
غلطی وکوتاہی کی معافی
اگرکسی سے کوئی غلطی سرزدہوجائے تواس کامواخذہ کرنے کی بہ جائے اسے معاف کردیناچاہیے۔ معافی بھی کُلّی طورپردی جائے، یعنی سرزنش کی کسی ادنیٰ سی صورت کابھی اظہار نہ کیا جائے، جیساکہ نبی کریمﷺ اپنے خادم کو ’’اُف‘‘ تک نہیں کہا کرتے تھے۔
سیدناانس فرماتے ہیں کہ
لَقَدْ خَدَمْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَوَاللّٰهِ مَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ أَفْعَلُهُ: أَلَا فَعَلْتَ كَذَا؟ .
(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء، وما يكره من البخل: 6038-صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب كان رسول الله ﷺ أحسن الناس خلقاً: 2309)
’’میں نے دس سال رسولِ مکرمﷺکی خدمت کی، قسم بخدا!آپؐ نے مجھے کبھی بھی اُف تک نہیں کہا، اور نہ توکسی ایسے کام پہ کہ جومیں نے کیاہویہ کہاکہ تم نے یہ کیوں کیا؟ اورنہ ہی کسی ایسے کام پہ کہ جومیں نہ کرسکاہو یہ کہاکہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟‘‘
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ
مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِصُهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ، فَإِذَا كَانَ لِلَّهِ انْتَقَمَ لَهُ، وَلَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا أَخَذَ الَّذِي هُوَ أَيْسَرُ حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ.
(صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب مباعدته ﷺ للآثام واختياره من المباح، أسهله وانتقامه لله عند انتهاك حرماته: 7232)
’’میں نے رسول اللہﷺکوکبھی کسی خادم کواوراپنی کسی بیوی مارتے نہیں دیکھا، اورنہ ہی آپﷺ نے اپنے ہاتھ سے کسی کوماراسوائے راہِ خدامیں جہادکرتے ہوئے، اگرآپﷺ کوکوئی نقصان پہنچایا گیا تو آپﷺ نے اس کاانتقام نہیں لیا، سوائے اس صورت کے کہ اللہ تعالیٰ کاکوئی معاملہ ہو، اللہ تعالیٰ کے معاملات میں آپﷺ انتقام لیا کرتے تھے اور اگر دو کام آپﷺ کے سامنے آتے توآپﷺ ان دونوں میں سے آسان ترین کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپﷺ توگناہ سے تمام لوگوں سے زیادہ دُوررہتے تھے۔‘‘
معاملات میں نرم رویّہ
زوجۂ پیغمبرسیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللّٰهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَما لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ.»
(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الرفق: 2593)
’’اے عائشہ! یقیناً اللہ تعالیٰ نرم ہے اور نرمی کو پسند فرماتاہے، وہ نرمی پروہ کچھ عطاکردیتاہے جووہ سختی اوراس کے علاوہ کسی بھی اورچیزپرعطانہیں کرتا۔‘‘
سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ وہ ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اسے مارنے لگیں، نبیﷺ نے(یہ دیکھاتو)فرمایا:
«يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ»(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الرفق: 2594-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرفق: 4808)
’’اے عائشہ!نرمی اپناؤ، کیونکہ جس بھی چیزمیں نرمی آجاتی ہے اسے خوبصورت بنادیتی ہے اورجس چیزسے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے بدصورت بنادیتی ہے۔‘‘
سیدنا جریربن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
«مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ»
(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الرفق: 2592- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرفق: -4809)
’’جونرمی سے محروم کردیاگیا، وہ بھلائی سے محروم کردیاگیا۔‘‘
متانت وسنجیدگی اورپاکیزہ کردار
کسی بھی مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ غیرسنجیدہ، بدچلن اوربدکردارہو، کیونکہ یہ خصائلِ رذیلہ اسلام کے ماننے والے کی ناموس وعزت اور اس کے دِین کے منافی امورمیں سے ہیں۔ حقیقی مسلمان تونیک چلن اورپاکیزہ کردارکاحامل ہوتاہے، اسی طرح نہ وہ حق بات کرنے کے وقت خاموش رہتا ہے اور نہ ہی بے فائدہ اور غیرضروری باتوں اور کاموں میں اُلجھا رہتا ہے بلکہ بامقصد اور میانہ رو ہوتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:
«إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الوقار: 4776-مسند أحمد:1/296)
’’نیک چال چلن، پاکیزہ کرداراورمیانہ روی نبوّت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔‘‘
شرم وحیاء اورپاکدامنی
شرم وحياء بنده مسلم كاامتيازى وصف ہے۔ جس شخص ميں حياء نہ ہووہ حقيقى مسلمان نہیں ہوتا، كيونكہ حياء كے وجودسے ہی ايمان كاوجودہے اوراس كے فقدان سے نہ صرف ايمان جاتارہتاہے بلکہ تمام اخلاقى گراوٹيں پيداہوجاتی ہیں۔ حياء جتنا بھی ہو کم ہی ہوتا ہے، جیساکہ سیدنا ابنِ عمر روایت کرتے ہیں کہ
مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ.»
(صحيح بخارى، كتاب الإيمان، باب الحياء من الإيمان: 24- صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب شعب الإيمان:36)
’’نبیﷺایک آدمی کے پاس سے گزرے تووہ اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑدے، کیونکہ حیاء ایمان کاحصہ ہے۔‘‘
صحيح بخارى میں یہ حديث ذرا تفصيل كے ساتھ موجود ہے، اس میں ذكرہے کہ وہ آدمى اپنے جس بھائى كو سمجھا رہا تھا وه بہت شرميلاتھا، یہ اسے اتنا شرمانے كے بارے ميں سرزنش كر رہا تھا اور كہہ رہا تھا كہ تم اس قدر شرماتے ہو کہ بسا اوقات اس كى وجہ سے تمہارا نقصان بھى ہو جاتا ہے، اس ليے اتنا شرمانا اچھا نہیں۔ پاس سے نبىﷺگزررہے تھے تو آپﷺ نے يہ سُن لياتواسے فرمايا:ايسامت كہو، کیونکہ حياء توايمان كاحصہ ہے، اس ليے اسے حياء كوكم كرنے كى نصيحت مت كرو۔
سیدنا ابوہریرہ، ابوبکرہ اورعمران بن حصین نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ»
(سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في الحياء: 2009- سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب الحياء: 4184-المعجم الكبير للطبرانى: 18/178-سلسلة الأحاديث الصحيحة:495)
’’حیاء ایمان کاحصہ ہے اورایمان جنّت میں (لے جانے والا)ہے، بدزبانی بداخلاقی کاحصہ ہے اوربداخلاقی جہنّم میں (لے جانے والی)ہے۔‘‘
گویاحیا موجبِ جنّت اوربدزبانی موجبِ جہنّم ہے۔
سیدنا عمران بن حصین نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ، وَالْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ.»
(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب شعب الإيمان:37)
’’حیاء سراسربھلائی ہی ہے، اورحیاء بھلائی ہی لے کرآتاہے۔‘‘
یعنی حیا کانتیجہ سوائے خیروبھلائی کے اورکچھ ہوہی نہیں سکتا، یہ سراسرخیرکاہی پیش خیمہ ہوتاہے۔
سیدنا ابومسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الأُوْلَی: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ.»
(صحيح بخارى، كتاب أحاديث الأنبياء، باب حديث الغار: 3483-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الحياء: 4797)
’’پہلے انبیاء کی کلام سے جوبات لوگوں نے یادرکھی ہے وہ یہ ہے کہ جب تجھے حیا محسوس نہ ہوتوجوتیراجی چاہے کر۔‘‘
جب انسان میں حیا کافقدان ہوجائے تواس پروعظ ونصیحت کچھ اثرنہیں کرتااورنہ ہی وہ کسی کاکچھ پاس ولحاظ رکھتاہے، بلکہ اس کانفس اس قدرشیطنت میں غرق ہوجاتاہے کہ وہ جوبھی کرتارہے اسے کچھ پرواہ نہیں ہوتی، نہ اسے رب تعالیٰ کاخوف رہتاہے اورنہ ہی لوگوں میں بدنامی کاڈر، گویاوہ ان لوگوں میں شمارہوجاتاہے کہ جن کی نظرمیں ہوائے نفسانیہ کے سواکسی اورچیزکی اہمیت نہیں رہتی۔
سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ.
(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب من لم يواجه الناس بالعتاب:6102-صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب كثرة حيائه ﷺ:2320)
’’رسول اللہﷺپردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم وحیاء والے تھے، اورجب آپﷺ کسی بات یاکسی چیزکوناپسندفرماتے توہم اسے آپﷺ کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔‘‘
٭٭٭
تبصرہ کریں