زندگی ایسے گزاریں (قسط 39)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

تاثیرکومعتدل کرنے کے لیے گرم اورٹھنڈی چیزملاکرکھانا

عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ.

)صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب الرطب بالقثاء: 5440-صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب أكل القثاء بالرطب: 2043(

’’میں نے رسول اللہﷺکوتازہ کھجورکے ساتھ ککڑی کھاتے دیکھا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْبِطِّيخِ وَالرُّطَبِ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ، فَيَقُولُ: يَكْسِرُ حَرُّ هٰذَا بَرْدَ هٰذَا، وَبَرْدُ هٰذَا حَرَّ هٰذَا

)سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في الجمع بين لونين في الأكل: 3836-سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في أكل البطيخ بالرطب: 1843-سلسلة الأحاديث الصحيحة: 57(

’’نبیﷺتربوزاورکھجوردونوں اکٹھے کھایاکرتے تھے اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپﷺ فرماتے:اس کی گرمی اس کی ٹھنڈک کو توڑتی ہے اور اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی کو توڑتی ہے۔‘‘

چونکہ کھجورکی تاثیرگرم اورتربوزکی ٹھنڈی ہوتی ہے اور آپﷺ دونوں کو ایک ساتھ اس لیے ملا کر کھاتے تھے تاکہ کھجور کی گرم تاثیر تربوز کی ٹھنڈی تاثیر کا توڑ کر سکے اور تربوز کی ٹھنڈی تاثیر کھجور کی گرم تاثیر کا توڑ کر سکے۔ ٹھنڈی اور گرم چیز کو ملا کر کھانا بہت سے طبی فوائدکاحامل ہے، کیونکہ طبعِ انسانی دو ہی طرح سے کسی عارضے سے متاثرہوتی ہے، ایک یہ کہ کوئی گرم شے اس پر اثر انداز ہو جائے اور دوسری یہ کہ کوئی ٹھنڈی چیز اس پر اثر کر جائے، اور جب ٹھنڈی اور گرم دونوں چیزوں کو ملا کر کھایا جائے تو کوئی بھی اثر انداز نہیں ہو پاتی کیونکہ ایک چیز دوسری کی تاثیر کو ختم کر دیتی ہے۔

بُسرکے دونوں بیٹے بیان کرتے ہیں کہ

دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا وَتَمْرًا، فَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ.

)سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في الجمع بين لونين في الأكل: 3837-سنن ابن ماجه، كتاب الأطعمة، باب التمر بالزبد: 3334(

’’رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپﷺ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کی، کیونکہ آپﷺ مکھن اور کھجور پسند فرمایا کرتے تھے۔‘‘

کھڑے ہوکرکھاناپیناکیساہے؟

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، قَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْنَا: فَالْأَكْلُ؟ قَالَ ((ذَاكَ أَشَرُّ وَأَخْبَثُ)).

)صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب كراهية الشرب قائماً:2025(

’’نبیﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے سختی سے منع فرمایا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کھڑے ہو کر کھانا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: یہ تو سب سے بُرا اور انتہائی قابلِ نفرت ہے۔‘‘

امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت ابوسعیدخدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے اور لگتا ہے کہ کھڑے ہو کر پینے کی یہ ممانعت برسبیل تنزیہہ ہے (تنزیہہ کا مطلب ہے کسی چیز سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے اسے بُرا قرار دینا) اور بیٹھ کر پینے کو اختیار کرنے والی بات بہ طورِ ادب ہے، اور دوسری وجہ اس کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کھڑے ہو کر پینے میں بیماری میں مبتلا ہونے کا بھی خدشہ ہے جیساکہ طبی ماہرین کاخیال ہے۔

ابنِ عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ

مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ.

)صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب في الشرب من زمزم قائماً:2027(

’’نبی کریم ﷺ کا (میرے پاس سے)گزر ہوا تو آپﷺ نے پانی طلب فرمایا، میں آپﷺ کے پاس آبِ زم زم کا ایک ڈول لے کر آیا تو آپﷺ نے کھڑے کھڑے ہی پی لیا۔‘‘

سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ

أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً وَاحِدَةً فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ.

)صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب الشرب قائماً:5615-5616(

’’آپؓ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں کی ضرورتیں سننے اور پوری کرنے کے سلسلے میں کوفہ (کی مسجد) کے صحن میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ نمازِعصرکاوقت ہوگیا، پھر آپؓ کے پاس پانی کا ایک مگ لایا گیا تو آپؓ نے اس سے ایک چُلُّو بھرا اور اسے اپنے چہرے، دونوں ہاتھوں، اپنے سر اور دونوں پاؤں پر پھیر لیا، پھر آپؓ کھڑے ہوئے اور جو پانی بچ گیا تھا وہ پی لیا، حالانکہ آپؓ کھڑے تھے۔ پھر آپؓ نے فرمایاکہ یقیناً لوگ کھڑے ہو کر پینے کو ناپسند کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہﷺ نے بھی اسی طرح کیاتھاجس طرح میں نے کیا۔‘‘

ٹیک لگاکرکھانے کی ممانعت

ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((لَا آكُلُ مُتَّكِئًا)).

)صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب الأكل متكئاً: 5398-سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في الأكل متكئاً: 3769(

’’میں ٹیک لگاکرنہیں کھاتا۔‘‘

ٹیک لگا کر کھانا متکبرین کا انداز ہے کیونکہ اس سے نفس میں کِبر پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا۔

عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ

مَا رُئِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ

)سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في الأكل متكئاً: 3770-سنن ابن ماجه، المقدمة، باب من كره أن يوطأ عقباه: 244- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 1239(

’’رسول اللہﷺ کو کبھی ٹیک لگا کر کھاتے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی دو آدمی آپﷺ کی ایڑھیاں روندتے تھے۔‘‘

ایڑھیاں روندنے سے مرادیہ ہے کہ آپﷺ لوگوں سے ممتازہوکرکبھی آگے آگے نہیں چلتے تھے کہ لوگ آپﷺ کے پیچھے پیچھے چلیں بلکہ آپﷺ ہمیشہ اپنے اصحاب کی معیت میں ہی چلتے تھے۔

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ تَمْرًا مُقْعِيًا مِنَ الْجُوعِ

)صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب تواضع الآكل، وصفة قعوده: 2044-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في الأكل متكئاً:3771(

’’نبیﷺ کو کھجوریں تحفے میں دی گئیں، میں نے رسول اللہﷺ کو بھوک کی وجہ سے اقعاء کی حالت میں بیٹھ کرکھجوریں کھاتے دیکھا۔‘‘

دونوں ٹانگوں کی رانوں سے پنڈلیاں ملا کر کھڑی کرنا اور کُولہوں پر بیٹھنا ’’اقعاء‘‘ کہلاتا ہے۔ تو گویا کسی عذر کی بناء پر ایسا بیٹھنا جائز ہے، جیساکہ نبی کریمﷺ بھی بھوک کی وجہ سے کمزوری ہو جانے کی بناء پر اس حالت میں بیٹھے تھے۔

برتن میں پھونک مارنے یاسانس لینے کی ممانعت

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

((إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّنَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ)).

)صحيح بخارى، كتاب الوضوء، باب لا يمسك ذكره بيمينه إذا بال: 154-صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب النهي عن الاستنجاء باليمين:267(

’’جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تووہ اپنی شرمگاہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے ہرگز نہ چھُوئے، نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے اور نہ ہی برتن میں سانس لے۔‘‘

ابومثنّٰی جہنی بیان کرتے ہیں کہ

كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: نَعَمْ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ)). قَالَ: فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فِيهِ قَالَ: ((فَأَهْرِقْهَا)).

)سنن ترمذى، أبواب الأشربة، باب ما جاء في كراهية النفخ في الشراب:1887(

’’میں مروان بن حکم کے پاس تھاکہ ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، تومروان نے ان سے کہا:

کیاآپ نے رسول اللہﷺ سے سناہے کہ آپﷺ نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع فرمایاہے؟ توابوسعیدؓنے جواب دیا:

جی ہاں، پھرایک آدمی نے آپﷺسے کہا:اے اللہ کے رسول!میں ایک سانس سے سیراب نہیں ہوتا، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اپنے منہ سے پیالے کو ہٹا لے، پھرسانس لے۔ اس نے کہا:میں اس میں گندگی دیکھوں تو؟ آپﷺ نے فرمایا: اسے انڈیل دے۔‘‘

تین سانسوں میں مشروب پینے کے فوائد

ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

)صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب الشرب بنفسين أو ثلاثة:5631-صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب كراهة التنفس في نفس الإناء، واستحباب التنفس ثلاثا خارج الإناء: 2028(

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ مشروب پینے کے دوران دو یا تین بار سانس لیتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ رسول اللہﷺ پیتے ہوئے تین بارسانس لیاکرتے تھے۔‘‘

ایک حدیث میں نبی کریمﷺنے تین سانسوں میں پانی یاکوئی بھی مشروب پینے کے فوائدبیان کیے ہیں، جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: ((هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ)).

)صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب كراهة التنفس في نفس الإناء، واستحباب التنفس ثلاثا خارج الإناء:2028(

’’نبیﷺجب کوئی مشروب پیتے توتین بارسانس لیتے اورفرماتے:اس طرح پیناپیاس بجھانے، ہاضمے اورتندرستی کے لیے زیادہ بہترہے۔‘‘

٭٭٭

فریدہ اقبال اعظمی رحمہا اللہ

مضمون: ڈاکٹر مفتی محمد کلیم اللہ عمری مدنی

نام ونسب:

فریدہ اقبال اعظمی بنت شیخ الحدیث مولانامحمد نعمان ناصح اعظمی ( سابق استاذ جامعہ دار السلام عمر آباد ) بن حاجی عبد الرحمن شہید بن مولوی حکیم جمال الدین مئوی بن شیخ بیوا حکیم بن حاجی ڈومن۔

والدہ کا نام :

سلمیٰ بی بنت والے محمد اسماعیل ہے پر نام بٹ ، چنئی۔

پیدائش و مقام :

رمضان المبارک کی 27 ویں شب 1947 ء کو عمر آباد چنئی میں پیدا ہوئیں۔

تعلیم و تربیت:

اپنی والدہ اور بڑے بھائی مولانا حبیب الرحمن زاہد اعظمی عمری اور حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی سے ناظرہ قرآن اور اردو وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ نسواں عمر آباد میں داخل ہوئیں ، وہاں سے پرائمری درجات 5 / سال مکمل کرنے کے بعد حافظ قاری عبید اللہ سے عربی فارسی، آمد نامہ، کتاب الصرف ، ابواب الصرف مکمل ترجمہ قرآن اور سورہ نور ، سورہ احزاب، سورہ حجرات سورہ ملک اور سورہ قلم کی تفسیر پڑھی۔

اس کے علاوہ کچھ انگریزی اور تمل زبان بھی پڑھی اور مئو میں جب آپ آتیں تو ہندی بھی پڑھتی تھیں ۔

خدمات: بچوں اور بچیوں کو اپنے گھر پر قرآن مجید کی تعلیم دیتی تھیں۔

زیارت حرمین شریفین :

2007 ء میں حج بیت اور 2014ء میں عمرہ کی سعادت حاصل کیں۔

وفات:

21/ اگست 2025 ء بروز جمعرات مالک حقیقی سے جاملیں، بعد نماز عشاء شیخ انیس الرحمن اعظمی عمری مدنی نے نماز جنازہ پڑھائی اور آمبور میں تدفین ہوئی۔

شادی :

آپ کی شادی آمبور، چنئی میں جناب عبد اللطیف صاحب سے ہوئی تھی جو 1997 ء میں انتقال کر گئے ۔

اولاد :

1۔ سعیدہ سلمی ( تعلیم انٹر تک ) زوجہ اسد اللہ ( بی ایس سی ) آمبور۔

2۔ عمیر اسلم ( بی ایس بی کیمسٹری )

3۔ سہیل اکرم (لید ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ )

4۔ عزیر ا جمل ( بی کام)

5۔ صبیحہ انجم ( تعلیم انٹرنیک ) زوجہ مختار احسن ( بی ایس بی ) آمبور۔

آخری مرتبہ اپنے آبائی وطن مئوناتھ بھنجن یوپی میں 1998 ء میں آئی تھیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں