زندگی کو صحت مند، پرسکون اور موثر کیسے بنائیں؟ قاری شفیق الرحمٰن زاہد

زندگی کو پُرسکون بنانے کے لیے روح اور جسم دونوں کا سکون ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے ہمیں فطرت کے مطابق سادہ زندگی گزارنی چاہیے، جو تکلفات سے پاک ہو۔ تن آسانی والی زندگی سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، رسول اکرمﷺ اپنا کام خود کرنا پسند کرتے اور کام میں اپنے گھر والوں کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے۔

حدیث میں ہے کہ نماز آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، تلاوت قرآن اور اذکار نافعہ سے دل کو اطمینان نصیب ہوتا ہے، نیک اعمال سے انسان کی روح کو سکون ملتا ہے۔ جب کہ جسم کے سکون کے لیے طب نبوی کی صورت میں رہنمائی ہے، مثلاً

ہر معاملہ میں اعتدال سے کام لیا جائے ، کھانے میں بسیار خوری سے بچا جائے ، بھوک رکھ کر کھایا جائے، سونے کے آداب اور مسنون طریقے کو اختیار کیا جائے ، جیسے بائیں پہلو پر سونے سے جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، سانس لینے میں دشواری، دلی امراض اور معدے کی خراب لازم آتی ہے۔

بلاشبہ اسلام انسانی زندگی کے ہر معاملہ اور ہر مسئلہ کے متعلق رہنمائی مہیا کرتا ہے، جان کی حفاظت اور صحت مند زندگی کی رہنمائی شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں سے ہے۔ موجودہ زمانے میں مصنوعی خوراک، فاسٹ فوڈ کا کثیر استعمال اور فطری زندگی سے دوری کے نتیجے میں جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں لازم ہے کہ دین اسلام کی روشنی میں میڈیکل سائنس اور طب نبوی کا مطالعہ کیا جائے، تا کہ روح و جسم کو سکون میسر ہو سکے۔

روح کے سکون کی فکر کیجئے

روح بیمار ہو یا جسم، یا دونوں ہی ، ہر ایک صورت میں انسان صحت کے ساتھ پر سکون زندگی نہیں گزار سکتا۔ بلکہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جسم تبھی بیمار ہوتا ہے جب روح بیمار پڑتی ہے، اگر روح تندرست ہو تو جسم بیمار نہیں ہوسکتا، جب روح گناہوں میں لت پت ہو تو جسم کیسے بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، اس لیے کہ روح بھی تو اسی جسم کا حصہ ہوتی ہے۔ جب روح کی غذا نہیں ملتی تو وہ بیمار پڑ جاتی ہے، جس کے بعد جسم لاغر اور بیمار ہو جاتا ہے، ویسے بھی دیکھا جائے تو جسم کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور اسپیشلسٹ بہت زیادہ ہیں، مگر روح کے معالج بہت کم اور خال خال ہیں۔

1۔ زندگی کو پُرسکون بنانے کے اصول

زندگی کو صحت مند بنانے کے لیے خود کو خوشگوار رہنے کی عادت ڈالیں، خوشگوار رہنے کے لیے شکر گزار ہونا ضروری ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرنے سے دل مطمئن اور پُرسکون ہوتا ہے۔ اسی طرح مثبت سوچ اور اچھے خیالات سے زندگی پُر سکون رہتی ہے، حسد اور منفی خیالات سے انسان دلی طور پر جلتا اور کڑتا رہتا ہے۔

زندگی کو پُرسکون بنانے کے لیے اچھے تعلقات، نیک دوست اور اہل علم کی مجلس اختیار کریں، جہاں سے نئے افکار ونظریات ملیں گے، جس سے نیت صاف، جذبات اور عمل میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ حدیث میں اچھے اور برے دوست کی مثال خوشبو بیچنے والے اور لوہار کے ساتھ دی گئی ہے۔

سید نا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«إِنما مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ ، وجَلِيسِ السُّوءِ ، كَحامِلِ المِسْكِ ، ونافخ الكيرِ ، فَحامِلُ المِسْكِ»

’’نیک دوست اور برے دوست کی مثال کستوری والے اور لوہار کی بھٹی کی سی ہے۔“ (صحيح بخاری: 2101؛ صحیح مسلم: 2628)

2۔ دلوں کا سکون ذکر الٰہی میں ہے

سکون حاصل کرنے کے لیے انسان ساری زندگی محنت و مشقت کرتا ہے، تا کہ اُس کی زندگی قائم ہو جائے ، دنیوی ساز وسامان کو اکٹھا کرتا، روپے پیسہ جمع کرتا، گھر گاڑی اور ائیر کنڈیشن ماحول وغیرہ تمام چیزوں سے جسم کا سکون تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر روح کا سکون اور اندر کا اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔ دلوں کا سکون عالی شان محلات اور دنیاوی آرائش سے نہیں بلکہ ذکر الٰہی میں ہے اور جب تک دل سکون میں نہیں، زندگی کبھی پرسکون نہیں ہو سکتی۔

جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے:

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾

’’وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں ۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔‘‘(سورۃ الرعد: 28)

3۔ نماز، قرآن، اذکار نافعہ اور دعائیں، سب ذکر الٰہی ہیں:

قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دلوں کا سکون یادِ الٰہی میں ہے، پروردگار عالم کے ذکر سے مضطرب دلوں کو قرار ملتا ہے اور زندگی کے اندھیروں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ افسوس! ہم بیماریوں کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر اس کے علاج کی فکر نہیں کرتے، یقیناً قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی روح کو سکون ملتا ہے ۔ مثلا

نماز کے بارے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

« جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة.»

’’نماز میں میری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے ۔“ (سنن نسائی: 3939)

جب نماز کا وقت ہو جاتا تو رسول اکرم ﷺ سیدنا بلال حبشی کو کہتے تھے:

«يَابِلَالُ أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ»

”اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ ۔“ (سنن ابوداؤد: 3985)

4۔ منفی خیالات اور بری عادات سے جان چھڑائیں

حسد، کینہ، بغض اور عداوت انسان کی روح اور جسم دونوں کو شدید متاثر کرتے ہیں، اس کے برعکس معاف کرنا، در گزر کر دینا، غیبت نہ کرنا اور کسی مسلمان بھائی کی ٹوہ میں نہ رہنے سے جسم وروح کو سکون نصیب ہوتا ہے۔

جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے سلسلے میں قرآن مجید میں تقریباً نو مقامات پر حلال وطیب کھانے کا حکم دیا ہے۔ پاکیزہ کھانا، کھانے میں اعتدال اور میانہ روی سے کام لینا اور بھوک رکھ کر کھانا مسنون ہونے کے ساتھ زندگی کو پر سکون بھی بناتا ہے۔

5۔ ایمانی اور جسمانی طور پر قوی مومن

ایمان، نیک عمل اور جسمانی لحاظ سے مضبوط اور قوی مومن کمزور سے بہتر اور افضل ہے۔

دوسری احادیث میں ستی، کا ہلی اور فضول کاموں میں مصروف رہنے سے اللہ تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے، جو عادتیں انسان کو اطاعت سے غافل کریں وہ کسی طرح بھی قابل تعریف نہیں ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ایمانی اور جسمانی طور پر مضبوط مومن کی تعریف کی گئی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«المؤمن القوى خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف وفي كل خير»

’’طاقت ور مؤمن اللہ کے نزدیک کمزور مؤمن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے، جبکہ خیر دونوں میں (موجود) ہے۔“ (صحیح مسلم: 2664)

6۔ موجودہ ابتری کا ایمان کے نور سے علاج

اس وقت جب کہ پورا ملک افراتفری اور نفسانفسی کا شکار ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی و اجتماعی سطح پر تو بہ کی جائے، ذکر الٰہی کو اپنا شیوہ بنایا جائے ، مسنون دعاؤں اور اذکار نافعہ کا اہتمام کیا جائے ، ان کے سیکھنے سکھانے کا بھر پور اہتمام کیا جائے ، علماء کرام اور اہل اللہ کی مجالس کو اختیار کیا جائے، روحانیت و ایمان کی شمع فروزاں کی جائے۔ یقیناً اسی طریقے سے ایمان کی حلاوت نصیب ہوتی اور مایوسی کا سایہ چھٹتا ہے۔

کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، کا تفسیری مفہوم

کھانا پینا، دنیاوی نعمتوں کو استعمال کرنا اور زیب وزینت کرنا دینداری اور تقوی کے منافی نہیں، بلکہ جو چیز تقوی کے خلاف ہے وہ اسراف و تبذیر ہے، یعنی فضول خرچی اور بے جا خرچ کرنا۔ اس لیے اللہ کریم نے اعتدال کا حکم دیا ہے اور کھانے پینے میں بھی افراط و تفریط سے منع کیا ہے۔

﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴾ (سورۃ الاعراف: 31)

’’اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا ۔“

آیت کریمہ کا شان نزول

اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے، جو تمام شریعت کے احکام کی روح ہے، اللہ تعالیٰ بھی اعتدال کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ خوبصورتی اور جمالیات کو اسلام پسند کرتا ہے مگر انسان اپنا سارا وقت بس کھانے پینے اور لباس میں صرف کر دے، یہ عادت اور طریقہ اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے۔

بعض سلف کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نصف آیت میں علم طب کو جمع کر دیا ہے، یعنی تم کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو۔ (تفسير ابن كثير : 3؍406)

٭ تقویٰ، کھانے پینے کو ترک کرنے کا نام نہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ صرف اتنا کھاتے جس سے وہ زندہ رہ سکیں، اسی طرح حج کے دنوں میں چکناہٹ والی کوئی چیز نہیں کھاتے تھے ، وہ ایسا حج کی عظمت کی وجہ سے کرتے تھے ۔ اس صورت حال میں مسلمانوں نے بھی نبی کریمﷺ سے پوچھا کہ ہم بھی ایسا ہی کریں تو اللہ تعالی نے آیت کریمہ نازل فرمادی:

﴿ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 31)

’’اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا ۔ “ (تفسير ابن كثير :3؍406)

اسلام نے جسمانی صحت کا بھی خیال رکھا ہے

دین اسلام تمام شعبہ ہائے زندگی کے عملی مسائل کا حل پیش کرتا ہے، مثلاً انسان کے ذاتی فائدے اور مصلحت کے لیے کھانے پینے کے آداب اور حلال و حرام تک کی تفصیل کتاب وسنت میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں علم طب کے اصول اور طب نبوی میں اس کی جزئیات ذکر ہیں، تاکہ مؤمن بندہ جسمانی صحت کے ساتھ دین اور دنیا کے تمام کاموں کو بہتر طریقے سے سرانجام کر سکے ۔

یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنیادی عقیدہ ، روح کا سکون ، جسمانی صحت کے اصول اور دنیوی زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مکمل رہنمائی کتاب وسنت کی صورت میں نازل فرمائی ہے:

﴿أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ (سورۃ لقمان:20)

’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمہاری خاطر مسخر کر دیا ۔‘‘

قرآن مجید میں پاکیزہ کھانے کا حکم

اگر ہم قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو تقریباً 9 مقامات پر اللہ تعالی نے حلال اور طیب کھانے کا حکم دیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾ (سورۃ البقرة: 168)

’’ اے لوگو! ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال، پاکیزہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

آیت کا تفسیری مفہوم

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ پاکیزہ اور حلال رزق کھاؤ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جو غذا کھا رہے ہیں کیا حلال اور پاکیزہ ہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ ہم جو کھا رہے ہیں کیا وہ ہمیں تقویت دے رہی ہے یا بیماری میں مبتلا کر رہی ہے؟

یہاں ایک بنیادی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ غذا کیوں کھائی جائے؟ کھانے کے حوالے سے مسلمان کا اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ کھانا اس لیے کھائے کہ اس سے حاصل ہونے والی قوت اور توانائی سے اللہ کی عبادت اور دین و دنیا کے امور بہتر طریقے سے انجام دے سکے۔ اگر غذا کا مقصد محض لذت اور شکم سیری ہو تو یہ نفسانی خواہش کو جنم دیتا ہے۔

کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ مقامات پر اسراف اور تبذیر سے سخت منع کیا ہے، بلکہ فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾

”بے شک بے جا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں۔“(سورۃ الاسراء: 27)

پاکیزہ کھانے میں بھی اعتدال کا حکم ہے

غذا سے متعلق ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اسے کتنا کھایا جائے ۔ اس حوالے سے بھی قرآن و حدیث ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِي ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَىٰ﴾(سورۃ طہ: 81)

’’ان پاک چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں اور ان میں حد سے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ یقیناً تباہ ہو گیا۔“

٭ بسیار خوری کے نتیجے میں آنے والا موٹا پا اپنے ساتھ کئی مہلک بیماریاں لے کر آتا ہے، جن میں سے دل کے امراض، ذیا بیطس، بلڈ پریشر اور ہڈیوں کے امراض شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 1975 سے 2016ء کے درمیان لوگوں میں موٹاپے کی شرح تین گنا بڑھ چکی ہے۔

اس ضمن میں ایک حدیث میں اس مرض (بسیار خوری) کے مہلک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

سیدنا مقدام بن معدیکرب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَا مَلَا آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ ، حَسْبُ الْآدَمِيِّ، لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ غَلَبَتِ الْآدَمِيَّ نَفْسُهُ ، فَثُلُثٌ لِلطَّعَامِ ، وَثُلُثٌ لِلشَّرَابِ، وَثُلُثٌ لِلنَّفَسِ »

’’آدمی پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ آدمی کو تو چند لقمے کافی ہیں جن سے اس کی کمر سیدھی رہے۔ اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے (اور وہ زیادہ کھانا چاہے ) تو ایک تہائی کھانے کے، ایک تہائی پینے کے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھ لے بس۔)‘‘

( سنن ابن ماجہ: 3349؛ جامع ترمذی: 2380)

رسول اکرم ﷺ کے کھانے کا معمول

صحت مند کے اصول، جسمانی اور روحانی سکون کے لیے سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنا وقت کی شدید ضرورت ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا کھانے کے متعلق معمول ذکر کیا جاتا ہے۔

آل محمد ﷺ کا کھانے میں طرز عمل

اس حوالے سے سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں:

مَا شَبعَ الُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلَاثَ لَيَالِ تَبَاعًا ، حَتَّى قُبِضَ

’’محمد ﷺ کے گھر والوں کو مدینہ آنے کے بعد کبھی تین دن تک مسلسل گندم کی روٹی کھانے کے لیے نہیں ملی،یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کی روح قبض ہو گئی ۔‘‘ (صحيح بخاری: 6454)

پوری زندگی نبی کریم ﷺ کے کھانا کا معمول

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَا شَبعَ آل مُحَمَّدٍ ﷺ مِنْ طَعَامِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ

’’محمدﷺ کے اہل وعیال نے تین دن مسلسل کبھی کھانا سیر ہو کر نہیں کھا یا حتی کہ آپ کی روح قبض ہوگئی ۔“ (صحيح بخاری: 5374)

منبر رسول پر نبی کریم ﷺ کے کھانے کا تذکرہ

صحابہ کرام کھانے کے مسنون عمل اور طریقہ کو بھی اہمیت دیتے اور اسے اپنے خطبات میں بیان کرتے تھے، جیسے سید نا نعمان بن بشیر نے خطبہ کے دوران تمام لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کے کھانے کا معمول بتایا۔

سیدنا نعمان بن بشیر نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ سیدنا عمر نے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگوں نے دنیا میں سے کیا کچھ حاصل کر لیا ہے۔ پھر فرمایا:

لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ الله صلى الله عليه وسلم يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِى ، مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَا بِهِ بَطْنَهُ

’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا آپ پورا دن بھوک سے بل کھاتے تھے اور آپ کو سوکھی ہوئی اتنی سخت کھجور بھی میسر نہ ہوتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے ۔“ (صحیح مسلم: 2978)

قرآن واحادیث میں بسیار خوری کی مذمت

عربی زبان کی ضرب المثل ہے: الْبطْنَةُ، تُذهبُ الْفِطْنَة

پیٹ بھر کر کھانا فطانت اور ذہانت کو ختم کر دیتا ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ زیادہ پیٹو بن کر کھانا اور ذہانت ایک جسم میں جمع نہیں ہو سکتی۔ ایسے ہی بے شمار احادیث میں کم کھانے کی ترغیب اور زیادہ کھانے کی مذمت ہے۔

قرآن وحدیث میں زیادہ کھانے کے نقصانات

میں کبھی سوچتا ہوں اور مجھے یہ احساس گھیر لیتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں تلاش کرنے سے بھی مریض نہیں ملتا تھا، جب کہ آج تلاش کرنے سے بھی کوئی ایسا بندہ نہیں ملے گا جہاں ادویات کے ڈبے نہ ہوں، لہٰذا ضروری ہے کہ اس بنیادی نقطے اور فرق کو واضح کیا جائے کہ اسلام کے مطابق لوگوں کو صحت کے متعلق آگاہی دی جائے ۔

صحت اصول جو قیامت تک قائم رہے گا اور یہ طب نبوی کی سب سے بڑی بنیاد ہے، اس کا نام اعتدال ہے، جاگنے سے لے کر سونے تک، عبادات سے لے کر معاملات تک اور زندگی کے ہر ہر مسئلے میں ایک اعتدال کو قائم رکھنا ہی حکم الٰہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی کام سے حد سے تجاوز نہیں کیا، نہ کھانے میں، نہ سونے میں اور نہ ہی ازدواجی زندگی میں، اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ہمیں بہت سی بیماریوں نے جو گھیر لیا ہے اس کی بنیادی وجہ ہر کام میں حد سے تجاوز ہے، خواہ وہ کھانا پینا ہو جو جسم کو بھی بیمار کرتا ہے یا پھر گناہوں کی لت ہو جو روح کو بھی مریض بناتی ہے۔

1۔ جانوروں کی طرح ہر وقت کھانا کفار کا طرز عمل ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ﴾ (سورۃ محمد:12)

’’اور کا فردنیا کے فائدے اٹھاتے ہیں جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں۔“

2۔ جتنا زیادہ کھاؤ گے ، روز قیامت اتنے بھوکے رہو گے۔ اس سلسلے میں سیدنا سلمان سے روایت ہے، ان سے ایک کھانا کھانے پر اصرار کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: بس بس کافی ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے:

«إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا ، أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ( سنن ابن ماجہ: 3351)

”دنیا میں زیادہ سیر ہونے والے لوگ قیامت کے دن زیادہ طویل عرصے تک بھو کے رہیں گے۔“

میڈیکل سائنس کی تصدیق اور کم کھانے میں عافیت

آج کی میڈیکل سائنس بھی اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ کم کھانے میں صحت ہے، بسیار خوری سے موٹاپا اور بدن کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں، جس سے جسم سست اور کاہل ہوتا ہے ۔ سید نا عبد اللہ بن عمر کا معروف قول ہے:

“أيها الناس، إياكم والبطنة، فأنها مكسلة عن ا الصلاة، مفسدة للجسد، مورثة للسقم”

’’اے لوگو! زیادہ کھانے سے بچو، یقیناً یہ نماز سے ست کرتا ، جسم کو خراب کرتا اور بیماریوں کو لانے کا سبب بنتا ہے۔‘‘

سیدنا عمر و بن شعیب کے پردادا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ، وَلَا مَخِيلَةٍ»

’’ کھاؤ اور صدقہ کرو اور لباس پہنو مگر فضول خرچی اور تکبر نہ ہو۔“ ( سنن نسائی: 2559)

زیادہ کھانے پر ڈکار کو نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے

سید نا عبد اللہ بن عمر کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا، تو آپﷺ نے فرمایا:

«كُفَ عَنَّا حُشَاءَ كَ فَإِنَّ أَكْثَرَهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

’’ تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا۔“ (جامع ترمذی: 2478)

مومن ایک آنت سے کھاتا اور کا فرسات آنتوں سے کھاتا ہے:

سید نا عبد اللہ بن عمر ا کیلے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ کسی مسکین کو بلا کر اس کے ساتھ مل کر کھاتے تھے ۔ امام نافع ﷫ نے ایک آدمی کو ان کے پاس کھانے کے لیے روانہ کیا ، اُس آدمی نے بہت زیادہ کھایا۔

سید نا عبد اللہ بن عمر اس کے سامنے کھانا رکھتے جاتے اور وہ کھاتا جاتا، یہ صورت حال دیکھ کر سید نا ابن عمر نے نافع سے کہا (آئندہ) اسے میرے پاس مت بھیجنا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: «الكافرُ يَأْكُلُ في سبعة أمعاء والمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعى واحدٍ»

” مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ (صحيح بخاری: 5393)

کھانے کے متعلق صحابہ و تابعین کا معمول

سید نا عبد اللہ بن عمر سے ایک دفعہ ایک آدمی نے کہا:

کیا آپ کو جوارش نہ پیش کروں؟ انہوں نے پوچھا: جوارش کیا ہوتی ہے؟ اس نے کہا: کھانا ہضم کرنے کی دوا ہے۔ اس پر سیدنا ابن عمر نے کہا : میں نے چار ماہ سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، اس لیے نہیں کہ میرے پاس وسائل نہیں بلکہ اس لیے کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہوا ہے جو پیٹ بھرنے کی بجائے زیادہ تر بھوک میں رہتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: 3؍222؛ حلیۃ الأولياء لابی نعیم الاصفہانی:1؍300)

وقت کے ولی امام عباد بن عباد ﷫ کا قول ہے:

’’شکم سیری ( پیٹ بھر کر کھانے ) میں تمہاری موت ہے، بھوک میں تمہاری خوش نصیبی ہے، جب بھی پیٹ بھر کر کھاؤ گے، بوجھل ہو جاؤ گے، سوتے رہ جاؤ گے۔ دشمن کے قابو میں آجاؤ گے ، دشمن گھٹنے ٹیک کر تمہارے اوپر بیٹھ جائے گا اور اگر تم بھو کے رہو گے تو تم دشمن کا شکار کرو گے۔‘‘ (كتاب الجوع از ابن ابی دنیا:ص: 149)

زیادہ کھانا ضائع کرنے کے مترادف ہے

جب بھی انسان اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا کھائے گا تو وہ ضائع جائے گا کیونکہ انسانی جسم کو ایک حد تک ضرورت ہوتی ہے اس سے زائد فضلہ کی شکل میں باہر نکل جاتا ہے جو کسی کام نہیں آیا ہوتا اس لیے اتنا کھا ئیں جتنا آپ کے جسم کے کام آئے ۔

امام حسن بصری ﷫ کی موجودگی میں ان کے کسی ساتھی کو کھانے کی دعوت دی گئی ۔ تو اس نے کہا: میں اتنا کھا چکا ہوں کہ مزید گنجائش نہیں یہ بات سن کر امام حسن بصری ﷫ نے فرمایا:

“سبحان الله ويأكل المسلم حتى لا يستطيع أن يأكل.”

’’سبحان اللہ ! کیا کوئی مسلمان اتنا بھی کھا لیتا ہے کہ مزید گنجائش ہی نہ بچے۔‘‘

امام سفیان ثوری ﷫ کی نصیحت :

کبار ائمہ دین اپنے شاگردوں کو کم کھانے کی تاکید کرتے تھے۔ معروف محدث امام سفیان ثوری ﷫ نے با قاعدہ لکھ کر اپنے شاگر دعثمان بن زائدہ ﷫ کو یہ نصیحت ارسال کی:

إِنْ أَرَدتَ أَنْ يُصِحَ جِسْمُكَ، ويَقِلَّ نومك، فأقل من الأكل

’’اگر تندرستی اور نیند میں بہتری چاہتے ہو تو کھانا کم کرو۔“ (كتاب الجوع از ابن ابی دنیا ، ص: 150)

صحت مند بننے کے لیے 10 اصول

1۔ کھا نا صرف دو وقت کھائیں

دنیا میں لوگ بھوک سے نہیں زیادہ کھانا سے مرتے ہیں۔ اس عادت کی بدولت آپ صحت مند رہیں گے اور موٹاپے کا شکار نہیں ہوں گے، نیز آپ مختلف موذی امراض (شوگر ، بلڈ پریشر ) سے بھی بچ سکیں گے۔

2۔ قیلولہ کریں

دو پہر کو قیلولہ کریں ۔ یہ مسنون بھی ہے اور جسمانی صحت کے لیے ضروی بھی۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ قیلولہ ذہنی تناؤ کو ختم کرتا ہے، اس سے ہارٹ اٹیک کا چانس کم ہوتا ہے اور عمر طویل ہوتی ہے۔

قیلولہ کے متعلق سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم عالم کا ارشاد مبارک ہے:

«قِيْلُوا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَقِيلُ »

’’ تم قیلولہ کیا کرو، بے شک شیطان قیلولہ نہیں کرتا ہے۔“(صحيح الجامع: 4431؛ سلسلہ صحيحہ: 1647)

3۔ چینی کا استعمال ترک کر دیں

روز مرہ زندگی سے چینی نکال دیں۔ اس کے بجائے قدرتی میٹھا جیسے گڑ، شکر اور پھل زیادہ استعمال کریں۔ تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ چینی زہر قاتل ہے۔

4۔ چہل قدمی کریں

خود کو حرکت میں رکھیں۔ چہل قدمی کرنا مسنون ہے، رسول اکرم ﷺ نے دو مرتبہ سیدہ عائشہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا، ایک مرتبہ سیدہ عائشہ جیت گئی اور دوسری بار نبی کریم ﷺ جیت گئے۔ (سنن ابوداود: 2578)

اسی طرح صحابہ کرام کے درمیان گھڑ سواری، دوڑ اور دیگر مقابلہ ہوا کرتے تھے۔ جس کی تفصیل کو امام ابن القیم ﷫ نے اپنی کتاب ” الفروسیۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔

آج سائنس اس حقیقت کو ثابت کر چکی ہے کہ دنیا میں 100 سال سے زائد عمر پانے والے افراد میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ حرکت میں رہتے ہیں۔

5۔ کم کھانا

ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ یہ سنت بھی ہے اور اس سے آپ کا نظام انہضام (Metabolism) بہتر رہتا ہے ۔ طبی تحقیق کے مطابق اس سے معدے اور گلے کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں۔

اس سے متعلقہ درج بالا احادیث گزر چکی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ کم کھایا یا بھوک رکھ کر کھانا تناول فرمایا ہے۔

6۔ شور بے والا سالن

شور بے والا سالن جسم کو نمک اور پانی کی کمی سے بچاتا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں یا بیماری کے دوران۔ اس میں شامل مائع کی وجہ سے یہ ہضم کے لیے مفید ہوتا ہے اور معدے کی تکلیف کو کم کرتا ہے۔

احادیث میں امہات المؤمنین کو خصوصی رسول اکرم ﷺتاکید کرتے تھے کہ گوشت والے سالن میں شور بہ زیادہ کر لیا کرو، تا کہ کچھ اپنے ہمسایوں کے گھر بھی بھجوادو۔

سیدنا ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی:

«يا أبا ذَرِّ إذا طَبَخْتَ مَرَقَةً ، فأكْثِر ماءَها ، وتَعَاهَدْ جيرانَكَ»(صحیح مسلم: 2625)

”اے ابوذر! جب تم شور با پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو۔“

7۔ جلدی سونا

جلدی سونے سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے، جس سے آپ گہری اور پر سکون نیند لے سکتے ہیں ۔ یہ ذہنی امراض جیسے ڈیپریشن اور اینزائٹی کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ نیند کے دوران جلد کے خلیات کی مرمت اور دوبارہ بننے کا عمل تیز ہوتا ہے، جس سے جلد کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

رسول اکرم ﷺ کا معمول اور حکم تھا کہ مغرب کے بعد سونا اور عشاء کے بعد فضول باتیں کرنا منع اور سخت نا پسند تھا۔

سیدنا ابو برزہ اسلمی بیان کرتے ہیں:

كانَ النَّبِيُّ ﷺ يكرَهُ النَّومَ قبلَ العِشاء، والحديث بعدها

’’نبی کریم ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور بعد میں باتیں کرنے کو نا پسند فرماتے تھے۔“ (جامع ترمذی: 16)

8۔ زکوۃ اور صدقہ دیتے رہیں

زکوۃ، عشر، صدقہ اور خیرات ضرور دیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رزق اور عمر میں اضافہ ہوتا اور برکت بھی ہوتی ہے۔ زکوۃ مال کا حق ہے، جو مستحقین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم ہے، اس سے خدمت خلق کر کے انسان ذہنی اور دلی سکون محسوس کرتا ہے۔

صلہ رحمی کرنے سے رزق میں اضافہ اور عمر میں برکت کی گارنٹی حدیث رسول میں موجود ہے۔ الفاظ یہ ہیں: «مَن أحَبَّ أن يُبْسَط له في رزقه ، وأن يُنسأ له في أَثَرِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ»(صحيح بخاری: 2067)

’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔“

9۔ میانہ روی اختیار کریں

زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کا راستہ اپنا ئیں۔ اس محدود زندگی کو شان دار بنانے کے لیے وسائل کی نہیں بلکہ اطاعت، قبول کرنے اور میانہ روی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اعتدال کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب کو بھی دیا اور اہل ایمان کی صفات میں اس کو شمار کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا﴾ (سورۃ الفرقان: 67)

’’ اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔“

10۔ سوشل میڈیا سے دوری

سوشل میڈیا کا استعمال مثبت اور انتہائی محتاط کیا جائے، نابالغ بچوں اور بچیوں کو تعلیم پر توجہ دینے میں والدین اپنا بھر پور کردار ادا کریں، بچوں کو سمارٹ فون، گیمز اور سوشل میڈیا کے کثیر استعمال سے منع کریں۔ والدین اور گھر کے بڑوں کو بھی چاہیے کہ اپنا وقت سوشل میڈیا اور سیاسی گفتگو میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ کا ذکر میں مصروف کریں اور حتی الا مکان فیملی کو وقت دیں۔ یقیناً گھر میں بیوی بچے ہمارے حسن سلوک کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔

ام المومنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«خيرُكُم خَيْرُكُم لِأَهْلِهِ وأنا خيرُكُم لأهلى »

’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہترہوں۔“ (جامع ترمذی: 3895)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگی میں سکون عطا فرمائے ، صحت و سلامتی اور عافیت کے ساتھ مال و جان ، عزت و آبرو اور تمام معاملات کی اصلاح فرما دے، تا کہ ہم امت کی سطح موثر کردار ادا کر سکیں ۔ آمین

٭٭٭

اپنی طرف توجہ دو

سیدنا ابو الدرداء فرماتے ہیں:

لا تحاسبوا الناس دون ربهم، ابن آدم عليك نفسك

’’لوگوں کا محاسبہ نہ کرتے پھرو، یہ کام ان کے رب پر چھوڑ دو، تم بس اپنی طرف توجہ دو۔‘‘

(حلیلۃ الاولیاء: 1؍ 212)

٭٭٭

تبصرہ کریں