
کسی کی تعریف میں غُلوسے اجتناب
سیدنا ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺکے پاس ایک آدمی نے کسی شخص کی تعریف کر دی، تو نبیﷺ نے فرمایا:
«وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ مِرَارًا، لَوْ سَمِعَهَا مَا أَفْلَحَ بَعْدَهَا أَبَدًا، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسَبُ فُلَانًا كَذَا وَكَذَا، إِذَا عَلِمَ مِنْهُ ذَلِكَ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِهِ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللّٰهِ أَحَدًا.» (صحيح بخارى، كتاب الشهادات، باب إذا زكى رجل رجلا كفاه: 2662-صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب النهي عن المدح، إذا كان فيه إفراط وخيف منه فتنة….:3000)
’’تجھ پرافسوس ہے تُونے اپنے (مسلمان) بھائی کی گردن کاٹ دی، آپﷺ نے یہ کئی مرتبہ فرمایا: اگروہ شخص(جس کی تُونے تعریف کی ہے)اسے سُن لیتا تو وہ اس کے بعدکبھی کامیابی نہ پاتا، اس لیے اگرتم میں سے کسی کواپنے مسلمان بھائی کی ضرورہی تعریف کرنی ہو اور وہ اس کی خوبی کو جانتا ہو تو اسے یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں شخص کو ایسا ایسا سمجھتا ہوں، باقی اللہ تعالیٰ اسے بہترجانتاہے، میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کوبے عیب نہیں کہہ سکتا۔‘‘
یعنی کسی مسلمان بھائی کی تعریف کرنابھی ہو تو اس کی خوبی یا اچھائی کے بارے میں اپنی رائے تو دی جا سکتی ہے لیکن حتمی نہ قرار دیا جائے بلکہ یوں کہہ دینا چاہیے کہ میری رائے میں تووہ فلاں فلاں خوبی کاحامل ہے، باقی حقیقتِ حال سے اللہ ہی واقف ہے۔
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں کہ
جَعَلَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى عُثْمَانَ فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَجَعَلَ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ. (صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب النهي عن المدح، إذا كان فيه إفراط وخيف منه فتنة على الممدوح:3002)
’’ایک آدمی سیدنا عثمان کی تعریف کرنے لگا تو سیدنا مقداد کھڑے ہوئے اور اس پر مٹی ڈال دی اور کہا کہ رسول اللہﷺنے ہمیں حکم فرمایاکہ ہم تعریف کرنے والوں کے مونہوں میں مٹی ڈال دیں۔‘‘
بہ وجۂ انکساری خودستائی کوناپسندکرنا
سیدنا عبداللہ بن شخیر روایت کرتے ہیں کہ وہ بنوعامرکے ایک وفدکے ہمراہ نبیﷺکے پاس آئے، کہتے ہیں کہ
فَأَتَيْنَا فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْنَا: أَنْتَ وَالِدُنَا، وَأَنْتَ سَيِّدُنَا، وَأَنْتَ أَطْوَلُنَا عَلَيْنَا طَوْلًا، وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ، قَالَ: قُولُوا بِقَوْلِكُمْ، وَلَا تَسْتَجِرُّكُمُ الشَّيَاطِينُ-وَرُبَّمَا قَالَ غَيْلَانُ: «وَلَا تَسْتَهْوِيكُمُ الشَّيَاطِينُ»-«أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهُ، مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِيَ فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في كراهية التمادح:4806 -مسند أحمد:3/241)
’’ہم آپﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور ہم نے سلام کیا، پھر ہم نے کہا: آپﷺ ہمارے باپ (بجا) ہیں، آپﷺ ہمارے سردار ہیں، آپﷺ ہم سب سے زیادہ ہم پرسخاوت کرنے والے ہیں اور آپﷺ بہت ہی فیاض ومہربان ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنی بات کہہ لو، لیکن شیاطین تمہیں اپنے پیچھے نہ لگا لیں، یا یوں فرمایا کہ شیاطین تمہیں اپنے جال میں نہ پھنسا لیں، میں(فقط)محمد، اللہ کابندہ اور اس کا رسول ہوں، مجھے یہ بالکل پسندنہیں ہے کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مقام ومرتبے سے بڑھا چڑھا کرکوئی مقام دو۔‘‘
ٹھہرٹھہرکرگفتگوکرنامسنون عمل
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ لَا يَسْرُدُ الْكَلَامَ كَسَرْدِكُمْ هٰذَا، كَانَ فَصْلًا يُبَيِّنُهُ، يَحْفَظُهُ كُلُّ مَنْ يَسْمَعُهُ. (سنن ترمذى، أبواب المناقب: 3639-الشمائل المحمدية للترمذى: 112)
’’رسول اللہﷺ تمہاری طرح تیز تیز باتیں نہیں کیا کرتے تھے بلکہ آپﷺ ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے، جسے ہرسننے والایادکرلیتا۔‘‘
سیدنا جابربن عبداللہ فرماتے ہیں کہ
كَانَ فِي كَلَامِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ تَرْتِيلٌ. (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب:4838)
’’رسول اللہﷺکے کلام میں انتہائی ٹھہراؤ ہوتا تھا۔‘‘
مختصرگفتگوکرناسمجھداری کی علامت
سیدنا ابووائل بیان کرتے ہیں کہ
خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبَلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا.» (صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة: 869-مسند أحمد:4/264)
’’سیدنا عمار نے ہمیں انتہائی بلیغ اور بہت مختصر خطبہ دیا، جب وہ (منبرسے)اُترے توہم نے کہا:اے ابویقظان!آپ نے انتہائی بلیغ اور بہت مختصر خطبہ دیا ہے اگر آپ تھوڑا لمبا کر دیتے تو اچھاہوتا، تو سیدنا عمار نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: آدمی کا نماز لمبی ادا کرنا اور خطبہ مختصر دینا اس کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے، سو تم نماز لمبی پڑھا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو اور بلاشبہ کوئی بیان جادو اثر ہوتاہے۔‘‘
سیدنا عمروبن عاص سے مروی ہے کہ
أَنَّ رَجُلًا قَامَ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ، فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُ أَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ، فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في المتشدق…:5008)
’’ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے بہت ساری باتیں کیں، تو سیدنا عمرو نے کہا: اگر یہ اپنی بات میں میانہ روی اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: میرا خیال ہے، یا (فرمایا کہ) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنی بات میں میانہ روی اپناؤں، کیونکہ بلاشبہ میانہ روی خیروبھلائی ہی ہے۔‘‘
اُکتاہٹ کے خدشے سے مناسب وعظ ونصیحت
سیدنا ابووائل بیان کرتے ہیں کہ
كَانَ عَبْدُ اللّٰهِ يُذَكِّرُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقِيلَ لَهُ: لَوَدِدْنَا أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا. (صحيح بخارى، كتاب الدعوات، باب الموعظة ساعة بعد ساعة: 6411-صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة، باب الاقتصاد في الموعظة:2821)
’’سیدنا عبداللہ ہرجمعرات کوہمیں وعظ ونصیحت کیا کرتے تھے، ان سے کسی نے کہا:ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تمہیں مقررہ دِنوں میں ہی وعظ کیا کروں گا، کیونکہ رسول اللہﷺ بھی ہمارے اُکتا جانے کو ناپسند کرنے کی وجہ سے ہمیں مقررہ دِنوں میں ہی وعظ فرمایاکرتے تھے۔‘‘
سیدناعمربن خطاب، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ صدیقہ سے بھی لمبے وعظ کی ناپسندیدگی روایت کی گئی ہے۔ سیدہ عائشہ نے سیدنا عبیدبن عمر سے فرمایا: لوگوں کو اُکتاہٹ میں ڈالنے اور مایوس کرنے سے بچو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے: لوگوں کو تب تک وعظ ونصیحت کرو، جب تک ان کے دِل تمہاری طرف متوجہ رہیں، لیکن جب ان کے دِل تم سے مُڑ جائیں تو پھر ان سے بات نہ کرو۔ پوچھاگیاکہ اس کی کیاعلامت ہے کہ ان کے دِل متوجہ ہیں یانہیں؟ توانہوں نے فرمایا: جب وہ اپنی نظریں تم پہ گاڑے تمہاری باتیں کر رہے یا سُن رہے ہوں تب تک ان سے مخاطب رہو اور جب وہ ایک دوسرے پرٹیک لگانے اور جمائیاں لینے لگیں تو اپنی بات ختم کردو۔‘‘
تکلف اورتصنع کے ساتھ گفتگوکرنے کی مذمت
سیدنا ابوہریرہ اس حدیث کومرفوعاًبیان کرتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا:
«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ الثَّرْثَارُونَ، الْمُتَشَدِّقُونِ، الْمُتَفَيْهِقُونَ، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِهِمْ؟ أَحَاسِنُهُمْ أَخْلَاقًا.»
(السنن الكبرى للبيهقى:10/194)
’’کیا میں تمہیں اس اُمت کے بدترین لوگوں کا نہ بتلاؤں؟ وہ بہت زیادہ باتیں کرنے والے، باچھیں ہلاہلا کر بولنے والے اور بڑھا چڑھا کر بات کرنے والے ہیں۔ کیا میں تمہیں ان کے اچھے لوگوں کا نہ بتلاؤں؟ یہ وہ ہیں جوان میں سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔‘‘
اَلثِّرْثَارُ کامعنیٰ ہے بہت زیادہ بولنے والااورفضول وبے مقصدباتیں کرنے والا، جسے ہم باتونی کہتے ہیں، الْمُتَشَدِّقُ کامطلب ہے لوگوں کومتاثرکرنے اورانہیں اپنی عمدہ کلامی باور کروا کر ان کے دِل موہ لینے کے لیے باچھیں ہلاہلا کر اور جبڑے موڑ کر(یعنی منہ کے مختلف انداز بنا کر) تکلّف سے بولنے والا اور اَلْمُتَفَيْهِقُ سے مرادوہ ہے جوکلام میں وسعت پیدا کرتا جائے، یعنی الفاظ وکلمات کومختلف اندازسے دوہرا دوہرا کر اپنی بات کو لمبا کرنے والا۔ بعض مقررین متذکرہ بالا امور کو اپنے تئیں ادیبانہ اور خطیبانہ خصلت سمجھتے ہیں اور عمداً وتکلّفاً ایسے انداز اپناتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنے والوں کو نبی مکرمﷺ نے اس اُمت کے بدترین لوگ کہاہے۔ممانعت میں اس قدر شدّت کی وجوہ یہ ہیں کہ ان امور سے اولاً تو خلوص کی بجائے بناوٹ اور دکھاوا ہوتا ہے جو کہ کسی بھی عمل کے عدمِ قبولیت کا اوّلیں سبب ہے، دوسرا اس طرح عجز وانکساری بھی نہیں رہتی بلکہ بڑائی کا اظہار ہوتا ہے اور آدمی مخاطبین پر اپنا علمی وادبی رعب بٹھانے کی کوشش کرتاہے جوکہ شرعاًقطعی ناجائز بلکہ حرام ہے اوردوسری قباحت یہ ہے کہ اس طرح کے تکلفات سے گفتگو اس قدرمشکل اور پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ بہت سے سامعین کے فہم سے بالاتر رہتی ہے اور یوں مقرر اور سامع دونوں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں، لہٰذا ان ممنوعہ امور سے بالکل احتراز کرنا چاہیے اور سادہ وعام فہم انداز وکلمات اپنانے چاہییں، کیونکہ بات جس قدرسادہ ہو گی اتنی ہی جلدی سمجھ میں آئے گی اور اللہ تعالیٰ بھی دل سے نکلی ہوئی بات میں، خواہ وہ سادہ سے اندازمیں ہی کہی گئی ہو، ایسی تاثیر پیدا کر دیتاہے کہ وہ دِلوں میں اثر کر جاتی ہے اور سامعین بھی اس سے بخوبی حظ اٹھاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في المتشدق في الكلام:5005-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في الفصاحة والبيان: 2853- سلسلة الأحاديث الصحيحة:880)
’’یقیناً اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے ایسے بلاغت والے شخص سے بغض ونفرت کرتا ہے جواپنی زبان کوایسے چلائے جیسے گائے اپنی زبان کوچلاتی ہے۔‘‘
یہ تشبیہ ایسے شخص کے ساتھ دی گئی ہے جو گفتگو کرتے ہوئے تکلّفاً بناوٹ اور تصنع کا سا انداز اپناتا ہے اور طرح طرح سے منہ کے مختلف انداز بناتا ہے۔
جوچیز ملی نہ ہو اس سے شِکم سیری کے اظہارکی ممانعت
سیدہ اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ
جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَقُولَ: أَعْطَانِي زَوْجِي وَلَمْ يُعْطِنِي أَنَّ عَلَيَّ ضَرَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ.» (صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب منه: 5219- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن التزوير في اللباس وغيره والتشبع بما لم يعط:2130)
’’ایک عورت نبیﷺکے پاس آئی اور اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول!) میری ایک سوکن ہے، تو) کیایہ میرے لیے درست ہے کہ میں(اسے جلانے کے لیے یہ) کہوں کہ میرے خاوندنے مجھے(فلاں چیز) دی ہے حالانکہ اس نے دی نہ ہو، توکیااس کا مجھ پرکوئی گناہ ہے؟ تورسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے کسی ایسی چیزپرشکم سیری کااظہار کیا جو اسے ملی ہی نہ ہو تو وہ جھُوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کے مانند ہے۔‘‘
اس حدیث میں اس عورت یا اس شخص کاحکم بیان کیا گیا ہے جسے کسی نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن وہ لوگوں کو کہتا پھرے کہ مجھے فلاں نے یہ چیز دی ہے اورجھُوٹ کے دو کپڑوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس کو دو طرح کا نقصان ہوا، ایک تووہ اس چیزسے بھی محروم رہا، یعنی وہ چیز اسے سرے سے ملی بھی نہیں لیکن اس نے یوں ہی کہہ دیا اور دوسرا نقصان یہ کہ اس نے جھُوٹ بول کر گناہ کما لیا۔ ویسے یہ حکم عام ہے، لیکن اس حکم کے صدور کی جو وجہ حدیث میں مذکور ہے اور سوال کرنے والی عورت نے جس بنیاد پر یہ مسئلہ پوچھا تھا درحقیقت وہ بجائے خود ایک بُرا عمل ہے، یعنی اپنی سوکن کوجلانے کے لیے جھوٹ بولنا۔ لہٰذا اس ایک برے عمل سے کتنی اوربھی برائیاں متعلق ہیں جس وجہ سے اس کی قباحت میں اضافہ ہوجاتاہے۔
٭٭٭
مولانا شعیب احمد میرپوری اورانکے برادران کو صدمہ
مولانا شعیب احمد میرپوری کے بڑے بھائی چوہدری اللہ دتہ کا چند سال قبل انتقال ہو گیا، چونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، تو مولانا شعیب احمد میرپوری اپنی بھابی صاحبہ کو اپنے گھر بانبری لے آئے اور ان کی نگہداشت کر رہے تھے۔ 13 سال قبل ان کی بھابی صاحبہ بالکل بستر پر ہو گئیں تو مولانا شعیب احمد میرپوری کی اہلیہ دل وجان سے ان کی خدمت کرتی رہیں۔ یوں سمجھیے اگر مولانا شعیب احمد میرپوری اللہ کے ولی ہیں تو ان کی اہلیہ اللہ کی ولیہ ہیں۔ ایک طویل عرصہ اپنی بھاؤج کی دل وجان سے خدمت کرتی رہیں، یہاں تک کہ ان کا قت موعود آ گیا اور وہ بھی اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مولانا شعیب احمد کے سارے بھائی حاجی حبیب احمد، الیاس احمد، محمد حنیف، فیاض احمد سابق میئر بانبری، اقیاص احمد کے علاوہ چوہدری محمد یونس، چوہدری یوسف کے علاوہ برادری کےسارے لوگ برطانیہ کے طول وعرض سے جنازہ میں حاضر تھے۔ ان کے علاوہ حاجی ذوالفقار قریشی ڈڈلی، حاجی عبد الجبار قریشی، جناب عبد الرحمٰن قریشی، قاری سید یعقوب علی، محمد عبد الرؤف ریاضی اور بہت سے دوست واحباب و اقارب شریک جنازہ تھے۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا حفیظ اللہ خان المدنی، قاری ذکاء اللہ سلیم، برادر عجائب خان، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور بہت سے علمائے کرام نے مولانا شعیب احمد میرپوری امیر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ پاک ان کی بھابی صاحبہ کی مغفرت فرمائے جو 80 سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئیں اور ان کے متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین
جو شاخ دفن ہوئی تب کھلا ہے پھول اس پر
کہ پہلے موت ہوئی بعد میں شباب آیا
(ڈاکٹر عبد الرب ثاقب العمری)
تبصرہ کریں