیب تھا ۔ اس نے ایک شاندار خطبہ دیا، صبر کی تلقین کی، آپ کے چلے جانے کے باوجود دین پر قائم رہنے کی نصیحت کی اور اس طرح کی باتیں اس نے بڑے اچھے طریقے سے کہیں۔ یعنی یہ فرق ہے کہ ایک وہ تھا کہ محمد رسول اللہ لکھنے پہ اعتراض تھا اور آج ان کے دین کا دفاع کر رہا تھا۔ ابو سفیان جو بدر کے بعد تمام جنگیں آرگنائز کرنے والا، برپا کرنے والا، ان کی فنڈنگ کرنے والا اور ان کے لیے بندے اکٹھے کرنے والا تھا۔  اس کی حالت بھی بدلی۔ حنین کے دن کیا تھا؟

«وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ.» (صحیح مسلم :1775)

 رسول اللہ ﷺ کی سواری کی رکاب پکڑ کے غلاموں کی طرح آپ کے آگے چل رہا تھا۔ اتنی محبت اس کے دل میں بھر گئی تھی اور اس کی بیوی ہند جس نے سید الشہداء حضرت حمزہ﷜ کو شہید بھی کرایا تھا ، اس نے کہا کہ مسلمان ہونے سے پہلے آپ کا خیمہ دنیا بھر کے خیموں اور گھروں سے سب سے زیادہ مجھے برا لگتا تھا، یعنی آپ کی ذات مراد ہے اور اب مسلمان ہونے کے بعد آپ کا خیمہ زمین بھر میں، پوری دنیا میں سب سے محبوب خیمہ اور سب سے محبوب ذات اب آپ کی ذات ہے۔

وحشی جس نے ہند کے کہنے پہ یہ ساری حرکت کی تھی۔ حضرت حمزہ﷜ کو شہید کیا تھا ، اسے معافی تو آپ نے دے دی تھی رحمت اللعالمین نے، لیکن اس کی اپنی تسلی اس دن ہوئی، جب اس نے مسیلمہ کذاب جیسے جھوٹے نبی کو اسی طرح قتل کیا جس طرح اس نے حضرت حمزہ﷜ کو شہید کیا تھا۔ کہاں،حضرت حمزہ﷜ کو شہید کرنے والا اور کہاں مسیلمہ کو کیفر کردار تک پہنچانے والا، ان سب لوگوں کو تو آپ نے دینی اور دنیاوی بلندی عطا کی۔ ان گرے پڑے ڈاؤن لوگوں کو بلندیاں عطا کیں۔ ذروں کو ہمدوش ثریا بنایا۔ خدائے واحد کا نام اور اس کے دین کو آپ نے بلند کیا۔ مکمل انقلاب لائے، گویا کہ زمین و آسمان کو بدل دیا۔ یہ ہے سراج منیراور یہ ہے سراج منیر کے کارنامے۔ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

٭٭٭

امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا :

”گھٹیا آدمی کون ہے؟“ فرمایا : ”جو مہمان کے سامنے مہنگائی کا رونا روتا ہے۔“

(المجالسۃ وجواہر العلم للدينوری:300)

ابو العیناء رحمہ اللہ (283ھ) کہتے ہیں :

’’مدینہ سے ایک دیہاتی میرے ہاں مہمان ہوا۔ جب ہم کھانے کیلیے بیٹھے تو میں نے رواں سال کی مہنگائی کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس دیہاتی نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور کہا: ”مہمان کے سامنے مہنگائی کا رونا رونا خلافِ مروءت ہے۔“  پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے بسیار کوشش کی کہ کچھ کھا لے مگر اس نے انکار کر دیا اور چلتا بنا۔(نثر الدرر فی المحاضرات للآبی :6؍41)

کیونکہ اس فعل میں جانے انجانے میں مہمان کو بوجھ ہونے کا احساس دلانا ہے، جو انتہائی نامناسب بات ہے۔ اکرام الضیف ایمان کا عظیم باب ہے۔

تبصرہ کریں