
رات کے وقت آگ بجھادینے کاحکم
سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: «لَا تَدَعُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُوا» (صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب لا تترك النار في البيت عند النوم: 6293-صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب الأمر بتغطية الإناء وإيكاء السقاء، وإغلاق الأبواب…:2015)
’’جس وقت تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ جلتی ہوئی نہ چھوڑاکرو۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ
جَاءَتْ فَأْرَةٌ فَأَخَذَتْ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ، فَذَهَبَتِ الْجَارِيَةُ تَزْجُرُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «دَعِيهَا»، فَجَاءَتْ بِهَا فَأَلْقَتْهَا عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «إِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هٰذَا فَيُحْرِقُكُمْ»
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في إطفاء النار بالليل:5247)
’’ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی پکڑ کر اسے گھسیٹنے لگی، ایک بچی اسے بھگانے لگ گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، پھر اس (چوہیا) نے وہ بتی لا کر اس چٹائی پرپھینک دی، جس پر آپﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس بتی نے ایک درہم کی جگہ کے بقدر چٹائی جلا دی، تورسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان اس جیسے جانوروں کی ایسے کاموں میں راہنمائی کرتا ہے اور تمہارے گھروں کو جلا دیتا ہے۔‘‘
گویا ایسے جانوروں کو اس طرح کے نقصان دہ اور ضرر رساں امور شیطان سجھاتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے، تاکہ وہ مسلمانوں کے گھر کو نقصان پہنچا سکے، اس لیے نبیﷺ نے یہ تنبیہ فرمائی کہ سونے سے پہلے گھر کے چراغ بجھا دیا کرو۔ تو ہر وہ چیز جو آگ سے متعلقہ ہو اسے بند کر کے یا بجھا کر سونا چاہیے مثلاًچولہا، ہِیٹر، انگیٹھی، لالٹین، موم بتی، گیزراورگیس کالیمپ وغیرہ۔
شام کے وقت کرنے کے کام
سیدنا جابربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«إِذَا جَنَحَ اللَّيْلُ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ، وَلَوْ أَنْ تَعَرِضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ.» (صحيح بخارى، كتاب الأشربة، باب شوب اللبن بالماء: 5613- صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب الأمر بتغطية الإناء وإيكاء السقاء، وإغلاق الأبواب…: 2012)
’’جب رات چھاجائے یاشام ہوجائے توتم اپنے بچوں کو (گھروں میں) روک لیا کرو، کیونکہ اس وقت شیاطین پھیل جاتے ہیں، لیکن جب رات کاکچھ وقت گزر جائے تو انہیں چھوڑ دیا کرو، اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر دیا کرو کیونکہ شیطان بنددروازہ نہیں کھولتا، بسم اللہ پڑھ کرمشکیزوں کامنہ باندھ دیاکرو، اللہ کے نام سے اپنے برتن بھی ڈھانپ دیاکرو خواہ ان پرکوئی چوڑائی میں ہی کوئی چیزرکھ دیاکرواوراپنے چراغوں کوبجھادیاکرو۔‘‘
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ.»
(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب الأمر بتغطية الإناء وإيكاء السقاء، وإغلاق الأبواب…: 2013-سنن أبوداؤد، كتاب الجهاد، باب في كراهية السير في أول الليل: 2604)
’’جب سورج غروب ہو جائے تو تب تک تم اپنے چوپایوں اور اپنے بچوں کو مت چھوڑو جب تک کہ رات کا اندھیرا اچھی طرح نہ چھا جائے، کیونکہ غروبِ آفتاب کے وقت شیطان بھیجاجاتاہے اور وہ تب تک رہتاہے جب تک کہ اچھی طرح رات نہیں چھا جاتی۔‘‘
سیدنا جابربن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:
«غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَأْ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ»
(صحيح مسلم، كتاب الأشربة، باب الأمر بتغطية الإناء وإيكاء السقاء، وإغلاق الأبواب…:2014)
’’برتنوں کوڈھانپ دواورمشکیزوں کامنہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں ایک وباء اترتی ہے، جوکسی بھی ایسے برتن کے پاس سے گزرجائے جس کوڈھانپانہ گیاہواورکسی بھی مشکیزے کے پاس سے گزرجائے جس کامنہ نہ باندھاگیاہو تووہ وباء اس میں پڑجاتی ہے۔‘‘
سانپ مارنے کاحکم
سالم اپنے باپ(سیدنا عبداللہ بن عمر ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ». قَالَ: وَكَانَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ حَتَّى أَبْصَرَ أَبُوْ لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ
(صحيح بخارى، كتاب بدء الخلق، باب قول الله تعالى: ﴿وبث فيها من كل دابة﴾: 3297- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب قتل الحيات وغيرها: 2233)
’’سانپوں کوماردیاکرو، (خاص طورپر)انہیں جن کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں اورچھوٹی دُم والے موذی سانپ کوبھی، کیونکہ یہ دونوں سانپ بینائی چھین لیتے ہیں اورحمل گرادیتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ہرسانپ کو مار دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ وہ کسی سانپ پر حملہ آورہو رہے تھے کہ ابولبابہ یا زیدبن خطاب نے آپ کو دیکھ لیا اور بتلایا کہ گھرمیں رہنے والے سانپوں کومارنے سے منع کر دیاگیاتھا۔‘‘
آنکھوں کی بینائی زائل کر دینا یا عورت کا حمل گرا دینا، ان کے شدید زہریلے ہونے کی وجہ سے ہے، یعنی سانپ کی ان دوقسموں میں اس قدر زہر ہے کہ یہ بغیر ڈسے بھی انسانی جان پر اثر انداز ہو جاتا ہے اور گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کرنے کی وجہ ایک اور حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ ایسے سانپ اکثر جِن ہوتے ہیں جوسانپوں کے رُوپ میں گھروں میں رہتے ہیں، اس لیے انہیں نہیں مارناچاہیے۔
سیدنا ابوسائب روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَعُودُهُ قَالَ:فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، قَالَ: فَجَلَسْتُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا بِحَيَّةٍ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا لِأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ لَا تَفْعَلْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: تَرَى هٰذَا الْبَيْتَ أَنَّهُ كَانَ فِيهِ ابْنُ عَمٍّ لَنَا حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَكَانَ يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ يَرْجِعُ إِلٰى أَهْلِهِ، فَيَأْذَنُ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَقَالَ: «خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ، أَخَافُ عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ». فَأَقْبَلَ فَإِذَا بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةٌ بَيْنَ الْبَابَيْنِ، فَتَحَ لَهَا الرُّمْحَ، فَقَالَتْ: أَكْبِبْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ حَتَّى تَدْخُلَ فَتَنْظُرَ، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَانْتَظَمَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَ الرُّمْحَ فِي الْحُجْرَةِ وَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ السِّنَانِ، وَاضْطَرَبَ الْفَتَى فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا أَسْرَعُ مَوْتًا، الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ، فَأَخْبَرْنَاهُ وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يُحْيِيَ لَنَا صَاحِبَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ فَإِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا تَبَدَّا لَكُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِذَا تَبَدَّا لَكُمْ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.»
(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب قتل الحيات وغيرها: 2236- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قتل الحيات: 5257)
’’میں سیدنا ابوسعیدخدری کی عیادت کرنے ان کے پاس گیا تو میں نے دیکھاکہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا تو مجھے گھر کے کونے میں پڑی لکڑیوں سے کچھ حرکت سنائی دی، میں نے دیکھا تو وہ سانپ تھا، میں اسے مارنے کے لیے اُٹھا تو سیدنا ابوسعید نے مجھے اشارہ کردیاکہ نہ مارو۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے توانہوں نے (ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)کہا:تُویہ گھر دیکھ رہاہے؟ اس میں ہمارا چچازاد رہتا تھا، اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، وہ خندق کے دِنوں میں نصف النہارکے وقت رسول اللہﷺ سے اجازت لے کر گھر آیا کرتا تھا اور رسول اللہﷺ اسے اجازت دے دیتے تھے، ایک روز اس نے اجازت لی تو آپﷺ نے اجازت دے دی اورفرمایا:
’’اپنا ہتھیار لے جا کیونکہ مجھے تیرے بارے میں بنو قریظہ سے خطرہ ہے(بنوقریظہ دغابازی کرکے دشمن کے ساتھ جاملے تھے)، چنانچہ وہ آیا تو اس کی بیوی دروازے میں کھڑی تھی، اس نے اپنی بیوی کو) اس وجہ سے (مارنے کے لیے نیزہ اُٹھایا) کہ وہ باہر دروازے میں کیوں کھڑی ہے (تواس نے کہا:
اپنا نیزہ سنبھال اور اندر جا کر دیکھ (کہ میں باہر کیوں کھڑی ہوں؟) وہ اندر گیا تو اس نے دیکھاکہ بستر پر سانپ بیٹھا ہوا ہے، اس نے اسے نیزے میں ہی پرو لیا، پھر وہ باہر نکلا اور نیزہ کوٹھڑی میں گاڑ دیا اور سانپ نیزے کے پھل پر تڑپ رہا تھا، اتنے میں وہ نوجوان بھی تڑپنے لگا، پھرپتہ نہیں پہلے کس کی موت آئی، نوجوان کی یا سانپ کی) یعنی دونوں ہی مرگئے۔
سیدنا ابوسعید کہنے لگے کہ پھر ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو یہ واقعہ بتلایا اور ہم نے عرض کیا:
اللہ تعالیٰ سے دعافرمائیے کہ وہ ہمارے ساتھی کو زندہ کر دے، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اپنے ساتھی کے لیے مغفرت کی دعاکرو، مدینہ میں کچھ جِن رہتے ہیں جومسلمان ہوگئے ہیں، سو اگر ان میں سے (سانپ وغیرہ کی شکل میں)کوئی چیز تمہیں نظرآئے تو تین دِن تک اسے خبردارکرو)یعنی اسے وہاں سے جانے کے لیے کہتے رہو (لیکن اگرتین دِن کے بعدبھی وہ تمہیں نظرآئے تو اسے ماردو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘
سیدنا ابوسعید سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:
«إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ، فَمَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا فحَرِّجُوا عَلَيْهِ ثَلَاثًا، فَمَا ظَهْرَ لَكُمْ بَعْدُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ فَاقْتُلُوهُ»
(صحيح مسلم، كتاب الآداب، باب قتل الحيات وغيرها: 2236- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قتل الحيات:5258)
’’یقیناً ان گھروں میں کچھ عمر رسیدہ سانپ ہوتے ہیں، سو جب تم ان میں سے کوئی دیکھو تو تین دِن تک اسے تنگ کرو، لیکن اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو بلاشبہ وہ کافرہے، اسے قتل کردو۔‘‘
تنگ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے اس طرح کی آوازیں دی جائیں کہ تم یہاں سے چلے جا ؤورنہ ہم تمہیں مار دیں گے ۔وغیرہ وغیرہ
٭٭٭
حافظ ارشاد الحق اثری﷾ کی بے اطمینانی اور نماز میں بے سکونی کا خط اور حافظ محمد محدث گوندلوی کا دلچسپ جواب!
حافظ ارشاد الحق اثری ﷾ لکھتے ہیں:
’’ایک بار یوں بھی ہوا کہ اطمینان و سکون جاتا رہا، نہ نماز میں سکون، نہ ذکر و تسبیح پر توجہ، اور نہ مطالعہ میں دلچسپی۔ میں نے اپنی اس کیفیت کا اظہار فوراً خط کے ذریعے سے آپ سے کر دیا اور عرض کی حضرت:
اگر باشد نصیبِ من عطا کن
تو ایں دردِ مرا بارے دوا کن
حضرت نے فوراً اس کا جواب مرحمت فرمایا اور چند اوراد و و ظائف کی تلقین فرما دی، جس کی پابندی سے چند ہی ایام میں یہ کیفیت ختم ہو گئی۔ والحمد لله ثم الحمد لله علیٰ ذلک
مناسب سمجھتا ہوں کہ یہاں اس خط کو من و عن نقل کر دوں، شاید وادیٔ احسان کے کسی مسافر کو اس سے راہنمائی حاصل ہو سکے اور وہ مبارک خط بھی دست برد زمانہ سے محفوظ ہو جائے۔ جسے آج تک میں نے حرزِ جاں بنائے رکھا ہے:
’’عزیز محترم السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
ذکر اللہ اور نمازِ تہجد یہ دو چیزیں ایسی ہیں، جن پر مداومت کرنے سے ان شاء اللہ مقصد حاصل ہو گا۔ تہجد کا تو آپ کو علم ہے ذکر سے بھی اگرچہ آپ واقف ہیں، مگر برائے تنبیہ کچھ عرض کرتا ہوں۔
صبح کی نماز کے بعد سو بار درود ’’صلی اللّٰه علیٰ حبیبه محمد وآله وبارك وسلم‘‘ پڑھیں ۔
اس کے بعد پانچ صد مرتبہ ’’بسم اللّٰه الرحمان الرحیم‘‘ اس کے بعد درود مذکور سو بار پڑھ لیا کریں۔
نمازِ عصر کے بعد درود مذکور سو بار پھر ’’لا حول ولا قوة إلا باللّٰہ‘‘ پانچ صد بار،
جب سو ختم کرنا ہو تو ’’لا حول ولا قوة إلا باللّٰه العلي العظيم ‘‘ پڑھ لیا کریں۔
اس کے بعد درود مذکور سو بار پڑھیں۔ سوتے وقت آیۃ الکرسی اور البقرۃ کی آخری آیتیں:
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ﴾ سے آخر سورت تک پڑھ لیا کریں۔ اور سورۃ آل عمران کی آیت: ﴿الم (1) اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ﴾ داہنی جانب لیٹ کر 21 بار پڑھ کر یہ نیت کر کے دل میں کہہ کر سو جائیں کہ یا اللہ جس طرح تو زندہ ہے، اسی طرح میرا دل زندہ کر۔ والباقي عند التلاقي‘‘۔
(مقالات ارشاد الحق اثری ﷾: 4؍402)
٭٭٭
اخلاق اور تواضع اختیار کیجیے
شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعد فرماتے ہیں :
’’بلندی کی طرف جانے والے سارے راستے تواضع سے ہو کر گزرتے ہیں۔
اخلاق کی ساری خوبصورتی حق کے سامنے جھکنے اور مخلوق کے حق کی تعظیم میں ہے ۔‘‘
( الرياض الناضرة :ص 99)
تبصرہ کریں