
کھانے سے پہلے اوربعدمیں ہاتھ دھونا
ابنِ عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ:
تَبَرَّزَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ، ثُمَّ قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً.(صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب جواز أكل المحدث الطعام، وأنه لا كراهة في ذلك، وأن الوضوء ليس على الفور: 374)
’’رسول اللہﷺ نے قضائے حاجت کی، پھر آپﷺ کی خامت میں کھانا پیش کیا گیا تو آپﷺ نے کھا لیا اور پانی کو چُھوا تک نہیں۔‘‘
یعنی نبیﷺنے اسی طہارت پراکتفاکیاجوقضائے حاجت کے بعدکی تھی اورکھانے کے لیے دوبارہ ہاتھ نہیں دھوئے۔ گویا اگر ہاتھ پہلے سے پاک صاف ہوں تو دھونے کی ضرورت نہیں ہے اوراگرصاف نہ ہوں تودھولینے چاہییں۔
سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ
كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَأَتَى الْخَلَاءَ، ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ فَأَتَى الطَّعَامُ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: «لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ»
’’ہم نبیﷺکے پاس تھے کہ آپؐ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھرجب واپس آئے تو کھانا آ چکا تھا، پوچھا گیا: کیا آپﷺ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپﷺ نے فرمایا:میں نمازنہیں پڑھنے لگاکہ وضو کروں۔‘‘
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ لائقِ ادب یہی ہے کہ وہ کام کیاجائے جورسول اللہﷺنے کیاہے، چنانچہ آدمی کے ہاتھوں کواگرگندگی نہ لگی ہوتوانہیں دھونے سے پہلے کھاناکھالینامیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل ہے)چونکہ نبیﷺاپنے ہاتھوں کوپہلے پاک کرچکے تھے اس لیے دوبارہ نہیں دھویا)۔
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ»
(سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في كراهية البيتوتة وفي يده ريح غمر:1860)
’’جوشخص اس حالت میں سوجائے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہو، پھراگراسے کوئی نقصان پہنچتاہے تووہ اپنے آپ کوہی ملامت کرے۔‘‘
ہاتھ پہ سالن کی چکنائی لگی ہواوراسے دھوئے بغیرہی سوجانے کومکروہ سمجھاگیاہے، کیونکہ اس سے نقصان کااندیشہ ہے کہ ممکن ہے کیڑے مکوڑے اس کی بُو پا کر اس تک پہنچ جائیں اوراسے نقصان پہنچادیں۔ لہٰذاایسی صورت میں اگراس کاکوئی نقصان ہوجاتاہے توبہ فرمانِ نبویﷺ اس کاوہ خودہی ذمے دارہے اور اسے اپنے آپ کوہی ملامت کرناچاہیے۔
ابنِ عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ شَرِبَ لَبَنًا فَتَمَضْمَضَ، وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ دَسَمًا.» وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ فِي أَكْلِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ السَّوِيقَ وَأَكْلِهِمْ مَعَهُ قَالَ: ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. وَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: أَنَّهُ أَكَلَ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَمَضْمَضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: أَنَّهُ شَرِبَ لَبَنًا فَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَصَلَّى.
(صحيح بخارى، كتاب الوضوء، باب هل يمضمض من اللبن؟: 211-صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب نسخ الوضوء مما مست النار: 358)
’’نبیﷺنے دودھ پِیا، پھرکُلّی کی اورفرمایا:اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ سویدبن نعمان رسول اللہﷺ کے ستُّوکھانے کاواقعہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہؓ نے بھی آپﷺ کے ساتھ ستُّوکھائے، پھرآپؐ مغرب کی نمازپڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپؐ نے کُلّی کی توہم نے بھی کُلّی کرلی، پھرآپﷺنے نمازپڑھائی اوروضو نہیں کیا۔ اسی طرح ابنِ عباس رضی اللہ عنہمانبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے بکری کی ہڈی کاگوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، آپﷺ نے نہ توکُلّی کی اور نہ ہی پانی کوچھُوا اور سیدنا انس سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے دودھ پِیااوروضوء کیے بغیرہی نمازپڑھ لی۔‘‘
انس کایہ قول جوازپرمحمول کیاجائے گااورجواس سے پہلے والاہے وہ استحباب پر۔
کھانے کی دعااوراپنے سامنے سے کھانے کاحکم
سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺکوفرماتے سنا:
«إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللّٰهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ بِكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللّٰهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللّٰهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ»
(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما: 2018- سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب التسمية على الطعام: 3765-سنن ابن ماجه، كتاب الدعاء، باب ما يدعو به إذا دخل بيته: 3887)
’’جب آدمی گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخلے کے وقت اور کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کر لے تو شیطان(اپنے آپ سے) کہتاہے کہ نہ تو تمہارے لیے (یہاں) رات گزارنے کا ٹھکانہ ہے اور نہ ہی شام کا کھانا لیکن جب گھرمیں داخلے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتاہے:تمہیں رات گزارنے کا ٹھکانہ مل گیا اور جب وہ کھانے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے:تم نے رات گزارنے کا ٹھکانہ اور شام کا کھانا دونوں حاصل کرلیے ہیں۔‘‘
اللہ کا ذِکر کرنے سے مراد دعا پڑھنا ہے۔ گھرمیں داخل ہوتے وقت یہ دعاپڑھی جائے: اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللّٰهِ خَرَجْنَا وَعَلَی اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا اورکھاناکھانے سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھنی چاہیے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں کہ
أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:
«أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللّٰهِ كَفَاكُمْ، إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَنَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللّٰهِ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ . تَابَعَهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب التسمية على الطعام: 3767- مسند أحمد:6/246)
’’رسول اللہﷺ اپنے چھے صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک بدوی آیا اور اس نے دولقموں میں ہی کھا لیا، تورسول اللہﷺ نے فرمایا:یقیناً اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو تمہیں بھی پورا آ جاتا، جب تم میں سے کوئی کھائے اور وہ بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اسے یوں کہناچاہیے: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ )شروع کرتاہوں(اس کے اوّل اور اس کے آخرمیں۔‘‘
وہب بن قیسان روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمربن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کوفرماتے سنا:
كُنْتُ أَطْعَمُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ، فَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الْقَصْعَةِ، فَقَالَ: «يَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ.»
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب التسمية على الطعام والأكل باليمين: 5376- صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما: 2022)
’’میں رسول اللہﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور میرا ہاتھ برتن میں گھُوم رہا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا: اے بچے!بِسمِ اللہ پڑھ، اپنے دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھا۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ»
(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما: 2020- سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب الأكل باليمين: 3776)
’’جب تم میں سے کوئی کھائے تواسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاناچاہیے اورجب کوئی پِیے تواسے پِینابھی دائیں ہاتھ سے ہی چاہیے، کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتاپِیتاہے۔‘‘
برتن کے درمیان سے کھانے کی ممانعت
سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ
أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في الأكل من أعلى الصحفة: 3772- سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في كراهية الأكل من وسط الطعام: 1805-سنن ابن ماجه، كتاب الأطعمة، باب النهي عن الأكل من ذروة الثريد: 3277)
’’رسول اللہﷺکے پاس ثریدکاایک بڑاپیالہ لایا گیا، تو آپﷺ نے فرمایا:اس کے(اپنی اپنی طرف کے)کناروں سے کھانا اور درمیان سے مت کھانا، کیونکہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔‘‘
تین انگلیوں سے کھانااورانگلیاں چاٹنامسنون عمل
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ وَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا. (صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع والقصعة: 2032- مسند أحمد:3/177)
’’رسول اللہﷺتین انگلیوں سے کھایاکرتے تھے اورتب تک اپناہاتھ صاف نہیں کرتے تھے جب تک اسے چاٹ نہ لیتے۔‘‘
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعَقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ وَقَالَ:
«إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ.» وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ»(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع والقصعة: 2033- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير إذنهما: 4845-سنن ترمذى، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في اللقمة تسقط: 1803)
’’رسول اللہﷺ جب کھانا کھاتے تو اپنی تین انگلیاں چاٹتے اور فرماتے:
جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اس سے گندگی (مٹی وغیرہ) جھاڑ کر کھا لینا چاہیے اور وہ اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے اور آپﷺ ہمیں حکم فرماتے کہ ہم پلیٹ کو انگلی سے صاف کریں اور فرماتے: بلاشبہ تم میں سے کوئی نہیں جانتاکہ اس کے کس کھانے میں برکت ڈالی گئی ہے۔‘‘
انسان کو یہ علم نہیں ہوتا کہ جو وہ کھانا کھا رہا ہے اس کے کس حصے میں برکت ہے، شایداسی میں ہی اللہ نے برکت رکھی ہو جو اس نے برتن میں لگا چھوڑ دیا۔ اس لیے نبیﷺ نے برتن کو انگلی کے ساتھ صاف کر کے چاٹنے کاحکم فرمایا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:
«لَا يَمْسَحُ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ.» (مسند أحمد: 15237)
’’تم میں سے کوئی بھی (کھاناکھانے کے بعد)تب تک رومال سے اپناہاتھ مت پُونچھے جب تک کہ وہ اسے چاٹ نہ لے، کیونکہ آدمی کویہ معلوم نہیں ہوتاکہ اس کے کس کھانے میں برکت رکھی گئی ہے۔‘‘
یعنی ممکن ہے کہ کھانے کاجوتھوڑاساحصہ اس کی انگلیوں کے ساتھ لگاہواسی میں ہی برکت ہو، اس لیے اسے رومال یاٹِشُووغیرہ سے صاف کرنے کی بہ جائے چاٹ لیناچاہیے۔
کھانااپنے ساتھی کے قریب کرنا
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
دَعَى رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ رَجُلٌ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ: فَجَاءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذَلِكَ الدُّبَّاءَ وَيُعْجِبُهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ أَنَسٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ بَعْدُ. قَالَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيَّ: مَا أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَطُّ فِي زَمَنِ الدُّبَّاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ فِي طَعَامِهِ.
(صحيح بخارى، كتاب الأطعمة، باب المرق: 5436- صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع والقصعة:2041)
’’ایک آدمی نے رسول اللہﷺکی دعوت کی، آپﷺ تشریف لے گئے اور آپﷺ کے ساتھ میں بھی تھا، وہ آدمی شوربہ لے کرآیا، اس میں کدُّو تھے، رسول اللہﷺ کدُّو کھانے لگے اور آپﷺ انہیں پسندکرتے تھے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں (کدُّو اُٹھا اُٹھا کر) آپﷺ کی طرف رکھنے لگا اور خود میں نے اس سے کچھ نہ کھایا۔
سیدنا انس فرماتے ہیں کہ اس کے بعدمیں بھی کدُّو پسند کرنے لگا۔
سلیمان التیمی کہتے ہیں کہ ہم کدُّوؤں کے موسم میں جب بھی انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے توہم نے آپ کے کھانے میں کدُّو ہی پائے۔‘‘
سلمان بیان کرتے ہیں کہ
أَنَّهُ دَعَا رَجُلًا إِلٰى طَعَامِهِ فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَعْطَاهُ كِسَرًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، مَا رَغْبَتُكَ أَنْ يَكُونَ الْوِزْرُ عَلَيْكَ وَالْأَجْرُ لِغَيْرِكَ، إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ لِتَأْكُلَ.»
(السنن الكبرى للبيهقى:7/278)
’’انہوں نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی، اسی دوران ایک مسکین آ گیا تو اس(مہمان)نے اسے ایک ٹکڑا دے دیا، تو سلمان نے اس سے کہا:جہاں سے پکڑا ہے وہیں رکھ دو، میں نہیں چاہتا کہ گناہ تیرے سر آئے اور اجر تیرے علاوہ کوئی اور لے جائے، ہم نے تواس لیے تمہیں دعوت دی ہے تاکہ تُو(خود)کھائے۔‘‘
اس روایت کامفہوم یہ ہے کہ مہمان چونکہ جس کھانے پر مدعو ہوتا ہے وہ اس کی ملکیت میں نہیں ہوتا بلکہ اسے وہ اعزازا ًپیش کیا گیا ہوتا ہے، اس لیے اسے اس کھانے کو صدقہ وخیرات کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اسے تناول کرسکتاہے، صدقہ کرنے کاحق صرف میزبان کوحاصل ہے کیونکہ وہ کھانا اسی کے مال سے تیار کردہ ہوتاہے اور اپنے مال کو کہیں بھی صرف کرنے کا وہی مجازہوتاہے۔ روایت میں مذکورالفاظ ’’میں نہیں چاہتا کہ گناہ تیرے سر آئے اور اجر تیرے علاوہ کوئی اورلے جائے۔‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ مہمان اگر اس کھانے کو صدقہ کرے تووہ ایک ایسے کام کامرتکب ہونے کی وجہ سے کہ جس کی اسے اجازت نہیں تھی، گنہگار ہو گا جبکہ اس صدقے کا اجر میزبان کو مل جائے گا۔
٭٭٭
تبصرہ کریں