زندگی ایسے گزاریں (قسط 24)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

ذِمی لوگوں کوسلام اوران کے سلام کاجواب

سیدنا سہیل بن ابی صالح بیان کرتے ہیں کہ

خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى، فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ أَبِي: لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا، عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلٰى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ.»

(صحيح مسلم، كتاب السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم:2167-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في السلام على أهل الذمة:5205-سنن ترمذى، أبواب الإستئذان، باب ما جاء في التسليم على أهل الذمة:2700)

’’میں اپنے باپ کے ساتھ شام کی طرف گیاتولوگ عیسائیوں کی عبادت گاہوں کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں سلام کہتے تھے، تومیرے والدنے کہا:تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو، کیونکہ ہمیں سيدنا ابوہریرہ نے رسول اللہﷺسے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے بیان کی ہے کہ آپﷺنے فرمایا: ’’تم انہیں سلام میں پہل مت کرو اورجب راستے میں تمہاراان سے سامناہوجائے تو انہیں تنگ ترین راستے کی طرف مجبورکردو۔‘‘

اس روایت میں دو چیزیں بیان ہوئی ہیں: ایک یہ کہ غیر مسلم لوگوں کو سلام کرنے میں پہل نہیں کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اگر راستے میں کہیں ان کا سامنا ہو جائے تو ان کے گزرنے کے لیے راستہ تنگ کر دیا جائے۔ یہ حکم اس لیے ہے تا کہ انہیں اپنی کمتری اور مسلمانوں کے غلبے کا احساس ہو سکے۔

سیدنا ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ»

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب كيف يرد على أهل الذمة السلام:6257-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم:2164)

’’یقیناًجب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تووہ اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ (یعنی تم پرموت آئے)کہتے ہیں، سوتم انہیں وَعَلَيْكُمْ (اورتم پربھی)کہہ کرجواب دے دیا کرو۔‘‘

وَعَلَيْکُمْ کہنے میں حکمت یہ ہے کہ جیسا اس نے کہا ہو گا ویسا ہی اسے جواب مل جائے گا۔ یعنی اگر تو اس نے واقعی سلامتی کی دعا دی ہو گی تو جواباً اسے بھی سلامتی کی دعا مل جائے گی اور اگر اس نے سلام کے دھوکے میں سام یعنی موت کی بدعا دی ہو گی تو جواباً اسے بھی ویسے ہی بددعا مل جائے گی۔

ام المومنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ

دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ قَالَتْ: فَفَهِمْتُهَا، قُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، فَإِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ.» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَوَ لَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ.»

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب كيف يرد على أهل الذمة السلام:6256-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم:2165)

’’چند یہودی رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اَلسَّامُ عَلَيْكَ (یعنی تم پرموت آئے)کہا، توہم سمجھ گئے۔ چنانچہ میں نے جواباً عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ (یعنی تم پرموت آئے اور لعنت ہو) کہہ دیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: عائشہ! چھوڑو (ایسے نہ کہو)، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!کیا آپﷺ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہاہے؟ تورسول اللہﷺنے فرمایا:میں نے وَعَلَيْكُمْ کہہ کرجواب دے دیاہے۔‘‘

غیرمسلموں کے سلام کے جواب میں وَعَلَيكُم کہنے کی حکمت یہ ہے کہ اگرتوانہوں نے سلام ہی کہا ہو گا تو انہیں ان کے سلام کاجواب مل جائے گالیکن اگر انہوں نے سلامتی کی دعا کے بجائے موت کی بد دعا دی ہوتوانہیں بھی وہی جواب مل جائے گا۔

سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ «سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى.»

(صحيح بخارى، كتاب بدء الوحي، باب بدء الوحي:7)

’’رسول اللہﷺنے شاہِ رُوم ہرقل کے نام یہ پیغام لکھا کہ ہراس شخص پرسلامتی ہوجوبھی ہدایت کی پیروی کرے۔‘‘

شاہِ رُوم جوکہ نصرانی تھا، نبیﷺنے اسے بھی سلام نہیں لکھابلکہ

سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى لکھا، مرادیہ تھاکہ اگرتم ہدایت کی پروی کروگے توتم پرسلامتی ہوگی۔

دومسلمانوں کی ملاقات

سیدنا ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«يَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ مُنْبَسِطٍ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِذَا طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهَا وَاغْرِفْ مِنْهَا لِجِيرَانِكَ.»

(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب الوصية بالجار والإحسان إليه:2625-سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في إكثار ماء المرقة:1833)

’’اے ابوذر!تُوکسی بھی نیکی کوہرگزحقیرمت سمجھ، خواہ وہ نیکی یہی ہوکہ تُواپنے (مسلمان)بھائی کوخندہ پیشانی سے ملے، اوراگرچہ (وہ نیکی یہ ہوکہ)تُوپانی مانگنے والے کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈال دے اورجب تُوہانڈی پکائے تواس کاشوربہ زیادہ بنا لیا کر اوراس سے اپنے پڑوسی کوبھی دے دیاکر۔‘‘

سیدنا قتادہ بیان کرتے ہیں کہ

سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ.»

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب المصافحة:6263)

’’میں نے سیدنا انس نے پوچھا: کیا نبیﷺ کے صحابہ مصافحہ کیاکرتے تھے؟ توانہوں نے جواب دیا:جی ہاں۔‘‘

سیدنا زراع ، جوعبدالقیس کے وفدمیں شامل تھے، بیان کرتے ہیں کہ

فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قبلة الرجل:5225)

’’ہم اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اُترکررسول اللہﷺکے ہاتھ اورپاؤں کوبوسے دینے لگے۔‘‘

سیدناعمربن خطاب بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ الشَّامَ اسْتَقْبَلَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَبَّلَ يَدَهُ.

(السنن الكبرى للبيهقى:7/101)

’’جب وہ شام تشریف لائے توابوعبیدہ بن جراح نے ان کااستقبال کیااوران کے ہاتھ کوبوسہ دیا۔‘‘

سیدہ عائشہ واقعہ اِفک کے بابت روایت کرتی ہیں کہ

فَقَالَ أَبَوَايَ: قُومِي فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قبلة الرجل ولده:5219)

’’میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا:اُٹھو!اوررسول اللہﷺ کے سَرکوبوسہ دو۔‘‘

سیدنا اسیدبن حضیر روایت کرتے ہیں کہ

حِينَ طَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ، فَطَلَبَ الْقِصَاصَ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَاحْتَضَنَهُ أُسَيْدٌ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قبلة الجسد:5224)

’’جس وقت نبیﷺنے ان کی کوکھ میں لکڑی چبھوئی توانہوں نے قصاص مانگ لیا، تونبیﷺنے اپنا قمیض اُٹھادیااوراُسیدآپﷺ کے پیٹ سے چمٹ گئے اورآپﷺ کے پہلُوکوچومنے لگے۔‘‘

كَشْحٌ سے مرادکوکھ اورپسلیوں کے درمیان کی جگہ ہے۔ اس روایت سے صحابہ کرام کی نبی کریمﷺ سے محبت اوروارفتگی کااندازہ ہوتاہے کہ وہ کس درجے تک رسول اللہﷺسے پیارکرتے تھے، علاوہ ازیں اس سے یہ بات بھی احاطۂ علم میں آتی ہے کہ آدمی کااپنی محبوب شخصیت کے جسم کوبوسہ دیناجائزہے۔

دِینی وجوہات کی بناء پرقطع تعلقی

سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ يَصُدُّ هٰذَا وَيَصُدُّ هٰذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما ينهى عن التحاسد والتدابر:6065-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب النهي عن التحاسد والتباغض والتدابر: 2559)

’’ایک دوسرے سے بُغض مت رکھو، باہم حسدمت کرو اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے(مسلمان)بھائی سے تین دِن سے زیادہ بول چال چھوڑے رکھے اورجب وہ آپس میں ملیں تویہ اس سے منہ پھیرلے اوروہ اس سے منہ پھیر لے، ان دونوں میں سے بہتروہ ہوگاجوسلام میں پہل کرے۔‘‘

سیدنا ہشام بن عامرانصاری سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:

«لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ، فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ سَلَامَهُ، وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ، رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ شَيْطَانٌ، فَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ.» أَوْ قَالَ: «لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ»

(مسند الطيالسى:1223-الأدب المفرد للبخارى:402)

’’کسی مسلمان کے لیے جائزنہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دِن سے زیادہ قطع تعلقی کرے، وہ جب تک آپس میں قطع تعلق رہتے ہیں تب تک حق سے ہٹے رہتے ہیں، اوران میں سے جو پہلے اپنے غصے کوختم کرتاہے تواس کاغصہ ختم کرنے میں پہل کرنا اس کے لیے کفارہ بن جائے گا، پھر اگر وہ دوسرے کو سلام کہتاہے اور وہ اس کے سلام کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اسے جواب دیتاہے تو اس کے سلام کا جواب فرشتے دیتے ہیں جبکہ دوسرے کو شیطان جواب دیتاہے، لیکن اگر(ان میں سے کوئی بھی ناراضگی ختم نہ کرے اور)وہ قطع تعلقی میں ہی انہیں موت آ جائے تو وہ دونوں جنت میں نہیں جا سکیں گے۔ یافرمایاکہ وہ دونوں جنت میں ایک ساتھ نہیں رہ سکیں گے۔‘‘

سیدنا ابوخراش سُلمی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فيمن يهجر أخاه المسلم:4915-مسند أحمد: 4/320-سلسلة الأحاديث الصحيحة: 928)

جس نے اپنے (مسلمان)بھائی سے ایک سال تک بول چال چھوڑے رکھی، تو وہ (بہ اعتبارِگناہ)اس کا خون بہانے کے مثل ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلٌ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا»

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب النهي عن الشحناء والتهاجر:2565-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فيمن يهجر أخاه المسلم: 4916-سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في المتهاجرين: 2023)

’’سومواراورجمعرات کے دِن جنّت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اورہراس بندۂ مومن کوبخش دیا جاتا ہے جواللہ کے ساتھ کسی کوبھی شریک نہ ٹھہراتاہو، سوائے اس شخص کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو، تو(ان کے بارے میں یہ)کہاجاتاہے کہ انہیں تب تک چھوڑے رکھوجب تک کہ یہ صلح نہیں کر لیتے۔‘‘

یعنی باہم ناراض دومسلمان بھائیوں کو تب تک بخشش سے محروم رکھاجاتاہے جب تک وہ صلح نہیں کرلیتے۔

باعثِ تہمت امورسے احتراز

سیدنا انس روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺاپنی کسی بیوی کے ساتھ (جارہے)تھے کہ ایک آدمی گزرا اور آپﷺنے فرمایا:

«يَا فُلَانُ هَذِهِ امْرَأَتِي فُلَانَةُ.» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ.»

(صحيح مسلم، كتاب السلام، باب بيان أنه يستحب لمن رئي خاليا بامرأة وكانت زوجته أو محرما له أن يقول هذه فلانة ليدفع ظن السوء به: 2174-سنن أبوداؤد، كتاب السنة، باب في ذراري المشركين: 4719)

’’اے فلاں!یہ میری فلاں بیوی ہے۔ اس نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!میں کون ہوتاہوں کہ ایسا گمان کروں؟ اورنہ ہی آپ کے بارے میں کوئى گمان کیا ہے۔، توآپﷺنے فرمایا:’’یقیناًشیطان ابنِ آدم کے جسم میں خون کے چلنے کی جگہ پردوڑتاہے۔‘‘

شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور اس میں اپنے وساوس اور خیالات ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، اسی لیے نبیﷺ نے اس صحابی سے وضاحت فرما دی تا کہ شیطان اس کے دل میں کوئی برا خیال نہ ڈال دے۔

٭٭٭

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:

’’سردی انسان کو قتل کر ڈالتی ہے، انسان سرد علاقوں میں گرم ملبوسات کے بغیر نہیں رہ سکتا، اس کے بر خلاف گرمی اگرچہ باعثِ اذیت ہے لیکن وہ اس طرح ہلاک نہیں کرتی جیسے سردی ہلاک کر دیتی ہے۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں