زندگی ایسے گزاریں (قسط 41)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

منہ لگاكرپانی پينے كاجواز

سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَائِطَهُ، وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَقَالَ:

«إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا.»

قَالَ: وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَاءٌ بَاتَ أَظُنُّهُ فِي شَنَّةٍ فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ، قَالَ:

فَانْطَلَقَ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ قَالَ: فَشَرِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ شَرِبَ الَّذِي دَخَلَ مَعَهُ

(صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب شوب اللبن بالماء: 5613، مسند أحمد:3/343)

’’رسول اللہﷺ ایک انصاری کے پاس اس کے باغ میں گئے، آپﷺ کے ساتھ آپﷺ کے ایک صحابی بھی تھے، آپﷺ نے فرمایا:اگرتمہارے پاس کسی مشکیزے میں رات کاپانی پڑاہواہے (توہمیں دو) وگرنہ ہم منہ لگاکرپی لیں گے۔ وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگا رہا تھا، اس نے کہا:

اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ مشکیزے میں رات کاپانی پڑا ہوا ہے آپﷺ چھپّر میں تشریف لے چلیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ وہاں چلے گئے اور اس آدمی نے ایک پیالے میں پانی لیا، پھراس میں اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا دودھ نکالا، راوی کابیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے دودھ پیا اور پھر اس صحابی نے جو آپﷺ کے ساتھ تھے۔‘‘

میٹھاپانی طلب کرنے کابیان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَقِي لَهُ الْمَاءَ الْعَذْبَ مِنَ السُّقْيَا.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأشربة، باب في إيكاء الآنية:3735)

’’رسول اللہﷺ سُقیا نامی چشمے سے اپنے لیے میٹھا پانی منگوایاکرتے تھے۔‘‘

مشکیزے کومنہ لگاکرپانی پینے کی ممانعت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ

أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«لَا يَشْرَبُ أَحَدُكُمْ مِنْ فَمِ السِّقَى.»

(صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب الشرب من فم السقاء: 5628، سنن ابن ماجه، كتاب الأشربة، باب الشرب من في السقاء: 3420)

’’میں رسول اللہﷺ سے(سُنی ہوئی)کچھ باتیں تمہیں بتاتاہوں، (ان میں سے ایک یہ ہے کہ)تم میں سے کوئی شخص مشکیزے کے منہ سے(اپنامنہ لگا کر) نہ پیے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں:

«أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ مِنْ فِي السِّقَى.» قَالَ أَيُّوبُ: نُبِّئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَى فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ.

(صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب الشرب من فم السقاء: 5628، سنن ابن ماجه، كتاب الأشربة، باب الشرب من في السقاء: 3420)

’’آپﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی مشکیزے کو منہ لگا کر پیے۔ سیدنا ایوبؒ کہتے ہیں کہ کسی نے مجھے بتلایا کہ ایک آدمی نے مشکیزے کو منہ لکا کر پانی پیا تو اس سے سانپ نکل آیا۔‘‘

سیدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا

(صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب تغطية الإناء: 5562، صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما: 2023)

’’نبیﷺ نے مشکیزوں کا منہ کھول کر ان کے مونہوں سے پینے سے منع فرمایاہے۔‘‘

لہٰذا پانی کوپہلے کسی برتن میں نکال لیناچاہیے تاکہ تسلی ہو سکے کہ اس میں کوئی موذی چیز تو نہیں ہے اور پھر پینا چاہیے۔

مشروب میں مکھی گرجائے توکیسے نکالناچاہیے؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا سَقَطَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً.»

وَزَادَ فِیْ رِوَايَةٍ: «وَإِنَّهُ يَنَقِّي بِالْجَنَاحِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الطب، باب إذا وقع الذباب في الإناء: 5782، سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في الذباب يقع في الطعام: 3844، سنن نسائى، كتاب الفرع والعتيرة، باب الذباب يقع فى الإناء: 4262، سنن ابن ماجه، كتاب الطب، باب يقع الذباب في الإناء: 3505)

’’جب تم میں سے کسی کے مشروب میں مکھی گرجائے تو اسے پہلے ساری کو ڈبونا چاہیے اور پھر اسے باہر نکالنا چاہیے، کیونکہ اس کے ایک پَرمیں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے پَر میں شفاہوتی ہے۔

اورایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ وہ اپنے بیماری والے پَرسے اپنا بچاؤ کرتی ہے۔‘‘

کھانے پلانے میں داہنی جانب سے ابتداء

سيدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ، وَأُمَّهَاتِي كُنَّ يُحِثُّنِّي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ، وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَرُ نَاحِيَتَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: نَاوِلْ أَبَا بَكْرٍ، فَنَاوَلَهُ الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: «الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ.»

(صحيح بخارى، كتاب المساقاة، باب في الشرب، ومن رأى صدقة الماء وهبته ووصيته جائزة: 2352، صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب إدارة الماء واللبن ونحوهما عن يمين المبتدئ: 2029)

’’نبیﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا اور جب آپﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت میری عمر بیس سال تھی اور میری مائیں مجھے آپﷺ کی خدمت کی ترغیب دلاتی رہتی تھیں، ایک بار آپﷺ ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے دودھ دینے والی ایک بکری کا دودھ نکالا اور اس میں گھر کے کنویں کا پانی ملا کر آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو (پہلے)رسول اللہﷺ نے پیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپﷺ کے بائیں جانب بیٹھے تھے، ایک بدوی صحابی آپﷺ کے دائیں جانب تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک سائیڈ پہ بیٹھے ہوئے تھے، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیجیے، لیکن آپﷺ نے بدوی صحابی کودے دیا اور فرمایا:پہلے دائیں جانب والا، پھر اس کے دائیں والا۔‘‘

سیدنا سہل بن سعدالساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: «أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟.»

فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

(صحيح بخارى، كتاب المساقاة، باب في الشرب، ومن رأى صدقة الماء وهبته ووصيته جائزة: 2351، صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب إدارة الماء واللبن ونحوهما عن يمين المبتدئ: 2030)

’’رسول اللہﷺ کے پاس کوئی مشروب لایا گیا تو آپﷺ نے اس سے کچھ پی لیا، آپﷺ کے دائیں جانب ایک غلام بیٹھاتھا جبکہ بائیں جانب بڑے بڑے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، آپﷺ نے غلام سے فرمایا: کیاتم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ (پہلے)میں ان لوگوں کو پِلا دوں؟ تو غلام نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول!

اللہ کی قسم میں آپﷺ سے بچے ہوئے اپنے حصے پرکسی کوترجیح نہیں دوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے اس کے ہاتھ میں دودھ تھمادیا۔‘‘

ساقی سب سے آخرمیں پِیے۔

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْقِيهِمْ، فَقِيلَ: أَلَا تَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأشربة، باب في الساقي متى يشرب؟: 3725، مسند أحمد: 4/354، صحيح الجامع للألبانى:2088)

’’ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں کو پیاس لگی تو رسول اللہﷺ انہیں پانی پلانے لگے،

(آپﷺ سے) کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپﷺ نہیں پئیں گے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: لوگوں کو پلانے والاان کے آخرمیں پیتاہے۔‘‘

کھاناکھانے کے بعدکی دعا

سيدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رُفِعَ الْعَشَاءُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ قَالَ:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا.»

(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب ما يقول إذا فرغ من طعامه: 5458، سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما يقول الرجل إذا طعم: 3849)

’’جب نبیﷺ کے سامنے سے شام کا کھانا اُٹھا لیا جاتا تو آپﷺ یہ دعا پڑھتے:

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا ’’تمام تر تعریفات اللہ تعالیٰ کے واسطے ہیں بہت زیادہ تعریف، اے ہمارے پروردگار! بہت پاکیزہ اور بابرکت کھاناتھا، نہ تو اس میں کفایت سے کام لیاگیا، نہ اسے چھوڑ دیا گیا اور نہ ہی اس کے بغیر رہا جا سکتا ہے۔‘‘

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلٰى فِرَاشِهِ قَالَ:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ، أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ.»

(صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب ما يقول عند النوم وأخذ المضجع: 2715، سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما يقال عند النوم:5053، سنن ترمذى، أبواب الدعوات، باب ما جاء في الدعاء إذا أوى إلى فراشه:3396)

’’رسول اللہﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے:

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ، أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ

’’تمام تر تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جس نے ہمیں کھلایا، ہمیں پلایا، ہمیں (ہر حاجت وتکلیف سے) کافی ہوا اور ہمیں (رہنے کے لیے)جگہ دی، سو کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں نہ تو کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ ہی جگہ دینے والا۔‘‘

٭٭٭

ڈڈلی کے اکرام الحق جنجوعہ چل بسے!

ڈڈلی کے متواضع شخصیت جناب اکرام الحق جنجوعہ 69 سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔

مرحوم عرصہ سے بیمار تھے، اللہ کریم ان کی علالت کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنائے اور ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کے گناہوں کو معاف فرمائے اورجنت الفردوس میں انہیں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

جامع مسجد ڈڈلی میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، جس میں برطانیہ بھر سے عزیز واقارب شریک تھے۔ مسجد سے قریب قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ ڈاکٹر راجہ منیر مرحوم کے قریبی تھے اور جناب محمد عمر مرحوم کے نسبتی برادر تھے۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ ….

٭٭٭

مولانا عبد الرحمٰن کاشمیری فی ذمۃ اللہ

مولانا عبد الرحمٰن کاشمیری جن کا تعلق کوٹلی آزاد کشمیر سے تھا۔ 65 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ مرحوم ایک کامیاب استاذ اور خطیب تھے اور اچھے اخلاق و کردار کے حامل تھے۔ تقریباً برطانیہ کی بہت سی مساجد میں وہ امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ واضح ہو کہ ان کے والد ماجد قاری محمد دین، اسلام گڑہ مسجد کے معروف خطیب تھے، اللہ کریم ان کے بچوں کو مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

٭٭٭

سفيان الثوری رحمه الله فرماتے ہیں :

“بلغني أن أصحابَ محمدٍ ﷺ كانوا يتعوّذون أن يُدرِكوا هذا الزمان، وكان لهم من العلم ما ليس لنا، فكيف بنا حين أدركناه على قلّةِ علمٍ وبصرٍ، وقلّةِ صبرٍ، وقلّةِ أعوانٍ على الخير، مع كدرٍ من الزمان وفسادٍ من الناس”.

’’مجھے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کے صحابہ اس (فتنے والے )زمانے سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، حالانکہ ان کے پاس وہ علم تھا جو ہمارے پاس نہیں۔ تو ہمارا کیا حال ہے جب ہم نے یہ زمانہ پایا ہے؟ علم اور بصیرت کم ہیں، صبر کم ہے، نیکی پر مددگار کم ہیں، زمانہ مکدر ہے اود لوگ بگڑے ہوئے ہیں۔‘‘

(الجرح والتعديل: 1؍87)

٭٭٭

‏ امام ابن عقيل الحنبلی رحمہ الله فرماتے ہیں :

میں نے لوگوں کے احوال کا جائزہ لیا تو بڑا ہی عجیب معاملہ پایا۔۔۔

وہ گھروں کے اجڑنے پر روتے ہیں، پیاروں کی موت پر آہیں بھرتے ہیں، معاشی تنگ دستی پر حسرتیں کرتے ہیں اور زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں!‏

حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کی عمارت گر رہی ہے، دین فرقوں میں بٹ چکا ہے، سنتیں مٹ رہی ہیں اور بدعات کا غلبہ ہے، گناہوں کی کثرت ہے!

لیکن ان میں سے اپنے دین کیلیے رونے والا کوئی نہیں ہے۔

اپنی عمر برباد کرنے پر کسی کو افسوس نہیں ہے، اپنے وقت کو ضائع کرنے پر کوئی غم نہیں ہے!!

‏اور میں اس سب کا ایک ہی سبب دیکھتا ہوں کہ دین ان کی نظروں میں ہلکا ہو گیا ہے اور دنیا ان کی فکروں کا محور بن چکی ہے ۔

( الآداب الشرعیۃ لابن مفلح :3؍240)

تبصرہ کریں