
مردکے لیے ریشم پہننے اورنیچے بچھانے کی ممانعت
سیدنا ابنِ عمررضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَارَسُولَ اللّٰهِ! لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ». ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى مِنْهَا عُمَرَ حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَبِيعَهَا أَوْ لِتَكْسُوَهَا». فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب الحرير للنساء:5841، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء: 2068)
’’سیدناعمررضی اللہ عنہ نے مسجدکے دروازے کے پاس ایک دھاری دارعمدہ پوشاک فروخت ہوتی دیکھی تو عرض کیا:اے اللہ کے رسول!کیوں نہ آپﷺ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دِن اور جس دِن آپﷺ کے پاس وفد آئیں اس دِن پہن لیا کریں، تو رسول اللہﷺنے فرمایا:اسے تو وہی پہنے گا جس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر رسول اللہﷺ کے پاس اسی طرح کی کچھ پوشاکیں آئیں تو آپﷺ نے ان میں سے ایک پوشاک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!آپ یہ مجھے پہننے کے لیے دے رہے ہیں حالانکہ آپ تو اس کے متعلق یہ فرماچکے ہیں جو آپ نے فرمایا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:میں یہ تمہیں اس لیے نہیں دے رہا کہ اسے تُو پہن لے، بلکہ میں تو اس لیے دے رہا ہوں تاکہ تُو اسے فروخت کر دے یا اسے کسی کو پہنا دے۔ توسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پوشاک اپنے ایک مشرک علاتی بھائی کو پہنا دی، جو مکہ میں رہتا تھا۔‘‘
سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللّٰهِ ﷺ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا وَخَرَجْتُ فِيهَا، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَكَأَنَّهُ كَرِهَهُ، فَقَالَ لِي: «مَا أَعْطَيْتُكَهَا لِتَلْبَسَهَا» فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي
(صحيح بخارى، كتاب الهبة، باب هدية ما يكره لبسها: 2614، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء:2071)
’’رسول اللہﷺکوایک دھاری دارعمدہ پوشاک تحفہ دی گئے، آپﷺ نے وہ مجھے بھیج دی، میں وہ پہن کر نکلا تو آپﷺ نے مجھے یوں دیکھا کہ جیسے آپ نے اسے ناپسند کیا ہے، پھر آپﷺ نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لیے نہیں دی تھی کہ اسے تُو پہن لے۔ چنانچہ آپﷺ نے مجھے حکم فرمایا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔‘‘
دیگرروایات میں اس کی وضاحت ملتی ہے کہ وہ وشاک ریشم کی تھی اورریشم چونکہ مردوں کے لیے جائز نہیں ہے، اس لیے آپﷺنے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار اور اتار دینے کا حکم فرمایا۔
سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب لبس الحرير وافتراشه للرجال، وقدر ما يجوز منه: 5832، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء: 2073)
’’جوشخص دنیامیں ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔‘‘
ابنِ ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ
اسْتَقَى حُذَيْفَةُ، فَأَتَاهُ دِهْقَانُ بِإِنَاءِ فِضَّةٍ فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب لبس الحرير وافتراشه للرجال، وقدر ما يجوز منه: 5831، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، الباب الأول: 2967)
’’سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک دہقان چاندی کے برتن میں پانے لے آیا، آپ نے اسے پکڑ کر پھینک دیا اور فرمایا:یقیناً رسول اللہﷺ نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے، ان میں کھانے اور موٹے وباریک ریشم پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، اور آپﷺ نے کا فرمان ہے کہ یہ(سب کچھ) ان کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں۔‘‘
’’ان کے لیے دنیا میں ہے‘‘ سے مراد کافروں اور ان لوگوں کے لیے جو ان کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود انہیں استعمال کرتے ہیں، اور ایسے لوگوں کو آخرت میں ان تمام چیزوں سے محروم رکھا جائے گا جبکہ مؤمنین کو وہاں یہ سب بہ طورِ انعام وتکریم پیش کی جائیں گی۔
عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:
«الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حَرَامٌ، وَحَلَالٌ لِإِنَاثِهِمْ»(السنن الكبرى للبيهقى: 3/275، سلسلة الأحاديث الصحيحة:1865)
’’ریشم اور سونا میری اُمت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔‘‘
کڑھائی وغیرہ میں ریشم استعمال کرلینے کی رخصت
سویدبن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ
خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ.(صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، الباب الأول: 2069)
’’سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پہ خطبہ دیا اور فرمایا: رسول اللہﷺنے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، سوائے دو، تین یا چار انگلیوں کی جگہ کے بہ قدر۔‘‘
سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ
إِنَّمَا نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ، فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَسَدَى الثَّوْبِ فَلَا بَأْسَ بِهِ.
([صحيح دون قوله فأما العلم…] سنن أبوداؤد، کتاب اللباس، باب الرخصة فى العلم وخيط الحرير: 4055 ، الإرواء: 279)
’’نبیﷺنے خالص ریشم کا کپڑا پہننے سے منع فرمایا، البتہ ریشم کی کڑھائی اور کپڑے کا تانا ریشمی ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘
اس حدیث میں ’’ریشم کی کڑھائی‘‘کے الفاظ ضعیف ہیں، اس کے علاوہ دونوں حکم صحیح ہیں، یعنی خالص ریشم کی ممانعت اور ریشمی تانے والے کپڑے کی رخصت۔
دورانِ جنگ اورخارش کی صورت میں ریشم پہننے کی رخصت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ فِي سَفَرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَ يَجِدُهَا بِجِلْدِهِ، وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب ما يرخص للرجال من الحرير للحكة: 5839، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب إباحة لبس الحرير للرجل إذا كان به حكة أو نحوها: 2076)
’’رسول اللہﷺ نے عبد الرحمان بن عوف کو ان کے جسم پر خارش ہو جانے کی وجہ سے ریشم کاقمیض پہننے کی رخصت دی تھی۔‘‘
عطاء کے دامادابوعمربیان کرتے ہیں کہ
رَأَيْتُ عِنْدَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَلْبَسُ هَذِهِ فِي الْحَرْبِ(السنن الكبرى للبيهقى:3/268)
’’میں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس ایک جُبّہ (چوغہ) دیکھا جس پر موٹے ریشم کے بٹن لگائے گئے تھے، انہوں نے بتلایا کہ رسول اللہﷺ جنگ کے موقع پر اسے پہناکرتے تھے۔‘‘
یعنی یہ دو اضطراری صورتیں ہیں جنہیں ریشم کے عام حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور دورانِ جنگ یابہ صورتِ خارش ریشمی لباس پہننے کی رخصت دی گئی ہے۔
مردوں کے لیے زعفرانی اورزردرنگ کے کپڑے پہننے کی ممانعت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ
(صحيح بخارى، كتاب اللباس، باب النهي عن التزعفر للرجال: 5846، صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب النهي عن التزعفر للرجال:2101)
’’نبیﷺ نے مرد کو زعفرانی رنگ استعمال کرنے سے منع فرمایاہے۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ
رَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَقَالَ: «هَذِهِ ثِيَابُ أَهْلِ النَّارِ، فَلَا تَلْبَسْهَا»(صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر: 2077، مسند أحمد:2/193)
’’رسول اللہﷺ نے مجھ پر دو زرد رنگ کے کپڑے دیکھے توفرمایا: یہ جہنمیوں کے کپڑے ہیں، تم یہ مت پہنو۔‘‘
یہ دونوں چونکہ نسوانی رنگ ہیں اور ایسے کپڑے پہننے سے عورتوں کی مشابہت لازم آتی ہے، اس لیے آپﷺ نے ان سے منع فرمایا۔
نمودونمائش والاکپڑاپہننے پروعید
سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللّٰهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.» وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، وَزَادَ: «ثُمَّ تَلَهَّبُ فِيهِ النَّارُ.»
(سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في لبس الشهرة: 4029، سنن ابن ماجه، كتاب اللباس، باب من لبس شهرة من الثياب: 3606، صحيح الجامع للألبانى: 6526)
’’جس نے دنیامیں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے روزِقیامت ذِلّت کالباس پہنائے گا۔ اورعثمان بن ابی زرعہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ’’پھراس میں آگ بھڑکے گی۔‘‘
گندے اورمیلے کپڑے پہنناناپسندیدہ عمل
سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
أَتَانَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا، فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا، فَقَالَ: «أَمَا كَانَ هٰذَا يَجِدُ مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ؟» وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: «أَمَا كَانَ هٰذَا يَجِدُ مَا يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ؟»(سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في غسل الثوب وفي الخلقان: 4062، سنن نسائى، كتاب الزينة، باب تسكين الشعر: 5236)
’’رسول اللہﷺ بغرضِ ملاقات ہمارے گھر تشریف لائے تو آپﷺ نے ایک پراگندہ بالوں والے شخص کو دیکھا تو فرمایا:کیا اسے ایسی کوئی چیزنہیں ملی جس سے یہ اپنے بال سنوار لے؟ اورآپﷺ نے ایک شخص کو میلے کچیلے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے ایسی کوئی چیزنہیں ملتی جس سے یہ اپنے کپڑے دھولے؟‘‘
صاف ستھرالباس پہننے کی ترغیب
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ». فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! الرَّجُلُ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «إِنَّ اللّٰهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ»
(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب تحريم الكبر وبيانه: 91، سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في الكبر: 1999)
’’جس شخص کے دِل میں ذرہ برابربھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا اور جس کے دِل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور اس کا جوتا اچھے ہوں (تو کیا یہ بھی تکبر ہے)؟ تو رسول اللہﷺ فرمایا: یقیناًاللہ تعالىٰ خوبصورت ہے)اور(خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبریہ ہے کہ آدمی حق کوٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر جانے۔‘‘
یعنی صاف ستھرا لباس پہننا، عمدہ جوتا پہننا اور نفاست سے رہنا تکبر میں شمار نہیں ہوتا، کیونکہ تکبر سے مراد تو یہ ہے کہ آدمی حق بات کو قبول کرنے سے انکار کرے اور لوگوں کو اپنے سے کم مرتبہ سمجھے اور ان کے ساتھ حقارت آمیز رویہ اپنائے۔
ابو احوص اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا:
أَبْصَرَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَيَّ خُلْقَانًا فَقَالَ: «أَلَكَ مَالٌ؟»، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَنْعِمْ عَلَى نَفْسِكَ كَمَا أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْكَ»(سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب في غسل الثوب وفي الخلقان: 4063، سنن نسائى، كتاب الزينة، باب ذكر ما يستحب من لبس الثياب…: 5294)
’’نبیﷺ نے مجھے پرانے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں، آپﷺ نے فرمایا:جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعام فرمایا ہے اسی طرح تو بھی اپنی جان پر انعام کر۔‘‘یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ہے تو نئے کپڑے خرید کر پہن۔
عمروبن شعیب اپنے باپ کے واسطے سے اپنے داداسے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
«كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ، فَإِنَّ اللّٰهَ سُبْحَانَهُ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهُ عَلَى عَبْدِهِ»
(سنن ابن ماجه، كتاب اللباس، باب البس ما شئت ما أخطأك سرف أو مخيلة: 3605)
’’کھاؤ، پیو، صدقہ وخیرات کرو اور ایسا لباس پہنو جو بڑائی اور فضول خرچی والا نہ ہو، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ پسندفرماتاہے کہ وہ اپنے بندے پراپنی عطاکی ہوئی نعمت کے اثرات دیکھیں۔‘‘
٭٭٭
تعلیم و تربیت کے مرکز یا ڈگریاں بیچنے والی دکانیں؟
مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’دینی تعلیم وتربیت کے اصول و آداب‘ میں ایک واقعہ لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا نذیر احمد رحمانی جو جامعہ رحمانیہ بنارس میں طلبہ کی تعلیم وتربیت پر مامور تھے۔ ان کو خبر ملی کہ ایک طالب علم سینما دیکھنے کا عادی ہے۔ ایک رات وہ مدرسے کے ہاسٹل سے غائب رہا اور تحقیق کرنے پر ثابت ہوا کہ وہ سینما دیکھنے گیا تھا۔ مولانا رحمانی نے اس لڑکے کو مدرسے سے نکال دیا۔ محلے کے لوگوں نے سفارش کی کہ یہ لڑکا آٹھویں جماعت کا ہے۔ اس کا آخری سال ہے، دو تین مہینے میں پڑھ کر فارغ ہو جائے گا۔ مہربانی فرما کر اس کو داخل کر لیں ورنہ اس کا سال خراب ہو جائے گا۔
مولانا رحمانی نے فرمایا: تو کیا ناتربیت یافتہ طالب علم کو رکھ کر میں اس کو سند دے کر اس کی سند پر دستخط کروں گا کہ یہ لڑکا صحیح اعمال و اخلاق کا ہے؟ کیا میرا خون اس وقت سفید ہو جائے گا کہ ایسے باؤلےپن کو اختیار کروں اور اس کو سند دے دوں؟
(دینی تعلیم وتربیت کے اصول و آداب، ص 53)
تبصرہ کریں