زندگی ایسے گزاریں (قسط 42)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

ضرورت سے زیادہ کھاناناپسندیدہ عمل

ابنِ عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعَاءٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ» (صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، المؤمن يأكل في معى واحد: 5393-صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب المؤمن يأكل في معى واحد: 2060)

’’یقیناًمومن ایک آنت میں کھاتاہے اورکافرسات آنتوں میں کھاتاہے۔‘‘

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ، ثُمَّ أُخْرٰى فَشَرِبَ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ بِشَاةٍ فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرٰى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي وِعَاءٍ وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ.»(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب المؤمن يأكل في معى واحد، والكافر يأكل في سبعة أمعاء: 2063-سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء أن المؤمن يأكل في معى واحد، والكافر يأكل في سبعة أمعاء:1819)

’’رسول اللہﷺنے ایک مہمان کی مہمان نوازی کی اوروہ مہمان کافرتھا، رسول اللہﷺنے بکری کادودھ نکال کرلانے کاحکم فرمایا، دودھ نکال کرلایاگیاتووہ پی گیا، پھردوسری کالایاگیاتووہ بھی پی گیا، یہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کادودھ پی لیا، پھراگلی صبح اس نے اسلام قبول کرلیا، تورسول اللہﷺنے اس کے لیے بکری کادودھ لانے کاحکم فرمایا(وہ لایاگیا)تواس نے پی لیا، پھرآپﷺنے دوسری بکری کادودھ منگوایالیکن وہ سارانہیں پی سکا، تورسول اللہﷺنے فرمایا:مومن ایک آنت میں کھاتاہے اورکافرسات آنتوں میں کھاتاہے۔‘‘

امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مِعَاءٌسے مرادمعدہ ہے، اوراس کامعنیٰ یہ ہے کہ کافراس بندے جتناکھاتاہے جس کے سات معدے ہوں، جبکہ مومن ایک معدے والے بندے جتنا کھاتا ہے۔ راقم کی نظرمیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن چونکہ بسم اللہ پڑھ کرکھاتاہے تواللہ تعالیٰ ایک تواس کے کھانے میں برکت ڈال دیتاہے اوردوسرایہ کہ شیطان بھی اس کے ساتھ بیٹھ کرکھانے سے بھاگ جاتاہے، جیساکہ ایک حدیث میں بیان ہے کہ جوبسم اللہ پڑھ کرنہیں کھاتااس کے ساتھ شیطان بیٹھ جاتا ہے، جبکہ کافرکا بسم اللہ پڑھناتوکجااسلام سے ہی چنداں واسطہ نہیں ہوتا، اس لیے اس کاکھانابھی بے برکت ہوتاہے اورشیطان بھی اس کے ساتھ شریک رہتاہے، تبھی وہ سات سات آدمیوں کاکھانااکیلاہی کھاجاتاہے۔

جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ.»(صحيح مسلم: 2059

’’ایک بندے کا کھانا دو کو کفایت کر جاتا ہے، دو کا چار کو کافی ہوجاتاہے اورچارکاآٹھ کوپُوراآجاتاہے۔‘‘

یہ حدیث درحقیقت اکٹھے مل کرکھانے کی فضیلت کے بارے میں ہے کہ اکیلے کھانے میں وہ برکت نہیں ہے جواکٹھے مل کرکھانے میں ہوتی ہے۔ اکٹھے مل کر کھایا جائے تو ایک شخص کا کھانا دو کو پورا آ جاتا ہے، دوآدمیوں کے کھانے سے چارآدمی سیرہوجاتے ہیں اورچارآدمیوں کاکھاناآٹھ آدمیوں کوکفایت کرجاتاہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ

مَا شَبِعَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. (صحيح مسلم:2970)

’’رسول اللہﷺنے وفات پاجانے تک مسلسل تین دِن سیرہوکرنہیں کھایا۔‘‘

ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں کہ

أَكَلْتُ ثَرِيدَ بُرٍّ وَلَحْمٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَأَنَا أَتَجَشَّأُ، فَقَالَ: «اكْفُفْ عَنَّا أَوِ احْبِسْ عَنَّا مِنْ جُشَائِكَ، فَإِنَّ أَكْثَرَكُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُكُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.» قَالَ: فَمَا أَكَلَ أَبُو جُحَيْفَةَ مِلْءَ بَطْنِهِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا، وَكَانَ إِذَا تَعَشَّى لَمْ يَتَغَذَّ، وَإِذَا تَغَذَّى لَمْ يَتَعَشَّ. (سلسلة الأحاديث الصحيحة:343)

’’میں نے روٹی اورگوشت کاثریدبناکرکھایا، پھرمیں نبیﷺ کے پاس آیا اور میں ڈکا مار رہا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا: ہمارے سامنے (ڈکار مارنے سے) رُک جا، یا فرمایا کہ اپنے ڈکارسے ہمیں دور ہی رکھ، کیونکہ جو تم میں سے دنیا میں بہت زیادہ سیر رہتا ہے وہ روزِقیامت تم سب سے زیادہ طویل مدت تک بھوکارہے گا۔ اس کے بعدابوجحیفہؓ نے دنیاسے کُوچ کرجانے تک کبھی پیٹ بھرکرنہیں کھایااورجب صبح کاکھاناکھالیتے توشام کانہیں کھاتے تھے اورجب شام کاکھاتے توصبح کانہیں کھاتے تھے۔‘‘

مقدام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنِهِ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ لُقَيْمَاتٍ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَثُلُثٌ طَعَامٌ، وَثُلُثٌ شَرَابٌ، وَثُلُثٌ نَفَسٌ.» (سنن ترمذى: 2380-سنن ابن ماجه: 3349-إرواء الغليل للألبانى:1983)

’’آدمی اپنے پیٹ سے بُراکوئی برتن نہیں بھرتا، حالانکہ ابنِ آدم کوتوچندلقمے ہی کافی ہیں جواس کی کمر کو سیدھارکھیں، لیکن اگرزیادہ کھاناضروری ہوتوایک تہائی کھاناہو، ایک تہائی پانی اورایک تہائی سانس لینے کے لیے چھوڑدے۔‘‘

درحقیقت کھانے کامقصدصرف صحت اوزندگی بحال رکھناہوتاہے، اسی لیے فرمایاکہ اس کے لیے تو چند لقمے ہی کافی ہیں، کیونکہ انسان کی زندگی کامقصدِاصلی یہ ہے کہ وہ اپنی اس مستعارزندگی کواس کے حقیقی مالک کی عبودیت وبندگی اوراس کے دِین کی خدمت میں کھپادے اوراُخروی امتحان کی تیاری کے لیے ملنے والی اس قیمتی مہلت کوفقط ہوائے نفسانیہ کی تکمیل میں ہی نہ ضائع کردے۔ لیکن اگرزیادہ کھانے کوجی چاہے تواس کے لیے بھی یہ ضابطہ ملحوظ رکھناچاہیے کہ اپنے سارے پیٹ کوکھانے سے ہی نہیں بھرلیناچاہیے، بلکہ اس کے تین حصے کیے جائیں:ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک پانی کے لیے اورایک سانس لینے کے لیے خالی چھوڑدیاجائے۔

اُبَی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ مَطْعَمَ بَنِي آدَمَ ضُرِبَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا فِيمَا يَخْرُجُ مِنَ ابْنِ آدَمَ وَإِنْ مَلَّحَهُ وَقَزَّحَهُ فَيَعْلَمُ إِلٰى مَا يَصِيرُ.»(مسند أحمد: 5/136، سلسلة الأحاديث الصحيحة:382)

’’بلاشبہ انسان کے کھانے کی مثال دنیاکے لیے بہ ایں طوردی گئی ہے کہ وہ انسان سے خارج ہوجاتاہے، اگرچہ اس نے اسے نمکین ومصالحے داربنایاہولیکن وہ جانتاہے کہ اس کاانجام کیاہوگا۔‘‘

اکٹھے مل کرکھانے کی فضیلت

وحشی بن حرب اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ.» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ.»(سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في الاجتماع على الطعام: 3764، سنن ابن ماجه، كتاب الأطعمة، باب الاجتماع على الطعام: 3286، سلسلة الأحاديث الصحيحة:664)

’’نبیﷺکے صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!ہم کھانا کھاتے ہیں تو سیر نہیں ہوتے۔ آپﷺ نے فرمایا: شایدتم الگ الگ کھاتے ہو؟ صحابہؓ نے جواب دیا:جی ہاں، توآپﷺنے فرمایا: سب اکٹھے مل کرکھایاکرواوراللہ کانام بھی لیا کرو) یعنی بسم اللہ پڑھ کرکھایاکرو(، تمہارے کھانے میں برکت ڈال دی جائے گی۔‘‘

بغیردعوت کھانے میں شرکت

ابوشعیب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ: فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لِي قَصَّابًا وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ رِجَالٍ، ثُمَّ دَعَوْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ، فَجَاءَ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ الْبَابَ قَالَ: «إِنَّ هٰذَا قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ.» فَأَذِنَ لَهُ

(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب الرجل يتكلف الطعام لإخوانه: 5434-صحيح مسلم، كتاب الأشربة: 2036)

’’میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہواتومیں نے آپﷺ کے چہرۂ مبارک سے ہی پہچان لیاکہ آپﷺ کوبھوک لگی ہوئی ہے۔ چنانچہ میں اپنے غلام کے پاس آیاجوقصاب تھا، میں نے اسے کہاکہ وہ پانچ آدمیوں کاکھاناتیارکردے۔ پھرمیں نے رسول اللہﷺ کو دعوت دی، (باقی چارلوگوں کے ساتھ) پانچویں آپﷺتشریف لائے اوران کے پیچھے ایک اور آدمی آگیا، جب رسول اللہﷺ(ہمارے گھر کے)دروازے کے پاس پہنچے توآپ نے فرمایا: یہ آدمی ہمارے پیچھے چلاآیاہے، سواگرتم چاہو تو اسے اجازت دے دو، وگرنہ یہ واپس چلاجائے گا۔ چنانچہ) صاحبِ خانہ نے(اسے بھی اجازت دے دی۔‘‘

اس حدیث سے یہ بات احاطۂ علم میں آتی ہے کہ جولوگ دعوت پرمدعوہوں صرف وہی کھانے میں شرکت کاحق رکھتے ہیں، اوراگرکوئی بغیردعوت کے آجائے تواس کے لیے اجازت لیناضروری ہے، اگرصاحبِ خانہ اجازت دے گاتووہ بھی شریک ہوجائے گااوراگرنہیں دے گاتواسے شرکت کاحق حاصل نہیں ہے بلکہ اسے واپس جاناہوگا۔

کھاناکھلانے والے کے لیے دعا

عبداللہ بن بُسربیان کرتے ہیں کہ:

إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ مَرَّ بِأَبِيهِ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ، فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا، فَقَالَ: انْزِلْ عَلَيَّ، فَنَزَلَ عَلَيْنَا، فَأَتَى بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ يَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى أَوْ عَلَيْهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ يَرْمِي بِهِ، قَالَ: وَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ سَوِيقٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَاهُ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَسِيرَ أَوْ يَرْتَحِلَ، فَقَالَ: ادْعُ لَنَا، فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ.»(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب وضع النوى خارج التمر واستحباب دعاء الضيف لأهل الطعام: 2042)

’’رسول اللہﷺمیرے والدکے پاس سے گزرے اور آپﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، تو میرے والد آپﷺ کے پاس آئے اور (خچرکی) لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے گھر تشریف لائیے، تو آپﷺ تشریف لے آئے۔ میرے والد کھجور اور ستُّو لائے، آپﷺ انہیں کھانے لگے اور گٹھلیاں انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کی پُشت پر یا ان دونوں پررکھتے گئے، پھرانہیں پھینک دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھرآپﷺکی خدمت میں کھاناپیش کیاگیا، آپﷺ کھانے لگے، پھردودھ یاستُّوکاپیالہ لایاگیا، آپﷺ نے نوش فرمایااوراپنے داہنی جانب والے کو دیا، پھرجب آپﷺ جانے لگے تو(میرے والد) نے کہا: ہمارے لیے دعا فرما دیجیے، تو آپﷺ نے یہ دعافرمائی: اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ’’اے اللہ! جوتونے انہیں عطافرمایاہے اس میں برکت ڈال دے، انہیں بخش دے اوران پررحم فرما۔‘‘

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَزُورُ الْأَنْصَارَ فَإِذَا جَاءَ دُورَ الْأَنْصَارِ أَتَاهُ صِبْيَانُ الْأَنْصَارِ فَيَدُورُونَ حَوْلَهُ فَيَدْعُو لَهُمْ وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، فَأَتَى النَّبِيُّ ﷺ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ»، فَسَمِعَ سَعْدٌ فَرَدَّ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَلَمْ يَسْمَعِ النَّبِيُّ ﷺ رَدَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ»، فَرَدَّ سَعْدٌ وَلَمْ يَسْمَعِ النَّبِيُّ ﷺ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَزِيدُ عَنْ ثَلَاثِ تَسْلِيمَاتٍ، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا رَجَعَ، قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ، وَجَاءَ سَعْدٌ مُبَادِرًا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهَا وَرَدَدْتُهَا عَلَيْكَ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ تُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ وَالرَّحْمَةِ، ادْخُلْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! قَالَ: فَدَخَلَ فَتَحَدَّثْنَا، فَقَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ طَعَامًا، فَأَصَابَ مِنْهُ النَّبِيُّ ﷺ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ.»(صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب من ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله: 5177، صحيح مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب بنت جحش: 1432)

’’رسول اللہﷺانصارسے ملنے جایاکرتے تھے، جب آپﷺ انصارکے گھروں کے پاس پہنچتے تو انصاری بچے آپ کے پاس آجاتے اور آپﷺ ے ارد گرد چکر لگانے لگتے۔ آپﷺان کے لیے دعا فرماتے، ان کے سرپرہاتھ پھیرتے اورانہیں سلام کہتے۔ (ایک روز)سعدبن عبادہ کے ہاں تشریف لائے اورانہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ کہا، سعدؓ نے سلام سنا تو رسول اللہﷺ کو سلام کا جواب دیا لیکن آپﷺکواس کاجواب نہ سنا، آپﷺ نے پھر اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ کہا، سعدؓ نے سُن کر جواب دیا لیکن نبیﷺ کو پھر نہ سنا، آپﷺ نے تین مرتبہ سلام کہا، اور نبیﷺ تین مرتبہ سے زیادہ سلام نہیں کہاکرتے تھے، سو اگر اجازت مل جاتی (تو اندرتشریف لے جاتے) وگرنہ واپس چلے آتے۔ چنانچہ نبیﷺ واپس آگئے اورسعدرضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا:اے پیغمبرِخدا!اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کوحق دے کرمبعوث فرمایاہے، آپؐ نے جوبھی سلام کہاہے میں نے وہ سنابھی ہے اوراس کاجواب بھی دیاہے، (لیکن آہستہ جواب دینے کی وجہ یہ ہے کہ)میں چاہتاتھاکہ آپؐ مجھے زیادہ سے زیادہ سلامتی اوررحمت کی دعادیں، اے اللہ کے رسول! تشریف لائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ تشریف لے گئے، ہم باتیں کرنے لگ گئے توسعدؓنے آپﷺ کی خدمت میں کھاناپیش کیا، آپﷺ نے اس سے کچھ کھالیا، پھرجب آپﷺنے واپس جانے کاارادہ کیا تویہ دعافرمائی:

أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ

’’تمہاراکھانانیک لوگ کھائیں، تمہارے پاس روزے دارافطاری کریں اورفرشتے تمہیں دعائیں دیں۔‘‘

٭٭٭

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جس طرح صدقہ مال کی زکاۃ ہے، اسی طرح بیماری بدن کی زکاۃ ہے۔ پس جس جسم کو کوئی تکلیف نہ ہو، وہ ایسے ہی ہے جیسے وہ مال جس کی زکاۃ ادا نہ کی جائے۔‘‘

(آداب الحسن البصری: 53)

تبصرہ کریں