
بُرے نام کواچھے نام سے تبدیل کرنا
سیدنا عبد اللہ بنِ عمر سے مروی ہے کہ
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: «أَنْتِ جَمِيلَةُ.»(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب تغيير الاسم القبيح إلى حسن، وتغيير اسم برة إلى زينب وجويرية ونحوهما: 2139- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح: 4952- سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في تغيير الأسماء: 2838- سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب تغيير الأسماء: 3733)
’’نبیﷺنے(ایک عورت کا)عاصیہ نام تبدیل کر دیا اور فرمایا کہ تُوجمیلہ ہے۔‘‘
عاصیہ کا مطلب نافرمان عورت ہے، اس لیے نبیﷺ نے اسے بُرا قرار دیا اور بدل کر اس عورت کا نام جمیلہ رکھ دیا۔
ابنِ مسیّب اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «مَا اسْمُكَ؟». قَالَ: قُلْتُ: حَزْنٌ، قَالَ: «بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ». قَالَ: لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي، قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَفِينَا تِلْكَ الْحُزُونَةُ بَعْدَهُ
(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب اسم الحزن:6190-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح:4956)
’’رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا:حَزن(یعنی تنگی)، آپﷺنے فرمایا: (نہیں)بلکہ تم سہل(یعنی آسانی)ہو۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ میں وہ نام نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے میرا رکھا ہے۔ ابنِ مسیّب کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعدہمیں تنگی ہی درپیش رہی۔‘‘
زینب بنت اُمِ سلمہ بیان کرتی ہیں کہ
كَانَ اسْمِي بَرَّةَ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ زَيْنَبَ، وَدَخَلَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَكَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ.
(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب تغيير الاسم القبيح إلى حسن، وتغيير اسم برة إلى زينب وجويرية ونحوهما: 2142- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في تغيير الاسم القبيح: 4953)
’’میرانام برّہ تھا، تورسول اللہﷺنے میرانام زینب رکھ دیا، زینب بنت جحشؓ آئیں اور ان کا نام بھی برّہ تھا تو آپﷺ نے ان کانام بھی زینب رکھ دیا۔‘‘
عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ
أَتَيْتُ مَعَ أَبِي النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: «مَا اسْمُ ابْنِكَ هٰذَا؟». فَقَالَ: عَزِيزٌ، فَقَالَ: «لَا تُسَمِّيهِ عَزِيزًا وَسَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللّٰهِ.»
(مسند أحمد: 4/178- مسند البزار: 1993- سلسلة الأحاديث الصحيحة:904)
’’میں اپنے باپ کے ساتھ نبیﷺ کے پاس آیا، تو آپﷺ نے (میرے باپ سے) دریافت فرمایا: تمہارے اس بیٹے کا نام کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: عزیز، آپﷺ نے فرمایا:اس کانام عزیز مت رکھو، بلکہ اس کا نام عبدالرحمان رکھ دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو جو نام سب سے زیادہ پسند ہیں وہ عبدالرحمان اور عبداللہ ہیں۔‘‘
ابوالقاسم کنیت رکھنامکروہ ہے۔
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي»
(صحيح بخارى، كتاب المناقب، باب كنية النبي ﷺ: 3539- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة:2134)
’’تم میرا نام رکھ لیا کرو، مگر میری کنیت مت رکھا کرو۔‘‘
سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ
نَادَى رَجُلٌ بِالْبَقِيعِ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّمَا عَنَيْتُ فُلَانًا، فَقَالَ: «تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي». وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْتَنِيَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، كَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا أَوْ غَيْرَهُ
(صحيح بخارى، كتاب المناقب، باب كنية النبي ﷺ: 3537- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن التكني بأبي القاسم وبيان ما يستحب من الأسماء:2131)
’’ایک آدمی نے بقیع الغرقد (جنت البقیع) سے آواز لگائی:اے ابوالقاسم!، رسول اللہﷺ نے مُڑ کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری مراد آپ نہیں ہیں، بلکہ میں نے فلاں کو آواز دی ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا: تم میرا نام رکھ لیا کرو اور میری کنیت مت رکھا کرو۔‘‘
’’ امام شافعی رحمہ اللہ فرمایاکرتے تھے کہ کسی کے لیے بھی یہ جائزنہیں ہے کہ وہ اپنی کنیت ’ابوالقاسم‘ رکھے، خواہ اس کانام ’محمد‘ہویا کچھ اور ہو۔‘‘
نبیﷺکی وفات کے بعدآپﷺ کانام اورکنیت رکھنے کاجواز
سیدناعلی سے مروی ہے کہ
قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرخصة في الجمع بينهما: 4967-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في كراهية الجمع بين اسم النبي ﷺ وكنيته: 2843)
’’انہوں نے (یعنی علی نے) عرض کیا:اے اللہ کے رسول! آپﷺ کی وفات کے بعد اگر میرا بیٹا پیدا ہو تو کیامیں آپﷺ کے نام پر اس کا نام اور آپﷺ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ سکتا ہوں؟ تو آپﷺنے فرمایا:ہاں۔‘‘
سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ
أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَلَا تُكَنِّينِي فَكُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ، فَقَالَ: «بَلِ اكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللّٰهِ». فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللّٰهِ.
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في المرأة تكنى: 4970- الأدب المفرد للبخارى:850)
’’انہوں نے(یعنی عائشہ نے)عرض کیا:اے اللہ کے رسول!آپﷺ کی سب بیویوں کی کنیت ہے، کیا آپﷺ میری کنیت نہیں رکھیں گے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:تم اپنے بیٹے عبداللہ کے نام سے اپنی کنیت رکھ لو، چنانچہ ان کی کنیت اُمِ عبداللہ رکھ دی گئی۔‘‘
بُرے القاب دینے کی ممانعت
ابوجبیرہ بن ضحاک بیان کرتے ہیں کہ
نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَنِي سَلَمَةَ ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ وَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ، فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «يَا فُلَانُ»، فَيُقَالُ لَهُ: مَهْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَإِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هٰذَا الِاسْمِ، فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ [الحجرات: 11]
(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الألقاب: 4962- سنن ترمذى، أبواب التفسير، باب ومن سورة الحجرات: 3268- سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب الألقاب:3741)
’’یہ آیت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ بنوسلمہ کے بارے میں اتری ہے، جب رسول اللہﷺہمارے پاس تشریف لائے توہم میں سے ہرآدمی کے دو نام تھے، رسول اللہﷺ جب (کسی کا نام لے کر) فرماتے کہ اے فلاں!، توآپﷺ سے کہا جاتا کہ اے اللہ کے رسول!یہ نام مت لیجیے، وہ اس نام سے غصہ کرتاہے۔ تویہ آیت نازل ہوگئی کہ
﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ ’’اورایک دوسرے کوبرے القاب مت دو۔‘‘
عمدہ طعام ولباس کاجوازاورحرام ومشتبہات سے اجتناب کی تاکید
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللّٰهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ [المؤمنون: 51] وَقَالَ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ [البقرة: 172] . ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة،: 1015- مسند أحمد:2/328)
’’اے لوگو!یقیناًاللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزہ مال کو ہی قبول فرماتاہے اور بلاشبہ اس نے مومنین کوبھی وہی حکم دیاجواس نے رسولوں کودیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴾
’’اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً میں تمہارے اعمال کو بہت اچھی طرح جانتاہوں۔‘‘
اور فرمایا:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾
’’اے مومنو! جوہم نے تمہیں پاکیزہ رزق عطاکیاہے اس سے کھاؤ۔‘‘ پھر آپﷺ نے ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرے، اس کے بال پراگندہ ہوں اور خود غبار سے اَٹا ہو، وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر ’’اے میرے رب! اے میرے پروردگار!‘‘ کہنے لگے جبکہ اس کا کھانا حرام ہو، اس کا پیناحرام ہو، اس کا لباس حرام ہو اور اسے غذا بھی حرام ہی دی گئی ہو، تو اس کی دعا کیسے قبول کی جاسکتی ہے؟‘‘
اس حدیث میں مذکورہ صفات والے بندے کی مثال اس لیے دی گئی کہ ایسی حالت والابندہ یعنی جوبہت لمبا سفر کر کے آ رہا ہو، اس کے بال پراگندہ ہوں، اس کا جسم گرد وغبار سے اَٹا پڑا ہو، ایسی حالت میں بندہ بہت قابلِ رحم لگتا ہے اور اس پر شفقت کرنے کو جی چاہتا ہے، لیکن اگر ایسے بندے کا کھانا، پینا، لباس حتی کہ اس نے پرورش ہی حرام مال سے پائی ہو تو اس کی ایسی قابلِ رحم حالت کی بھی اللہ تعالیٰ رعایت نہیں کرتا اور اس کی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
قابلِ غوربات یہ ہے کہ جب ایساشخص بھی التفاتِ الٰہی کامستحق نہیں ٹھہرتا تو پھر عام شخص کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اس کی دعائیں توبالاولیٰ قبول نہیں کی جاتی ہوں گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشوانے کے لیے اپنے مال کوقطعی طور پر حرام کی پلیدگی سے بچاناچاہیے۔
سیدنا نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا:
«اَلحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلاَ إِنَّ حِمَى اللّٰهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ، أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ.»
(صحيح بخارى، كتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه: 52- صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب أخذ الحلال وترك الشبهات:1599)
’’حلال بھی واضح ہے اورحرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہات ہیں جن(کے حلال یا حرام ہونے) کابہت سے لوگوں کوعلم ہی نہیں ہے، سو جو اِن مشتبہات سے بچ گیا ، اس نے اپنا دِین اور اپنی عزت دونوں محفوظ کر لیں اور جو اِن مشتبہات میں پڑ گیا وہ اس چرواہے کے مانند ہے، جو (اپنے جانوروں کو ممنوعہ) چراگاہ کے اِردگرد چراتا ہے، بعید نہیں ہے کہ وہ اس چراگاہ میں ہی گھُس جائے، آگاہ رہو! ہربادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور بلاشبہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کے حرام کردہ امورہیں۔ یادرکھو!یقیناًجسم میں ایک ایسا ٹُکڑاہے کہ جب تک وہ درست رہے، ساراجسم ہی درست رہتاہے اور جب وہ خراب ہوجائے توساراجسم ہی خراب ہوجاتاہے، سنو!وہ دِل ہے۔‘‘
٭٭٭
طریق دعوت
ہے وہ کامیاب دعوت، ہے وہ کام گارِ دعوت
جو ہے بے قرار دعوت جو ہے جاں نثار دعوت
یہی فرضِ منصبی ہے یہی شانِ بندگی ہے
ہو ہر ایک مرد مومن کو عزیز کار دعوت
نہ کبھی یہ رُک سکے گا نہ کبھی یہ تھم سکے گا
کہ وہ سیلِ بے کراں ہے جو ہے جوئے بار دعوت
جو جگر کا خون دے کر اسے سینچتے رہے ہم
تو چمن میں کیوں نہ آئے کبھی پھر بہار دعوت
نہ تو دارِ حرب ہی ہے نہ تو دارِ ضرب ہی ہے
یہ دیار بند اپنا ہے زبسکہ دار دعوت
کبھی شعلہ وہ بنے گی کبھی روشنی بھی دے گی
جو کسی کے دل میں کچھ بھی ہونہاں شرار دعوت
ہو جہاں لحاظ حکمت ہو وہیں زبان شیریں
ہے یہی طریقِ دعوت ہے یہی شعار دعوت
کبھی خارزار ہوگی کبھی شعلہ بار ہوگی
نہیں سیج وہ گلوں کی جو ہے رہ گزار دعوت
جو ہو سعی و جہد کامل جو خلوص بھی ہو شامل
نہ ہو کیوں مدام روشن رخ تاب دار دعوت
چلو مل کے سب اُٹھا ئیں چلومل کے سب سنبھالیں
ہے بہت گراں اگر چہ یہ متاعِ بار دعوت
ہو جہاں لحاظ حکمت ہو وہیں زبان شیریں
وہ ابوالبیاں یقیناً ہے یہ کاروبار دعوت
مولانا ابولبیان حماد
٭٭٭
حسن وحسین کی نانی سیدہ خدیجہ بنت خویلد
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد نہایت دانش مند، دین دار اور حسب ونسب والی خاتون تھیں۔ وہ بہت بلند کردار اور نیک اطوار شخصیت کی حامل تھیں۔
سیدہ خدیجہ نبی کریمﷺ کی بہترین بیوی ثابت ہوئیں۔ آپﷺ کو سیدہ خدیجہ کا ہر طرح کا مالی واخلاقی تعاون حاصل رہا۔ سیدہ خدیجہ رسول اللہ ﷺ کی دکھ سکھ کی ساتھی تھیں۔
سیدہ خدیجہ کے بہت سے فضائل ہیں۔ نبی کریمﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: میرے پاس جبریل آئے اور کہا: ’’ خدیجہ کو جنت میں جوف دار موتی سے بنے ایک گھر کی خوشخبری دے دیجیے جس میں نہ شوروغل ہو گا نہ تھکن کا احساس ۔‘‘ (صحیح بخاری: 3819)
سیدہ کو رب تعالیٰ کی رضا حاصل تھی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جبریل نے مجھ سے کہا:جب سیدہ خدیجہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں رب تعالیٰ کا اور میرا سلام پہنچا دیجیے۔‘‘ (صحیح بخاری: 3820)
اللہ تعالیٰ کو سیدہ خدیجہ سے محبت تھی، فرشتوں کو بھی ان سے محبت تھی اور نبی کریمﷺ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ کہتے تھے: ’’ مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم: 2435)
٭٭٭
تبصرہ کریں