زندگی ایسے گزاریں (قسط 34)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

بدشگونی مکروہ عمل

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«لَا طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ». قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ.»

(صحيح بخارى، كتاب الطب، باب الفأل:5755- صحيح مسلم، كتاب السلام، باب الطيرة والفأل وما يكون فيه من الشؤم:2223)

’’بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور اس میں بہترین بات فال ہے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! فال کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:وہ نیک بات جو تم میں سے کوئی سنتاہے۔‘‘

سیدنا بریدہ بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّهُ كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ. (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الطيرة:3920- سلسلة الأحاديث الصحيحة:762)

’’نبیﷺ کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے، اور آپﷺ اچھے نام کوپسندفرمایاکرتے تھے۔‘‘

بعض روایات میں یہ بھی مذکورہے کہ آپﷺ برے نام کو ناپسند فرمایا کرتے تھے، بلکہ بعض صحابہ وصحابیات کے ایسے ہی ناموں کو بدل کر آپﷺ نے اچھے نام رکھے ہیں۔ لہٰذاگو کہ یہ بات بدشگونی نہیں ہے لیکن آپﷺ کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے نام رکھنے میں احتیاط کرنی چاہیے، مباداایسانام نہ رکھ لیاجائے جومعیوب ہو۔

سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ وَالْمَرْأَةِ» (صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة:5093-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب الطيرة والفأل وما يكون فيه من الشؤم:2225)

’’اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو گھوڑے، گھر اور عورت میں ہوتی۔‘‘

یہ بات واضح رہے کہ اسلام میں بدشگونی کا تصور ہی نہیں ہے، اور اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر بدشگونی ہوتی بھی توان تین چیزوں میں ہونی تھی، لہٰذا اس بات سے بدشگونی کا وجود مراد نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا، بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ اسلام میں اس کاتصورسرے سے نہیں ہے لیکن فرض کریں کہ اگر ہوتا تو تو صرف ان تین چیزوں کے بابت ہوناتھا۔

ان تین چیزوں کوبطورِ خاص ذکرکرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض گھوڑے بہت سرکش ہوتے ہیں اور گھوڑے یعنی سواری کا اچھا نہ ہونا انتہائی تکلیف دہ امر ہوتا ہے اور بہت پریشانی کا باعث بنتاہے، اسی طرح کئی گھریعنی مکانات بھی اتنے خستہ حال ہوتے ہیں کہ ہر وقت ان سے بڑے نقصان کاخدشہ رہتاہے، اور اسی طرح عورت اگر بدخلق ہو تو بہت سے فسادات، لڑائی جھگڑوں اور گھر میں بے سکونی وبے اطمینانی کاموجب بنتی ہے۔سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے:

كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ، ثُمَّ قَرَأْتُ: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرٌ﴾ [الحديد: 22] .

(السنن الكبرى للبيهقى: 8/140-مستدرك حاكم: 2/479- سلسلة الأحاديث الصحيحة:7993)

’’عہدِجاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ عورت، جانور (یعنی سواری)اور گھر میں برا شگون ہوتاہے، پھر آپﷺنے یہ آیت پڑھی:

﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرٌ﴾

’’نہ دنیامیں کوئی مصیبت آتی ہے اورنہ ہی خاص تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یقیناًیہ کام اللہ تعالیٰ پربہت آسان ہے۔‘‘

امام مالک بن انس ﷫ سے اسی بارے میں سوال کیا گیا توانہوں نے جواب دیا: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا نَاسٌ آخَرُونَ فَهَلَكُوا فَهٰذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ. (السنن الكبرى للبيهقى:8/140)

’’بہت سے گھر ایسے بھی ہیں کہ جن میں بسنے والے لوگ اس دنیاسے چلے گئے، پھردوسرے لوگ اس میں آبسے اور پھر انہیں بھی موت نے آ لیا۔ ہماری رائے میں تواس کی تفسیریہی ہے، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔‘‘

اور ایسے گھر کو تبدیل کرنے سے متعلق جو حدیث مروی ہے جس گھرکے عیال اور اموال کم پڑجائیں تو اس کے بارے میں رسول اللہﷺکافرمان ہے کہ

«دَعُوهَا ذَمِيمَةً»(سنن أبوداؤد:3924)

’’ایسے برے گھرکوچھوڑدو۔‘‘

امام خطابی﷫ فرماتے ہیں کہ اس گھرکو چھوڑ دینے کا حکم ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہوکہ اس گھرکے افراد کے دِلوں میں پیدا ہو جانے والے وسوسے کی جڑ ہی کاٹ دی جائے، کیونکہ جب وہ گھرتبدیل کرلیں گے تو ان کاوہم بھی سرے سے ختم ہوجائے گا۔ واللہ أعلم

بیماری کامتعدی ہونااورنحوست لغوباتیں

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ» (صحيح بخارى، كتاب الطب، باب لا عدوى:5772-صحيح مسلم:2225)

’’نہ توکوئی بیماری متعدی ہوتی ہے اورنہ ہی بدشگونی ہوتی ہے۔‘‘ ایک شخص سے دوسرے شخص کو یا ایک جانور سے دوسرے جانور کو لگ جانے والی بیماری کومتعدی بیماری کہتے ہیں، انگریزی میں اسے Infectious Deseasکہتے ہیں۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ

حِينَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّ.» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِئُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟.»

(صحيح بخارى، كتاب الطب:5770- صحيح مسلم، كتاب السلام، باب لا عدوى، ولا طيرة، ولا هامة، ولا صفر…:2221)

’’جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، صفر اور اُلُّو کی نحوست بھی کوئی چیز نہیں ہے۔ تو ایک بدوی نے کہا: اے اللہ کے رسول (اگر کوئی بیماری متعدی نہیں ہے)تو پھر اس اونٹوں کو کیا مسئلہ ہوتاہے جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتے ہیں اور ایک خارش زدہ اونٹ آ کر جب ان میں شامل ہو جاتا ہے تو وہ انہیں بھی خارش لگا دیتا ہے؟ آپﷺنے فرمایا:توپہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟‘‘

امام بیہقی﷫ فرماتے ہیں کہ اعتقادی طورپروہ یہ سمجھتے تھے کہ ایک اونٹ کو بیماری لگنے کا سبب دوسرا بیمار اونٹ ہے، تونبیﷺ نے ان کے اس وہم کا ازالہ اس سوال سے فرمایاکہ پہلے اونٹ کوبیماری کس نے لگائی؟ یعنی جس نے پہلے اونٹ کوبیماری لگائی ہے وہی اس سبب کوپیداکرنے والاہے کہ پہلااونٹ جب دیگر اونٹوں کے ساتھ ملے گا تو انہیں بھی خارش پڑ جائے گی، تو گویا دونوں کو اللہ ہی کے حکم سے بیماری لگی ہے اور جب ایک خارش زدہ اونٹ کا دیگر اونٹوں میں گھُل مل جانا انہیں بھی خارش زدہ کرنے کاسبب بن جاتا ہے تویہ سبب بھی اللہ تعالیٰ کی مشیئت، چاہت، اس کے فیصلے اور حکم سے ہی بنتاہے، اسی لیے بطورِ احتیاط نبی کریمﷺنے یہ ارشاد فرمایا ہے: اپنے صحت منداونٹ کو بیمار اونٹوں میں شامل نہ کرو۔ سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ.» وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: «لِأَنَّهُ أَذًى» (صحيح بخارى، كتاب الطب، باب لا عدوى:5771-صحيح مسلم:2221)

’’کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے تندرست اونٹوں میں شامل نہ کرے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:اس لیے کہ یہ باعثِ کوفت ہے۔‘‘

امام بیہقی﷫ کے ذکرکردہ کلام کاخلاصہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کا اس سے منع کرنا فقط اس لیے ہے تاکہ قلب وذہن میں یہ بداعتقادی کاخیال جنم نہ لے سکے کہ دوسرے اونٹوں کوبھی اس بیماراونٹ کی وجہ سے بیماری لگی ہے، حالانکہ ایساہرگزنہیں ہے کیونکہ جس ذات نے پہلے اونٹ کوبیماری لگائی تھی اس نے اسی اونٹ کے دیگراونٹوں میں شامل ہوجانے کوان اونٹوں کے بیمارہوجانے کاسبب بنادیا، توگویادونوں جگہ بیماری اللہ تعالیٰ ہی کے حکم اورفیصلے سے لگی ہے، اس ایک بیماراونٹ کااس میں قطعی کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

کسی علاقے میں وباء پھُوٹ پڑے تو۔۔۔

سعدبن مالک، خزیمہ بن ثابت اوراسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ هٰذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ وَبَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا»

(صحيح بخارى، كتاب الطب، باب ما يذكر في الطاعون:5728- صحيح مسلم، كتاب السلام، باب الطاعون والطيرة والكهانة ونحوها:2218)

’’طاعون اس عذاب کاباقی ماندہ حصہ اورگندگی ہوتی ہے جس عذاب سے کسی قوم کودوچارکیاجاتاہے، سوجب یہ (وباء)کسی ایسے علاقے میں پھُوٹ پڑے جہاں تم موجودہوتووہاں سے نکلومت، لیکن اگریہ ایسے علاقے میں پھوٹے جہاں تم موجودنہ ہوتواس علاقے میں مت جاؤ۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِينَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَرَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغٍ فَلَقِيَهُ أُمَرَاؤُهُ عَلَى الْأَجْنَادِ فَلَقِيَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَقَعَ الْوَجَعُ بِالشَّامِ، فَقَالَ عُمَرُ: اجْمَعْ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَجَمَعْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: ارْجِعْ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمْهُمْ عَلَى الْوَبَاءِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا هُوَ قَدَرُ اللّٰهِ وَقَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ فَلَا تَرْجِعْ عَنْهُ، فَأَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا عَنْهُ. ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِيَ الْأَنْصَارَ، فَدَعَوْتُهُمْ وَاسْتَشَارَهُمْ، فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ، فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ بِالنَّاسِ، فَأَذَّنَ عُمَرُ فِي النَّاسِ: إِنَّى مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ، فَإِنِّي مَاضٍ لِمَا أَرَى، فَانْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَامْضُوا لَهُ فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرٍ. قَالَ: فَرَكِبَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: إِنِّي أَرْجِعُ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُخَالِفَهُ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللّٰهِ، فَغَضِبَ عُمَرُ وَقَالَ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَ هٰذَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، نَعَمْ أَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللّٰهِ إِلٰى قَدَرِ اللّٰهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَبَطَ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ وَاحِدَةٌ جَدْبَةٌ وَالْأُخْرٰى خَصْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَى الْجَدْبَةَ رَعَاهَا بِقَدَرِ اللّٰهِ، وَإِنْ رَعَى الْخَصْبَةَ رَعَاهَا بِقَدَرِ اللّٰهِ. قَالَ: ثُمَّ خَلَا بِأَبِي عُبَيْدَةَ فَتَرَاجَعَا سَاعَةً، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَجَاءَ وَالْقَوْمُ مُخْتَلِفُونَ فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي فِي هٰذَا عِلْمًا، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا هُوَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّكُمُ الْفِرَارُ مِنْهُ.» فَحَمِدَ اللّٰهَ عُمَرُ، فَرَجَعَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجِعُوا.

(صحيح بخارى، كتاب الطب، باب ما يذكر في الطاعون:5729-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب الطاعون والطيرة والكهانة ونحوها:2219)

’’وہ عمربن خطاب کے ساتھ تھے جب آپ شام کی طرف روانہ ہوئے، اورجب آپ لوگوں کو سرغ مقام سے لے کرواپس ہوئے توآپ فوجی دستوں کے امراء سے ملے، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح نے اپنے ساتھیوں سمیت آپ سے ملاقات کی (اور بتلایا کہ) شام میں طاعون کی وباپھوٹ پڑی ہے۔ تو سیدنا عمر نے فرمایا:پہلے مہاجرین کو میرے پاس جمع کرو۔ میں نے انہیں آپ کے پاس اکٹھا کیا اور آپ نے ان سے مشاورت کی تو انہوں نے مختلف آراء دیں۔ بعض نے کہاکہ لوگوں کوواپس بھیج دیجیے اور انہیں وبامیں نہ دھکیلیں، جبکہ کچھ نے کہاکہ یہ تواللہ تعالیٰ کی (لکھی ہوئی) تقدیرہے، آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں اسے چھوڑکرواپس مت جائیے۔ سیدنا عمر نے انہیں جانے کاحکم فرمایا، چنانچہ وہ آپ کے پاس سے اُٹھ کرچلے گئے۔ پھرآپ نے فرمایاکہ انصار کو میرے پاس بلا کر لاؤ، میں انہیں بلا لایا تو آپ نے ان سے بھی مشاورت کی، وہ بھی مہاجرین کی راہ پر ہی چلے اور انہی کی طرح اختلاف کیا۔ آپ نے انہیں بھی چلے جانے کاحکم فرمایا، وہ بھی چلے گئے۔ پھرآپ نے فرمایا:فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے آنے والے جو بزرگ یہاں موجود ہیں انہیں بلاؤ، میں انہیں بلا لایا، آپ نے ان سے بھی اس بارے میں مشورہ لیا تو وہ سب ایک ہی رائے پرمتفق تھے کہ واپس چلے جاناچاہیے۔ چنانچہ سیدنا عمر نے لوگوں میں یہ اعلان کرادیاکہ میں سوارہو(کرواپس جا)نے والا ہوں سوتم بھی واپسی کابندوبست کرو، کیونکہ میں اپنی رائے کے مطابق فیصلہ نافذکروں گا، سوتم اس پر نظر رکھو جس کا میں تمہیں حکم دینے والا ہوں، سو انہوں نے اسی پرعمل کیا اور سیدنا عمر سواری پر سوار ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر سوار ہوئے، پھرلوگوں سے فرمایا:میں واپس جارہاہوں۔ تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح ، جو آپ کی مخالفت کرنا ناپسند کیاکرتے تھے، بولے:کیااللہ تعالیٰ کی تقدیرسے فرار ہو رہے ہیں؟ سیدنا عمر (یہ سن کر)غصے میں آ گئے اور فرمایا: اے ابوعبیدہ! کاش یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی، ہاں!میں اللہ کی ایک تقدیر سے فرار ہو کر دوسری تقدیرکی طرف جا رہا ہوں، تمہاری کیا رائے ہے کہ اگرایک آدمی کسی ایسی وادی میں جائے جس کے دو کنارے ہوں، ایک خشک اور دوسرا سرسبز ہو، کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر وہ اپنے جانوروں کو خشک کنارے پر چرائے گا تو وہ بھی اللہ کی (لکھی ہوئی) تقدیر سے ہو گا اور اگر سرسبز کنارے پر چرائے گا تو وہ بھی اللہ کی تقدیر ہی سے ہو گا؟ پھر سیدنا عمر ابوعبیدہ کولے کرتنہائی میں گئے اورکچھ ہی دیر میں دونوں واپس آ گئے، اور (اتنے میں) سیدنا عبدالرحمان بن عوف بھی تشریف لے آئے جو کسی ضروری کام کی وجہ سے وہاں حاضرنہیں تھے، وہ آئے اور اختلاف کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: یقیناً میرے پاس ایک علم ہے؟ سیدنا عمر نے پوچھا:وہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: جب تم کسی علاقے میں وبا پھوٹنے کا سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر و با وہاں پھوٹ پڑے، جہاں تم موجود ہو تو پھر تم اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے مت نکلو۔ سو سیدنا عمر نے (یہ سن)کراللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کوحکم فرمایاکہ وہ واپس چلے جائیں۔‘‘

تبصرہ کریں