زندگی میں مصائب کا سامنا کیسے کریں؟پروفیسر سینیٹر ساجد میر

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿ مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ﴾ (سورة التغابن: 11)

ہر طرح کی حمد و ثناء، شکر و تعریف، اللہ رب العالمین کے لیے جو مالک الملک، خالق کل، عالم کل ہے۔ درود و سلام، صلوۃ و تسلیم سید الانبیاء سید البشر خاتم النبیین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم کے لیے، جو امام کائنات اور رحمت کائنات ہیں۔

ہماری اس دنیا میں، دنیا کی زندگی میں آرام بھی ہے، راحتیں بھی ہیں، رنگینیاں بھی ہیں، عیش و عشرت بھی ہے۔ جن کو مل جائے اور دوسری طرف سب پر تقریباً مصیبتیں بھی آتی ہیں۔ تکلیفیں بھی آتی ہیں، آزمائشیں بھی آتی ہیں، بیماریاں بھی آتی ہیں، آفتیں بھی آتی ہیں۔ غم اور خوشی اس دنیا کے اندر ملے جلے ہیں۔ کبھی یہ کیفیت کبھی وہ کیفیت۔ مگر آخرت میں دونوں کو الگ الگ کر دیا جائے گا۔ کچھ لوگوں کے لیے آرام ہی آرام ، راحت ہی راحت ہے۔ مزے ہی مزےہیں، اور کچھ لوگوں کے لیے مسلسل تکلیفیں ہیں۔ مکمل عیش و آرام اور مکمل راحت دنیا میں نہیں ملتی،آخرت میں ملتی ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«اَللَّهُمَّ إِنَّ العَيْشَ عَيْشُ الآخِرَهْ» (صحیح بخاری : 2834)

اصل زندگی اور اصل مزہ آخرت کا ہے۔ اصل زندگی ہی وہ ہے۔ اس دنیا کے بارے میں تو کہا كسی کہنے والے نے کہ

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا

کہ نہ ہنستے میں رو دیا ہو گا

دل زمانے کے ہاتھ سے سالم

کوئی ہو گا، جو رہ گیا ہو گا

تو اس دنیا میں اسی طرح ہے، یہاں غم اور خوشی ملے گی۔ اس لیے تکلیف اگر آتی ہے تو مومن پر بھی آتی ہے بلکہ بعض اوقات شاید زیادہ آتی ہے ، لیکن مؤمن دنیا کے مصائب، دنیا کی تکلیفوں اور دنیا کی مشکلات کو کس طرح فیس کرتا ہے یا برداشت کرتا ہے۔ اس کی آج بات کرنی ہے۔ ان شاءاللہ۔ مصائب اور ایمان یہ ہمارا موضوع ہے۔

ایمان مصیبت، تکلیف یا مشکل جھیلنے اور برداشت کرنے میں ہماری کیا مدد کرتا ہے؟ کیسے کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا : جو آیت ابھی میں نے پڑھی ہے۔

﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ (سورة التغابن: 11)

کسی کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، اللہ کے علم اور حکم سے ہوتی ہے۔ اس کے اذن سے ہوتی ہے۔ فرق کیا ہے مؤمن اور غیر مؤمن میں تکلیف اور مصیبت کے حوالے سے؟ جو ایمان والا ہوتا ہے، اللہ اس کے دل کو سہارا دے دیتا ہے، ثابت کر دیتا ہے، قائم کر دیتا ہے، کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ فرق ہے۔ آتی مؤمن پر بھی ہے، لیکن اس کا دل اس کو برداشت کرنے کے قابل بنا دیا جاتا ہے۔ کس طرح؟ کیا چیزیں ہیں؟ وہ کیا فیکٹر ہیں؟ وہ کیا عناصر ہیں، جو مل کر مومن کے لیے تکلیف اور آزمائش کو جھیلنا، برداشت کرنا، فیس کرنا، مقابلہ کرنا، آسان اور ممکن بنا دیتی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مؤمن اپنے ایمان کی سے یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز عارضی ہے، فانی ہے۔ خوشی ہے تو بھی گزر جائے گی، یہ بھی عارضی ہے۔ اس پہ تکیہ کر کے نہیں بیٹھنا۔ غم ہے، تکلیف ہے، مصیبت ہے، بیماری ہے، پریشانی ہے۔ تو یہ بھی عارضی ہے۔ وقتی ہے۔ وقت لمبا بھی ہو سکتا ہے، لیکن بالآخر اسے گزر جانا ہے۔ جیسے پہلے کہا کہ صرف آخرت وہ جگہ ہے۔ جنت اور دوزخ وہ جگہ ہے۔ جہاں کے آرام اور جہاں کی تکلیفیں مستقل ہیں۔ یہاں کی زندگی جیسی بھی ہو گزر جاتی ہے۔ یہ پہلی چیز ہے جو مؤمن کو سہارا دیتی ہے اور اس بات کو سمجھانے کے لیے نبی اکرم ﷺ نے ایک بڑی خوبصورت مثال دی، بلکہ آخرت میں ہونے والا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ ایک نہیں کئی واقعات ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا، یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ فرمایا:

دنیا کے بہترین، خوشحال ترین، خوش ترین ، تھوڑی بہت تکلیف تو آتی ہے، مجموعی طور پہ بہترین زندگی بسر کرنے والا بندہ، لیکن اس کے ایمان میں کمی ،عمل میں کمی،جس کی وجہ سے اسے آگ کی نذر کیا جائے گا اور زیادہ نہیں، تھوڑی دیر کے بعد اللہ اسے نکال کے طلب کرے گا۔ ہاں بھئی، دنیا میں تیری زندگی کیسی گزری؟ وہ کہے گا کہ یا اللہ میں نے تو آرام اور راحت اور مزہ کبھی دنیا میں چکھا ہی نہیں۔ مجھے پتہ ہی نہیں ،یہ کیا ہے۔ یہ جھوٹ بول رہا ہے، یہاں تو بول سکتے ہیں۔ وہاں اللہ کے سامنے نہیں بول سکتے۔ بولیں گے، تو سچ سچ بولیں گے صحیح بات بتائیں گے۔ اپنی طرف سے یہ بھی صحیح بات بتا رہا ہے، اس کے ذہن میں مزے کے جو نقش تھے۔ دنیا کی آرام راحتیں وہ بھول گئی ہیں، بالکل صاف ہو گئی ہیں ذہن سے۔ اس لیے کہتا ہے کہ مجھے تو آرام کا پتہ ہی نہیں کہ کسے کہتے ہیں۔ دنیا میں بھی ویسے ہی کام۔ دوسری طرف آپ نے فرمایا، وہ بندہ یا وہ بندے،جس پر بڑی تکلیفیں گزریں۔ غربت تھی، پریشانی تھی، بیماری تھی، آزمائشیں تھی، تکلیفیں تھیں، لیکن ایمان تھا ،عمل اچھا تھا۔ تکلیفوں کے باوجود یقین و ایمان کو سینے سے لگا رکھا تھا۔ اس ایمان کے مطابق چلنے کی کوشش بھی کرتا رہا۔ آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھا۔ اللہ کو یاد رکھا۔ اللہ کے سامنے پیش ہونے کو یاد رکھا۔ اسے بھی جنت کی ذرا سی معمولی ہوا یا تھوڑی سی سیر کرا کے، دکھلاوے کے بعد اسے بھی پیش کیا جائے گا۔ اس سے بھی پوچھا جائےگا۔ دنیا میں تیری زندگی کیسی گزری بھئی؟ اب حقیقت کیا ہے؟ کہ وہ مسلسل تکلیف اور مصیبت اور پریشانی میں رہا: لیکن سب بھول گیا۔ ایک جنت کی ہوا نے اس کو سب کچھ بھلا دیا اور اب وہ کہتا ہے کہ جی مجھے تکلیف کا پتہ ہی نہیں کہ تکلیف کس چیز کا نام ہے۔ مصیبت کسے کہتے ہیں، مجھے تو نہیں پتہ۔ میں بڑے مزے میں رہاہوں دنیا میں۔ یہ بھی سچ بول رہا ہے۔ جو سمجھ رہا ہے، وہی اس کی زبان سے نکل رہا ہے۔ لیکن ہوا کیا؟ کہ دنیا کی تکلیف اور آسانی چونکہ عارضی تھی۔ وہ ختم ہو گئی، گزر گئی، ماضی کا قصہ بن گئی۔ اب ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ تو اس مثال اور اس ہونے والے واقعہ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں اگر راحت آتی ہے تو اسے مستقل نہ سمجھو ۔ اگر تکلیف آتی ہے تو اسے بھی مستقل نہ سمجھو ،یہ سب گزر جانے والی باتیں ہیں۔ تو تکلیف اور مصیبت میں، آزمائش میں پہلا سہارا مؤمن کو اس چیز سےملتا ہے کہ جو بھی ہے یہ گزر جائے گی۔ ختم ہو جائے گی۔ دوسری بات، جب یقین یہ ہو، ایمان اس بات پر ہو کہ ہم اللہ کے بندے اور اس کی ملکیت ہیں، اس کے غلام، اس کے پیدا کیے ہوئے اور اس کے پورے قبضے میں اور ہم اس کے ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا ہے، یہ جو ہم نقصان یا کسی کی وفات کے وقت پڑھتے ہیں اور ایسے موقع پر پڑھنے کے لیے جو الفاظ قرآن نے سکھائے، وہ کیا ہیں:

﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ﴾ (سورة البقرة: 156)

غور تو کریں، یہ بہت اونچی بات ہے دونوں باتیں جو اس کلمے میں کہی گئیں ۔ انا للہ ہم اللہ کے ہیں۔ وہ جس طرح چاہے ہمیں رکھے۔ اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ہمارے پاس انا للہ ، ہم اللہ کے ہیں۔ بس بات ختم ہوئی ۔ جب اس کے ہیں تو پھر اس کی مرضی ہے۔ آرام میں رکھے یا تکلیف میں رکھے۔ جیسے بھی رکھے اور جانے والے بھی اس کی طرف ہیں۔ لوٹنے والے بھی اس کی طرف ہیں۔ وہاں جا کے ان مصیبتوں کا، تکلیفوں کا، ان کو برداشت کرنے کا، صبر کرنے کا، بدلہ ان شاءاللہ ہمیں وہاں ملے گا۔ یہ ہے اس کلمے کا مفہوم اور یہی کلمہ ہے ایمان، یقین ہے کہ ہم اللہ کے ہیں۔ یہ دو لفظی بات، ہم اللہ کے ہیں۔ یہ بھی مومن کو بڑا سہارا دیتی ہے۔ اگر اسے یقین ہو، اس بات پہ، دل سے یہ سمجھتا ہوں، اللہ کے ہیں اور اللہ نے ہمیں خریدا ہوا ہے ، ہمارا مال بھی، ہماری جانیں بھی، اس نے خریدی ہوئی ہیں۔ ہیں بھی اس کی، اور اس نے پھر خرید بھی لی ہوئی ہیں۔ اب کہاں جائیں؟ جیسے رکھے گا، ٹھیک ہے۔ تیسری بات، ایمان جو سہارا دیتا ہے، وہ اس بات سے بھی دیتا ہےکہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ جو ہمیں زندگی میں اچھا یا برا مل رہا ہے۔ اس کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا ہے اور وہ لکھا جا چکا ہے۔ وہ اللہ کے پاس لکھا ہوا ہے ۔ اس نے جو لکھ کر رکھا ہے وہ ویسے ہی ہوگا۔ تو پھر مصیبت اور تکلیف سے گھبرانا کیا ؟ اور خوشی کی بات سے بہت زیادہ خوش ہونا کیا؟ اس کا کوئی جواز نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو جو کچھ ہے، وہ لکھا ہوا ہے اور اللہ کے حکم سے آتا ہے اور تمہیں یہ بات اس لیے بتائی ہے۔

﴿ لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ﴾ (سورة الحديد: 23)

جو تمہیں نہیں ملا اس پر زیادہ، ضرورت سے زیادہ اور بہت زیادہ افسوس نہ کرو اور جو ملا ہے اس پر ضرورت سے زیادہ خوشی کا اظہار بھی نہ کرو اور ٹھیک ہے نارمل لو اس کو۔ دیا ہے تو اللہ کا شکر کرو۔ نہیں دیا تو اللہ کی رضا پر اس کے حکم پر اور اس کے فیصلے پر صبر کرو۔ تو یہ بات کہ یہ لکھی جا چکی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ لکھے ہوئے پر۔

﴿ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ (سورة الرعد: 39)

اللہ چاہے تو لکھے ہوئے کو بدل دے ، خود کچھ اور لکھ لے، لیکن جب تک اس کی کتاب میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح ہوناہے۔ اس کے علاوہ کوئی صورت ہی نہیں اور کسی اور طرح واقع ہونے کی ۔ تو مؤمنوں کا یہی کلمہ ہے، جو قرآن میں مؤمنوں کو سکھایا ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ مؤمنوں کا یہی کلمہ ہوتا ہے۔

﴿ قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا﴾ (سورة التوبه: 51)

ہرگز ہرگز ہمیں نہیں ملے گا، ہمیں نہیں پہنچے گا، مگر وہ جس کو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا۔ ہمیں وہ نہیں ملے گا جو ہمارے لیے لکھا ہوا نہیں ہے۔

چوتھی بات مؤمن یہ بھی جانتا ہے کہ دعوی ایمان کرنے والے پر مصیبتیں زیادہ آتی ہیں۔ اسے آزمایا جاتا ہے۔

﴿الم 0 أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ (سورة العنكبوت: 1-2)

لوگوں نے کیسے یہ سمجھ لیا؟ کیوں سمجھ لیا؟ کہ ایمان لانے کے بعد وہ آزمائے نہیں جائیں گے۔ آزمائے جائیں گے۔ آزمائش ہو گی آزمائش تکلیف اور مصیبت سے ہو گی۔ دعویٰ ایمان کے بعد آزمائش آتی ہے:

﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم﴾ (سورة آل عمران: 214)

تم نے کیسے سمجھ لیا کہ تم سیدھا جنت میں چلے جاؤ گے۔ ابھی تو تمہیں وہ تکلیفیں اور آزمائشیں نہیں آئیں، جو پہلوں پر آتی رہیں ۔ آئیں گی، تم بھی آزمائے جاؤ گے تو پھر جنت کے قابل بنو گے۔

پانچویں بات، مؤمن کا یقین یہ بھی ہے کہ اللہ حالات بدلنے پر قادر ہے۔ وہ قدرت رکھتا ہے۔ اگر آج بیماری یا تکلیف ہے ،مصیبت ہے تو اسے بدلنا بھی اس نے ہے۔ وہ بدل سکتا ہے اور وہی بدلےگا۔

﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ﴾ (سورة الأنعام: 17)

اے سننے والے! نبی بھی اس میں شامل ہے مخاطبین میں، اے مخاطب! اے سننے والے! اے قرآن پڑھنے والے! اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو یاد رکھ اس کو کھولنے والا، اس کو ہٹانے والا، اللہ ہے اور کوئی نہیں ۔ تو اس لیے مؤمن اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اتنے اتنے پریشان کن اور مایوس کن حالات تھے، سیدنا یعقوب کے۔ ایک بیٹا عرصے سے گم ہے ۔ دوسرے بیٹے کہتے ہیں اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ خیال ہے، انہوں نے اس کو کہیں مار دیا ہے یا کہیں پھینک دیا ہے، کیا کیا ہے؟ کچھ پتہ نہیں۔ دوسرے کو بھی غائب کر دیا۔ پریشانی بہت ہے۔ لیکن کہتے کیا ہیں؟

﴿وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ﴾ (يوسف: 87)

اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔

دوسری جگہ فرمایا:

﴿يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ﴾ (سورة يوسف: 87)

جاؤتلاش کرو اپنے بھائیوں کی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔

کوئی انہیں واپس لا سکتاہے،بازیاب کراسکتاہے ۔یہ یقین بھی مومن کو بڑ ااطمینان دلاتاہے۔

چھٹی بات یہ کہ مؤمن مصیبت میں بھی،اگر آئی ہوئی ہے،اس پر زیادہ نظر کرنے کی بجائے اللہ کی نعمتوں کی طرف زیادہ دیکھتاہے،کہ تکلیف ہے تو آج بھی تکلیف کے ساتھ اس کی نعمتیں بھی بہت ہیں،اس کے احسان بھی بہت ہیں۔ماضی میں اس تکلیف کے بغیر کتنا عرصہ میں نے یہ زندگی گزاری ہے۔وہ اس کا شکر کرتاہے،اس کے ساتھ ساتھ آئی ہوئی تکلیف پر صبر کرتاہے۔یہ طریقہ ہے مؤمن کا کہ مصیبت کے وقت بھی اللہ کی نعمتوں کو بھلاتا نہیں ہے۔یاد رکھتاہے ۔

جیسے ایک صحابی کا واقعہ آتا ہے کہ پاؤں میں تکلیف تھی۔ جب لوگوں کو شوگر کا تو پتہ نہیں تھا، شاید شوگر ہی ہو، اس کی وجہ سے پاؤں میں زخم ہو گیا۔ طبیب نے کاٹنے کا مشورہ دیااور کہا کہ اس کے لیے نشہ آور دوائی دینی پڑے گی۔ انہوں نے کہا تم کاٹو، میں اللہ کا ذکر کرتا ہوں، تم کاٹو۔ لیکن اصل بات یہ بتانی ہے کہ کاٹنے کے بعد لوگ افسوس کے لیے، ہمدردی کے اظہار کے لیے آئے، وہ اللہ کا شکر کر رہے تھے، کہہ رہے تھے کہ اتنے سال میری عمر ہو گئی ہے، دو پاؤں، دو ہاتھ اللہ نے رکھے، چار تھے نا، ان میں سے ایک اب اس نے لے لیا، اس نے دیا تھا ،اس نے لے لیا، کوئی بات نہیں۔ یہ ہے سوچ مومن کی۔ تو یہ احساس اور یہ یقین کہ تکلیف آئی تو اس کی طرف سے ، نعمتیں دینے والا بھی وہی ہے۔

﴿ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ﴾ (الشعراء: 80)

میں جب بیمار ہوتاہوں،وہ شفا دیتاہے۔

ابراہیم کہتے ہیں، اللہ کا تعارف کرا رہے ہیں، اس کی صفات، اس کی عظمتیں بیان کر رہے ہیں، اس کے احسانات کا ذکر کر رہے ہیں۔ میں بیمار ہوتا ہوں تو شفاء بھی مجھے وہی دیتا ہے۔ تو یہ ہے مومن کا یقین۔

اور یہ بھی مومن جانتا ہے کہ اصل مصیبت وہ ہے جو اللہ سے، اس کی یاد سے، اس کی نعمتوں سے غافل کر دے۔ اصل مصیبت وہ مصیبت ہے، جو بھی مصیبت یا تکلیف، یا کوئی چیز، راحت ہو یا مصیبت ہو، آتی ہے اور اللہ کی یاد سے، اللہ کے ساتھ تعلق سے غافل کر دیتی ہے، اس کے ذکر سے غافل کر دیتی ہے، تو یہ ہے اصل مصیبت اور اگر مصیبت ہے اور اس پر صبر ہے اور شکر ہے اور ایمان قائم ہے اور بندہ اپنی جگہ پر کھڑا ہے تو پھر یہ مصیبت نہیں۔ یہ Blessing in Disguise ہے۔مصیبت کے پردے میں چھپی ہوئی نعمت ہے۔ مؤمن اس پر صبر کرے گا، شکر کرے گا، مصیبت پر اس کے گناہ کم ہوں گے، اس کے گناہ دھوئے جائیں گے، اس کے درجات بلند ہوں گے۔ یہ کیسے ہوا؟ یہ کس نے کیا؟ گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی کیسے ہوئی، یہ کس نے کی؟ یہ مصیبت میں، مصیبت میں آ کر ہوئی۔ اس لیے یہ مصیبت نہیں، مصیبت کے پردے میں چھپی ہوئی اللہ کی نعمت ہے۔ مصیبت تب ہے جب اللہ سے ہم ہٹ جائیں، اللہ سے غافل ہو جائیں۔

اگلی بات، مصیبت میں، تکلیف میں، اللہ کی طرف رجوع کرنے کا زیادہ موقع ملتا ہے، اس میں کرنا چاہیے۔ اللہ کا ذکر، ذکر جس بھی مسنون شکل میں ہو،تلاوت قرآن، درود شریف، استغفار، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ، سُبْحَانَ اللہِ، اَلْـحَمْدُ لِلَّہِ اور دوسرے اذکار، یہ بھی مصیبت کے وقت بڑا سہارا دیتا ہے۔ قرآن کا فیصلہ، قرآن کا علاج۔

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ (سورة الرعد: 28)

خبردار سن لو! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر سے ہے۔ تو مؤمن جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو مصیبت کاٹنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔

بئر معونہ کاجو واقعہ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ ایک صحابی کو تیر لگا، زخم سے خون بہہ رہا ہے، موت کا اندیشہ ہے اور صحابی موت کے دروازے پر ہے، لیکن اللہ کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے :

«فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ» (صحیح مسلم:2801)

کعبے کے رب کی قسم! میں کامیاب ہو کے جا رہا ہوں دنیا سے۔ یہ مؤمن کا رویہ ہے تکلیف کے وقت۔

اور اسی طرح انس بن نضر ۔ احد میں، ان کے جسم پر اسی کے قریب زخم آئے، وہ بھی دنیا سے جا رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کو بھیجتے ہیں کہ زخمیوں کو تلاش کرو، کون زخمی ہے؟ کون فوت ہوا ہے؟ کون شہید ہوا ہے؟ اور آپ خاص طور پہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہمارا انس بن نضر نہیں آ رہا، اس کا بھی پتہ کریں اور اگر ملے تو میری طرف سے اسے سلام پہنچانا اور اس کا حال پوچھنا۔وہ ملے، آخری وقت تھا، سلام دیا، انہوں نے ’وعلیکم السلام‘ کہا اور پھر انہوں نے کہا کہ ’’اللہ کے نبی پوچھتے ہیں:کَیْفَ تَجِدُكَ، ’’تیرا حال کیا ہے؟‘‘ مومن کا جواب کیا تھا:

“إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ.” (مسند أحمد:13658 )

میں اس حال میں ہوں کہ مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ یہ اطمینان ہے، مؤمن کا، تکلیف میں، موت کے دروازے اور دہانے پہ کھڑے ہو کر کہہ رہا ہو۔ مجھے جنت کی خوشبو آر ہی ہے۔

خبیب پکڑے گئے۔ کافروں نے کہا: ’’اس کو سولی پہ چڑھاؤ۔‘‘ سولی پہ چڑھایا تو کسی نے کہا ، ابو سفیان نے کہا: ’’اس وقت تو دل کے اندر یہ خواہش ہوگی کہ اس سولی کے تختے پہ نہ بیٹھا ہوتا، محمد بیٹھے ہوتے ‘‘اس نے کہا ’’ کیسی باتیں کرتے ہو؟ مجھے تو یہ بھی برداشت نہیں کہ ان کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھے اور میری جان بچ جائے! اور جہاں تک میرا تعلق ہے،

«مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا» (صحیح بخاری:3045)

مجھے کوئی پروا نہیں کہ جب میں سولی کے بعد، پھانسی کے بعد مر جاؤں گا تو دائیں کروٹ پہ گروں گا، بائیں پہ گروں گا، کیا ہو گا؟ جسم کے ساتھ کیا ہو گا؟ مجھے کوئی پروا نہیں۔ اطمینان صرف اس بات کا ہے کہ اسلام کی حالت میں مسلمانی کی حالت میں فوت ہوں گا ۔ بس یہ کافی ہے میرے لیے۔

جو اگلی بات اطمینان دلاتی ہے وہ یہ کہ اللہ سب کے ساتھ ہے اور سب کی سنتا ہے لیکن ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ زیادہ ہوتا ہے۔جب کوئی پریشان ہو کے پکارتا ہے تو اس کی زیادہ سنتا ہے۔ فرمایا:

﴿ أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ﴾ (سورة النمل: 67)

مصیبت میں دعا کا زیادہ موقع ملتا ہے ، اگر کوئی چاہے تو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس میں انابت کا، اللہ کے آگے جھکنے کا، توکل کا، اللہ پر بھروسہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔مظلوم ، مسکین مصیبت زدہ کی دعا زیادہ سنی جاتی ہے۔ اسی لیے آپﷺ نے فرمایا:

« اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ» (صحيح بخارى: 2448)

اور اس وقت پکارنے کا مزہ بھی بہت ہے۔ اور اللہ بھی اسے پسند کرتا ہے۔ اللہ کو اس وقت بندے کا عاجزی سے، تضرع سے پکارنا پسند آتا ہے۔ یقین بڑی دولت ہے۔ ایمان بہت بڑا خزانہ ہے، جو کئی جگہ کام آتا ہے اور مصیبتوں میں بھی کام آتا ہے۔نبی کریم ﷺ ہجرت کے لیے نکلتے ہیں۔ پریشانی کا عالم، ساتھ دینے کے لیے صرف ایک بندہ اور پیچھے بہت سے لگے ہوئے خون کے پیاسے۔ غار میں رکتے ہیں ،پناہ لیتے ہیں۔ ساتھی اپنے لیے نہیں، آپ کے لیے پریشان ہے اور کہتاہے کہ وہ تو ہمارے بالکل اوپر پہنچ گئے۔ ذرا جھک کے دیکھیں گے تو ہم نظر آ جائیں گے۔ اب کیا ہوگا؟ یقین والا اور یقین سکھانے والا نبی کیا کہتا ہے؟ فرمایا:

﴿ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ (سورة التوبه: 40)

گھبراؤ نہیں، غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ ہے یقین، یہ ہے ایمان، جو مصیبتوں میں کھڑا کرتا ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ مومن کے دل میں اللہ کا ڈر بھی ہے، اس کی محبت بھی۔

﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ﴾ (سورة البقره: 165)

ایمان والے اللہ کی محبت میں بڑے پکے ہوتے ہیں، سخت ہوتے ہیں، مضبوط ہوتے ہیں۔ محبت والے محبوب کو چاہے جانے سے اگر تکلیف آئے تو جو صحیح چاہنے والا ہوتا ہے، وہ اس کو زیادہ محسوس نہیں کرتا کہ یہ میرے حبیب کی طرف سے ہے۔ تو اگر مسلمان کے لیے اللہ واقعی حبیب ہے، مسلمان اسے چاہتا ہے، اس سے محبت کرتا ہے، جیسے قرآن نے کہا، تو پھر اسے اس کی طرف سے آنے والی تکلیف پر بھی شکایت نہیں ہوتی۔ اسے برداشت کرتا ہے بلکہ اس کے مزے بھی لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی، ہمارے لیے اس بات کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے لیکن سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ مزے بھی لیتے ہیں۔ میں نے غلط نہیں کہا۔

سیدنا معاذ بن جبل کو دیکھیں۔طاعون پریشان کن اور تکلیف دہ بیماری ہے، اللہ تعالیٰ بچائے۔ اب تو کافی حد تک اس کا بظاہر خاتمہ ہو گیا، اللہ کی طرف سے کسی وقت بھی بڑی کوئی تکلیف آ سکتی ہے۔ وہ طاعون کا شکار ہوئے۔اس میں گلٹیاں نکلتی ہیں جسم پر، بڑی تکلیف دہ ہوتی ہیں، لیکن وہ ہاتھ پر لگی ہوئی گلٹی کو پیار کرتے تھے، چومتے تھے۔ عجیب بات ہےنا اور کہتے تھے کہ تو مجھے سرخ اونٹ جیسی بڑی دولت سے زیادہ پیاری ہے۔ اس لیے کہ تو میرے اللہ کی طرف سے آئی ہے۔یہ بھی ایمان کی ایک شکل ہے ۔(طاعون عمواس:213)

ایک نسخہ حضرت ابوبکر صدیق کا بھی ہے۔ مصیبت برداشت کرنے کا، مصیبت کو Face کرنے کا، ایک نسخہ ان کا بھی ہے۔ وہ بھی عجیب نسخہ ہے۔ وہ کہتے تھے کہ کوئی تکلیف آتی تھی، کوئی بیماری پریشانی کوئی بھی تو وہ کہتے تھے کہ میں کسی ایسے موقعے پہ اس مصیبت کو یاد کرتا ہوں جو میرے لیے سب سے بڑی مصیبت تھی۔ تو ہر مصیبت مجھے اس کے مقابلے میں ہلکی نظر آنے لگتی ہے۔ وہ کون سی مصیبت تھی؟ فرمایا:

میرے لیے اور اسی طرح دوسرے صحابہ کے لیے، سب سے بڑی مصیبت نبی کریم ﷺ کا اس دنیا سے چلے جانا تھا۔ جتنی تکلیف اس دن ہمیں آپ کی رحلت سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی۔ تو اب چھوٹی موٹی تکلیف آتی ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ نے وہ وقت بھی گزار دیا، اس تکلیف کو بھی ہم نے سہہ لیا، تو اس کے مقابلے میں چھوٹی تکلیف کی کیا حیثیت ہے؟ یہ بھی ایک سہارے کا ذریعہ ہے۔

اب آخر میں، نبی کریم ﷺ نے خود کس طرح ایمان کے ساتھ، توکل کے ساتھ، استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ اور اللہ کی محبت میں اور اللہ کے ساتھ تعلق کو مزید زیادہ جوڑتے ہوئے، کس طرح آپ نے مصیبتیں سہیں اور ہمارے لیے نمونہ قائم کیا۔ یہ بھی تھوڑا سا سن لینا چاہیے۔ جہاں تک مصیبتوں کا تعلق ہے۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

«أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ» (جامع ترمذى: 2472)

اللہ کی راہ میں، اللہ کا دین پھیلانے کے لیے، اتنی مصیبتیں آئی ہیں کہ شاید کسی اور کو اتنی نہیں آئی ہونگی۔ یہ جسمانی مصیبتیں بھی ہیں۔ روحانی مصیبتیں بھی ہیں، روحانی تکلیفیں بھی ہیں اور صحابہ کی جو تکلیفیں تھیں، وہ بھی ان کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے اور میں نہیں کہتا، قرآن یہ کہتا ہے۔

﴿عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾ (سورة التوبه: 128)

اے صحابہ! جو چیز تمہیں تکلیف دیتی ہے، وہ ہمارے نبی پر بھی بڑی بوجھل ہے۔ بڑی شاق گزرتی ہے۔نمونے کے طور پہ شعب ابی طالب میں آپ کا، آپ کے ساتھیوں کا محصور کیا جانا، بائیکاٹ کیا جانا دیکھ لیں۔ کیکر کے پتے کھانے پڑے، ٹوٹل بائیکاٹ تھا، کوئی چیز لینے خریدنے نہیں دیتے تھے۔ سوکھا چمڑا کھانا پڑا، پر بھول گئے۔

طائف دیکھ لیں، کس طرح کسی بڑے نے، سردار نے کہا کہ مجھ سے بات نہ کرو۔ میں تمہارے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ کسی نے کہا، اللہ کو کوئی اور نہیں ملا رسول بنانے کے لیے، تمہیں بنایا رسول۔نعوذ باللہ من ذلک ۔ کسی نے لڑکے پیچھے لگادیئے ، بدمعاش! اوباش قسم کے، جو گالیاں دیتے تھے، پتھر پھینکتے تھے۔ اس تکلیف کو بھی اللہ کی رضا کے لیے برداشت کیا؟

بعض لوگ اس کے برعکس مصائب میں جزع فزع کرتے ہیں، یعنی بغاوت کے اور شکایت کے کلمات، لیکن آپ کا نمونہ یہ ہے کہ بیٹے کی وفات ہے یا اور کوئی صدمہ ہے، بے شک دل پہ لگتا ہے، بے شک اس سے آنسو بھی نکل آتے ہیں۔

لیکن فرماتے ہیں کہ

«وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا» (صحيح بخارى: 1303)

زبان سے وہی کلمہ کہیں گے جو رب کو پسند ہے۔ اس کی بغاوت کا کلمہ، اس کی نافرمانی کا کلمہ، اس سے شکایت کا کلمہ ہماری زبان پر نہیں آئے گا۔تو یہ ہے مومن کا رویہ، یہ ہے مومن کا یقین، جس سے اس کے لیے دنیا کی مصیبتیں برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان کی دولت عطا فرمائے۔

٭٭٭

طلباء علم کے بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ کی ایک اہم نصیحت

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’علم حاصل کرنے والے طالب علموں میں سب سے گھٹیا یا کمزور ذہنیت اس شخص کی ہوتی ہے جو اپنی ساری محنت صرف ایسے عجیب و غریب، غیر معمولی اور شاذ نادر مسائل کے پیچھے لگا دیتا ہے جو نہ کبھی ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کا آئندہ کوئی امکان ہے۔ یا پھر وہ شخص جس کی ساری دلچسپی صرف مختلف فقہی آراء (اقوال) اور اختلافات جاننے میں ہو، لیکن اسے اس بات سے کوئی غرض نہ ہو کہ ان تمام اقوال میں صحیح اور راجح بات کون سی ہے۔ایسے لوگوں میں سے بہت کم ہی ہیں جو اپنے علم سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔‘‘

(الفوائد :ص84)

٭٭٭

تبصرہ کریں