زندگی ایسے گزاریں (قسط 31)۔مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

غیرمحتاط گفتگواورنامناسب باتوں کی ممانعت

سیدنا سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي.» وَحُكِّينَا عَنِ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الْعَرَبُ تَقُولُ: لَقِسَتْ نَفْسِي أَيْ ضَاقَتْ. (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب لا يقل: خبثت نفسي: 6180- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب كراهة قول الإنسان خبثت نفسي:2251)

’’تم میں سے کوئی بھی یوں ہرگز نہ کہے کہ میرا نفس پلید وناپاک ہو گیا ہے، بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ میرا نفس سُست پڑ گیا ہے۔‘‘

اصل میں یہ عرب کے محاورے تھے، وہ جب طبیعت میں تنگی محسوس کرتے تو ایسا بولا کرتے تھے۔ پہلے محاورے میں نفس کے ناپاک ہونے کا ذکرہے اس لیے اسے بولنے سے منع کیا گیا، کیونکہ مومن کانفس ناپاک نہیں ہوتابلکہ کافرکانفس ناپاک ہوتاہے۔

سيدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ»(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب قول النبي ﷺ: «إنما الكرم قلب المؤمن»: 6183- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب كراهة تسمية العنب كرماً: 2247)

’’تم انگور کو کرم ہرگز نہ کہاکرو، کیونکہ کرم توصرف مسلمان شخص ہوتاہے۔‘‘

یعنی یہ بھی بولنے میں بے احتیاطی ہے کہ مسلمان کی ایک خصلتِ مدیحہ کو کسی پھل کے نام کے طور پر بولا جائے، چنانچہ آپﷺنے شدتِ احتیاط کے پیشِ نظراس سے بھی منع فرمادیا۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي، وَلَا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي، وَلْيَقُلِ الْمَالِكُ: فَتَايَ وَفَتَاتِي، وَلْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ: سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي، فَإِنَّكُمُ الْمَمْلُوكُونَ وَالرَّبُّ اللّٰهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ.»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقول المملوك ربي وربتي:4975)

’’تم میں سے کوئی بھی (اپنے غلام اور لونڈی کو) ’میرے بندے‘ اور ’میری بندی‘ ہرگز نہ کہے، اور کوئی غلام اور لونڈی بھی (اپنے مالک کو)’اے میرے رب‘ ہرگز نہ کہے، بلکہ مالک کو چاہیے کہ وہ یوں کہے: اے جوان لڑکے، اے جوان لڑکی۔ اورغلام ولونڈی کو یوں کہناچاہیے:اے میرے سردار، کیونکہ تم سبھی غلام ہو اور رب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘

اورنبیﷺکافرمان ہے کہ

«لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقال خبثت نفسي:4980)

’’تم ایسے مت کہوکہ جواللہ تعالیٰ اورفلاں چاہے، بلکہ یوں کہوکہ جواللہ تعالیٰ چاہے، پھرفلاں چاہے۔‘‘

ایک روایت میں ہے کہ

أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ ﷺ: «بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُلْ: مَنْ يَعْصِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ غَوَى» (صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة: 870-سنن أبوداؤد، كتاب الصلاة:1099)

’’ایک خطیب نے نبیﷺکے پاس )ان الفاظ میں (خطبہ دیا:

«مَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوٰى»

’’جو اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت پائے گا اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ گمراہ ہوگا۔‘‘ تو نبیﷺنے فرمایا:

تُوبُراخطیب ہے، (ایسے نہیں بلکہ یوں)کہہ:

«مَنْ يَعْصِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ غَوٰى»

’’جواللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گاوہ گمراہ ہوگا۔‘‘

نبیﷺنے ادبِ خداوندی کا پاس کرتے ہوئے خطبہ دینے والے اس شخص کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ایک ہی ضمیر (Pronoun)کے ساتھ اکٹھا ذِکر کرنے سے منع فرما دیا اور ان دونوں ناموں کو الگ الگ بیان کرنے کا حکم فرمایا، یہ بھی بولنے میں شدید احتیاط اور ادبِ الٰہی کی درخشندہ مثال ہے۔

اور ایک روایت میں ہے کہ

أَنَّهُ نَهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ. (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر: 5975-صحيح مسلم، كتاب الحدود، باب النهي عن كثرة المسائل من غير حاجة، والنهي عن منع وهات:1715)

’’نبیﷺنے قِیل وقال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے سے منع فرمایا۔‘‘

قیل وقال سے مرادسنی سنائی باتیں آگے بیان کر دینا، کثرتِ سوال سے مراد ضرورت سے زیادہ اوربے معنیٰ وبے مقصدسوالات کرنا ہے اور مال ضائع کرنے کا مطلب مال کو ان امور میں سرف کرنا کہ جن میں خرچ کرنا فضول خرچی کے زمرے میں آتا ہو۔

نبیﷺنے لفظ زَعَمُوا (لوگوں کا خیال ہے) بولنے کے بارے میں فرمایا:

«بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قول الرجل: زعموا:4972)

’’لفظ زَعَمُوا آدمی کے سوار ہونے کا بہت برا جانور ہے۔‘‘

اس روایت میں اس عادت کے ناپسندیدہ ہونے کی طرف اشارہ ہے، کہ بندہ بے اصل وبے بنیادباتوں کومحض سُن سنا کر یا اپنے ہی گمان اور خیال کی بنیاد پر کسی بات کو آگے بیان کر دے اور اسے لوگوں سے منسوب کر دے کہ لوگوں کایہ خیال ہے یالوگ یوں کہتے ہیں۔

سیدنا بریدہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقول المملوك ربي وربتي: 4977- مسند أحمد: 5/436- سلسلة الأحاديث الصحيحة:370 )

’’تم کسی منافق کوسردارمت کہو۔‘‘

سردارکہنے سے مرادیہ ہے کہ اس کے لیے عزت کاکوئی بھی ایسالفظ نہ بولاجائے جس کاوہ لائق نہ ہو۔

اورنبیﷺکافرمان ہے کہ

لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ. (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقال خبثت نفسي: 4982- مسند أحمد: 5/59- صحيح الجامع للألبانى:7401)

’’تُویہ مت کہہ کہ شیطان ہلاک ہو، بلکہ بسم اللہ کہہ، کیونکہ جب تو بسم اللہ کہے گا تو وہ (یعنی شیطان) اس قدر چھوٹا ہو جاتا ہے کہ مکھی کی طرح بن کر رہ جاتا ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ» (صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب النهي عن قول هلك الناس: 2623-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقال خبثت نفسي: 4983)

’’جب آدمی کہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ خود ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والاہے۔‘‘

کیونکہ لوگوں کی ہلاکت وبربادی کا فیصلہ کرنے کا اس شخص کو قطعی حق حاصل نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے، تو ایسا کہنے کی وجہ زبان کا ناجائز استعمال ہے، اسی لیے آپﷺ نے اسے سب سے زیادہ ہلاکت کا مارا قرار دیا۔

جھگڑانہ کرنے اورمزاح میں بھی جھوٹ نہ بولنے کی فضیلت

سیدنا ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ يَتْرُكِ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن الخلق: 4800- سلسلة الأحاديث الصحيحة:273)

’’میں اس شخص کے لیے جنّت کے ایک گوشے میں بنے گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے اور درمیانِ جنّت(میں قائم گھر)کی اس کے لیے ضمانت دیتا ہوں جو مزاح میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اورجنّت کے اعلیٰ درجے میں تعمیر گھر کا اس کے لیے ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہو۔‘‘

زیادہ ہنسناناپسندیدہ عمل

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحْسِنْ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ.» (سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب الورع والتقوى: 4217)

’’پرہیزگار بن جا؛ تمام لوگوں سے زیادہ عبادت گزار بن جائے گا، قناعت پسند ہو جا؛ تمام لوگوں سے بڑھ کر شکر گزار بن جائے گا، لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرنے لگ جا جو تُو اپنے لیے پسند کرتا ہے؛ حقیقی مؤمن بن جائے گا، اپنے ہمسائے کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دے؛ حقیقی مسلمان بن جائے گا اور ہنسنا کم کر دے؛ کیونکہ زیادہ ہنسنا دِل کو مُردہ کر دیتا ہے۔‘‘

سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:

«لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا.»

’’اگر تمہیں اس کا پتہ چل جائے جسے میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنسو اور زیادہ روؤ۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں