
لباس میں تواضع اختیارکرنے کی فضیلت
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَعَاهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيَّرَ مِنْ حُلَلِ الْإِيمَانِ يَلْبَسُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ.» (سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2481- مستدرك حاكم: 4/183)
’’جو استطاعت کے باوجود فقط اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر عاجزی دکھاتے ہوئے (قیمتی) لباس پہننا چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایمانی جُبّوں (چوغوں) میں سے جوچاہے پہن لے۔‘‘
ایمانی جبوں سے مراد وہ جبے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے جنت میں تیار کر رکھے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ
خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ.(صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب التواضع في اللباس والاقتصار على الغليظ منه…: 2081- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في لبس الصوف والشعر: 4032- سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في الثوب الأسود: 2813)
’’رسول اللہﷺایک صبح باہرتشریف لائے اور آپﷺ کے جسم مبارک پر بالوں سے بنی سیاہ رنگ کی چادرتھی جس پرکجاووں جیسے نقش ونگارتھے۔‘‘
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبیﷺسے بیان کرتے ہیں کہ
وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ. وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى: شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ
(صحيح بخارى، كتاب الصلاة، باب الصلاة في الجبة الشامية: 363- صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين:274)
’’آپﷺ نے اُون کا رُومی جُبّہ (چوغہ) زیب تن کیے ہوئے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تنگ آستینوں والاشامی جُبّہ تھا۔‘‘
یعنی آپﷺ دو جہانوں کے سردار ہونے کے باوجود لباس میں انتہائی تواضع اختیارفرماتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے سے) فرمایا:
يَا بُنَيَّ! لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا ﷺ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ رِيحَنَا رِيحَ الضَّأْنِ مِنْ لِبَاسِ الصُّوفِ.
(سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في لبس الصوف والشعر: 4033- سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2479- سنن ابن ماجه، كتاب اللباس، باب لبس الصوف:3562)
’’اے میرے بیٹے!کاش!توہمیں اس وقت دیکھتاجس وقت ہم نبیﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور جب آسمان بارش برساتا تو اُون کے کپڑوں کی وجہ سے تُو ہم سے (آنے والی)بُو کو بھیڑوں کی بُوسمجھتا۔‘‘
یعنی تب کسی کے پاس عمدہ لباس موجود نہ ہوتا تھا، بلکہ اُون کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ ان کے ہاں ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہ تھی، بلکہ ان کی نظر میں اہم کام نیکی اور تقویٰ کے امور میں کمال حاصل کرنا تھا۔
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: قُبِضَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ فِي هَذَيْنِ.
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب الأكسية والخمائص: 5818- صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب التواضع في اللباس والاقتصار على الغليظ منه…:2080)
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوندلگی ہوئی چادر اور موٹے کپڑے کا تہہ بند دکھایا، اور فرمایا: رسول اللہﷺ کی رُوح انہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔‘‘
سیدنا عقبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ، فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَلْبِسُهُمَا وَأَنَا أَكْسٰى أَصْحَابِي.
(سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في لبس الصوف والشعر:4032)
’’میں نے رسول اللہﷺسے پہننے کے لیے کپڑے مانگے تو آپﷺ نے مجھے معمولی ٹسرسے بنے ہوئے دو کپڑے دیے، پھر میں نے وہ پہن کر خود کو دیکھا تو میں اپنے ساتھیوں کی نسبت اچھے کپڑوں والا تھا۔‘‘
یعنی تب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ عالم تھا کہ حضرت عقبہ معمولی ٹسر سے بنے ہوئے کپڑے پہن کر بھی خود کو دیگر صحابہؓ سے اچھے کپڑوں والا سمجھ رہے تھے، تو باقی صحابہ ؓکے کپڑوں کی کیا حالت ہوگی؟ لیکن زہد وتواضع تھا کہ انہوں نے کبھی دنیوی امور زینت کو اتنی اہمیت نہیں دی۔
رسول اللہﷺکالباس
سیدناانس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ الْحِبَرَةُ (صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب البرود والحبرة والشملة: 5812 -صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب فضل لباس ثياب الحبرة: 2079)
’’رسول اللہﷺ کو جو کپڑا سب سے زیادہ پسندتھاوہ دھاری داریمنی چادرتھی۔‘‘
سیدہ اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ
لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ مِنَ الْقَمِيصِ. (سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب ما جاء في القميص:4026)
’’رسول اللہﷺ کو قمیض سے بڑھ کر کوئی کپڑا پسند نہیں تھا۔‘‘
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
خَرَجَ النَّبِيِّ ﷺ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، وَالْحُلَّةُ: إِزَارٌ وَرِدَاءٌ وَلَا يَكُونُ فِيهَا قَزٌّ.(صحيح بخارى، كتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ: 3551- صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب في صفة النبي ﷺ وأنه كان أحسن الناس وجهاً: 2337)
’’ایک مرتبہ رسول اللہﷺ سُرخ رنگ کی عمدہ پوشاک پہن کر تشریف لائے۔ چوغہ تہہ بند اور چادر پر مشتمل تھا اور اس میں ریشم کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔‘‘
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
انْطَلَقْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ ﷺ، فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ. (سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في الخضرة: 4065- سنن ترمذى: 2812)
’’میں نبیﷺکی خدمت میں حاضرہواتومیں نے آپﷺ کودوسبزچادریں پہنے دیکھا۔‘‘
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب البرود والحبرة والشملة:5809)
’’میں نبیﷺ کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور آپﷺ نے موٹے کناروں والی چادر اوڑھ رکھی تھی۔‘‘
سفیدلباس کی فضیلت
سیدناابنِ عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:
«الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»
(سنن أبوداؤد، كتاب الطب، باب في الأمر بالكحل: 3878-سنن ترمذى، أبواب الجنائز، باب ما يستحب من الأكفان: 994- صحيح الجامع للألبانى:1236)
’’سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے فوت شدگان کو کفن بھی انہی میں دیاکرو اور تمہارے سب سُرموں سے بہترین سُرمہ اِثمدہے، کیونکہ یہ نظر تیز کرتا ہے اور بال اُگاتاہے۔‘‘
سيدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«الْبَسُوا هَذِهِ الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ» (سنن ترمذى، أبواب الأدب،: 2810- سنن ابن ماجه، كتاب اللباس، باب البياض من الثياب: 3567)
’’سفیدکپڑے پہنا کرو، کیونکہ یہ بہت اچھے اور انتہائی پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے فوت شدگان کوکفن بھی انہی میں دیاکرو۔‘‘
قمیض کے بٹن کھُلے رکھنے کاجواز
سیدہ قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعْنَاهُ، وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقٌ. قَالَ: فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدِي مِنْ جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسَسْتُ الْخَاتَمَ مِثْلَ الْبَيْضَةِ أَوْ مِثْلَ الْخَاتَمِ الَّذِي فِي الطَّسْتِ، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا أَبَاهُ إِلَّا مُطْلِقَ أَزْرَارِهَا شِتَاءً وَلَا حَرًّا، وَلَا يَزُرَّانِ أَزْرَارَهَا قَطُّ أَبَدًا. (سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في حل الأزرار: 4082- سنن ابن ماجه، كتاب اللباس، باب حل الأزرار: 3578- صحيح الترغيب والترهيب: 42)
’’میں مزینہ قبیلے کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے آپﷺ سے بیعت کی، اور آپﷺ کاقمیض کھلا تھا (یعنی قمیض کے بٹن کھلے ہوئے تھے)۔ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے بیعت کی، پھر اپنا ہاتھ آپﷺ کی قمیض کے گریبان میں ڈالا تو میں نے انڈے کی مثل یا(کہا)طشت میں پڑی انگوٹھی کی مثل مہرِنبوّت کوچھوا۔ عروہ کہتے ہیں کہ پھرمیں نے معاویہ اور ان کے باپ سردی وگرمی میں بٹن کھلے رکھے ہی دیکھا اور وہ انہیں کبھی بندنہیں کرتے تھے۔‘‘
لیکن اگر تکبر کے اظہار یا شوخ پن کے طور پرقمیض کے بٹن کھلے رکھے جائیں تو پھر یہ جائز نہیں ہے۔
تہہ بندٹخنوں سے نیچے لٹکانے پروعید
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ، مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ إِذْ خَسَفَ اللّٰهُ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب من جر ثوبه من الخيلاء: 5789- صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة: 2088)
’’ایک شخص عمدہ پوشاک پہنے اوربالوں میں کنگھی کیے خودپسندی میں منہمک جارہاتھاکہ اللہ تعالٰی نے اس وجہ سے اسے زمین میں دھنسادیااوروہ قیامت کے دِن تک دھنستاہی چلاجائے گا۔‘‘
سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللّٰهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ» (صحيح مسلم، كتاب الكسوف، باب ما عرض على النبي ﷺ في صلاة الكسوف:907)
’’تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف روزِ قیامت اللہ تعالیٰ نہ تو نظرِرحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا: ٹخنوں سے نیچے تہہ بند لٹکانے والا، احسان کر کے جتلانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ذریعے بیچنے والا۔‘‘
عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ
سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا، قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَزُرَّةُ الْمُؤْمِنِ إِلٰى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ، لَا يَنْظُرُ اللّٰهُ إِلٰى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ بَطَرًا» (سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في قدر موضع الإزار: 4093- سنن ابن ماجه، كتاب اللباس: 3573 (
’’میں نے ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہﷺ کوتہہ بندکے بارے میں کچھ فرماتے سناہے؟ تو انہوں نے جواب دیا:جی ہاں، میں نے آپﷺکوفرماتے سناکہ مومن کاتہہ بند اس کی آدھی پنڈلیوں تک(اوپرہوناچاہیے)اس جگہ اور ٹخنوں کے درمیان رکھنے میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے، البتہ تہہ بند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہووہ آگ میں جلے گا، اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا جو اپنے کپڑے کوتکبّرسے گھسیٹتے ہوئے چلتاہے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ» (صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار: 5787)
’’تہہ بند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ (جہنّم کی) آگ میں جلے گا۔‘‘
سیدہ اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا۔جبکہ آپﷺ نے تہہ بندکاذکرفرمایا:
فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «تُرْخِي شِبْرًا» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا، قَالَ: «فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ» (سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في قدر الذيل: 4117)
’’اے اللہ کے رسول! عورت (اپنا تہہ بند کہاں رکھے)؟ تو آپﷺ نے فرمایا: وہ ایک بالشت (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے۔ اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: تب تو اس کے (پاؤں)بے پردہ ہو جائیں گے، تو آپﷺ نے فرمایا:توایک ہاتھ (تک لٹکالے اور) اس سے زیادہ نہ لٹکائے۔‘‘
سیدنا ابنِ عمررضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ
مَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ. (سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في قدر موضع الإزار:4095)
’’رسول اللہﷺ نے جو (حکم) تہہ بندکے بارے میں فرمایاہے وہی قمیض کے متعلق ہے۔‘‘
یعنی صرف تہہ بند کو ہی ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام نہیں ہے بلکہ اگر کوئی شخص اتنی لمبی قمیض پہنتا ہے کہ وہ بھی ٹخنوں سے نیچے تک پہنچتی ہے تو وہ بھی حرام ہے اور اس پر بھی اس وعید کا اطلاق ہوگا جو تہہ بند کو لٹکانے پر وارد ہوئی ہے۔
سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللّٰهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِﷺ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: أَيْ رَسُولَ اللّٰهِ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ: «أَنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلَاءَ»
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب من جر إزاره من غير خيلاء: 5784- صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة: 2085)
’’جس نے بہ غرضِ تکبر اپنا کپڑا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکایا روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس کی طرف (نظرِرحمت سے) نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے تہہ بند کے دونوں کناروں میں سے ایک کنارہ ڈھلک جاتا ہے، سوائے اس صورت کے کہ میں اس کا خاص طور پر خیال رکھا کروں) تو میرے بارے میں کیا حکم ہے؟ (تو رسول اللہﷺنے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجوتکبرکی وجہ سے ایساکرتے ہیں۔‘‘
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جسم فربہ تھا، اس لیے آپ کا تہہ بند نیچے لٹک جاتا تھا۔ تو اس حدیث میں بیان نبیﷺ کے حکم سے یہ بات احاطہ علم میں آتی ہے کہ اگر موٹاپے یا کسی اور عذر کی وجہ سے تہہ بند ڈھلک کر ٹخنوں سے نیچے آجاتا ہے تو یہ صورت متذکرہ بالا وعید سے مستثنیٰ ہے، بشرطیکہ ایسے شخص میں بھی تکبر کا شائبہ تک موجود نہ ہو۔
تبصرہ کریں