
ظلم اور زیادتی کو اسلام نے ہر صورت اور ہر حالت میں نا پسند کیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا:
﴿وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ﴾ (سورۃ ابراہیم: 34)
’’اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے ، بے شک انسان بہت ظالم اور بہت ناشکرا ہے۔“
انسان اپنی جان پر بھی اور دوسروں پر بھی ظلم اور زیادتی کرتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾ (سورة الاحزاب: 22)
’’جو ہم نے امانت کی ذمہ داری کو آسمانوں پر ، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا تو ان سب نے یہ ذمہ داری اٹھانے سے معذرت کر لی اور وہ سب ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بہت ظالم اور بہت جاہل ہے۔ ‘‘
اسلام نے ظلم کو حرام قرار دیا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں فرمایا:
﴿ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ ﴾ (سورۃ غافر: 52)
’’قیامت کے دن ظالموں کی معذرت ان کے کسی کام نہ آئے گی ان کے لیے لعنت اور برا گھر ہے۔‘‘
حدیث قدسی ہے، نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: « يَا عِبَادي ، إنِّي حَرَّمْتُ الظُلْمَ عَلَى نَفْسي وَجَعَلْتُهُ بيْنَكم مُحَرَّماً فَلا تَظَالَمُوا»
”اے میرے بندو! میں نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ، پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔‘‘ (صيح مسلم: 2577)
انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی ظلم کی ہمارے دین میں اجازت نہیں ۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک انصاری کے باغ میں تشریف فرما تھے کہ ایک اونٹ روتے ہوئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا، اونٹ پر سکون ہو گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟
ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا اونٹ ہے۔ آپ ﷺ نے اس صحابی سے فرمایا :
’’کیا تم اس بے زبان کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جسے اس نے تمہاری ملکیت میں دے دیا ہے؟ اس نے عرض کیا: کیا ہوا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا:
’’یہ میرے پاس شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے چارہ تو پورا کھلاتے نہیں، اسے بھوکا رکھتے ہو مگر کام صبح سے شام تک مسلسل لیتے ہو؟‘‘
اس صحابی نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ (سنن ابو داؤد: 2549)
آیئے ایک اور واقعہ دیکھتے ہیں ۔ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرماتے ہیں:
«عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ» (صحیح مسلم: 2242)
”ایک عورت کو محض اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا حتی کہ وہ مرگئی۔ اسی سبب سے وہ عورت جہنم میں چلی گئی ۔ نہ تو اس نے اسے کھانے پینے کو کچھ دیا اور نہ ہی اسے چھوڑا تا کہ وہ حشرات الارض وغیرہ ہی کھا لیتی۔‘‘
معزز قارئین! ذرا غور و فکر فرمائیں کہ ایک انسان کو، جو اشرف المخلوقات تھا، ایک بلی پرظلم کرنے کے باعث جہنم میں ڈال دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بھی عجیب رنگ ہیں، جس طرح ایک جانور پر ظلم کر کے ایک خاتون جہنم میں چلی گئی، اسی طرح ایک دوسری خاتون ایک جانور پر رحم کر کے جنت میں چلی گئی۔
یہ واقعہ آپ نے کئی مرتبہ پڑھا ہوگا، جسے امام مسلم نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی ترجمان حق وصداقت زبان سے یہ سچا قصہ اپنے صحابہ کرام کو سنایا، فرمایا:
ایک مرتبہ یوں ہوا کہ بنو اسرائیل کی ایک عورت جو جسم فروشی کا کام کرتی تھی ، سخت گرمی کے موسم میں کسی کام سے جا رہی تھی۔ راستے میں ایک جگہ اس نے عجیب منظر دیکھا۔ کیا دیکھتی ہے کہ ایک کتا گرمی کی شدت کے باعث زبان منہ سے باہر نکالے ہانپ رہا ہے اور مارے پیاس کی شدت کے وہ ایک کنویں کے قریب گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ کنواں تو قریب ہی تھا مگر کتے کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ اس میں داخل ہو کر اس کا پانی پی لیتا۔ اس طوائف نے سوچا: جس طرح مجھے پیاس کے باعث گھبراہٹ اور بے چینی کا سامنا ہے، اسی طرح اس کتے کو بھی شدید پریشانی اور گھبراہٹ ہورہی ہو گی۔ یہ بھی ایک جاندار ہے، کیوں نہ میں اس کی مدد کروں اور اس کے لیے پانی کا بندو بست کروں تا کہ یہ بھی راحت و آرام پائے ۔ اب صورت حال یہ تھی کہ اس کے پاس کوئی رسی اور ڈول تو تھا نہیں ، مگر فوراً ہی ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی۔ اگر میں اپنا جوتا اپنے دوپٹے سے باندھ کر کنویں میں لٹکا دوں تو اس طریقے سے کچھ پانی باہر نکالا جا سکتا ہے۔ مگر وہ دوپٹہ اس قدر چھوٹا تھا کہ پانی کی سطح تک نہ پہنچ سکا۔ اب اس نے کسی متبادل تجویز پر غور کیا تو اسے کنویں کے اندر ایک جانب کچھ سیڑھیاں سی بنی ہوئی نظر آئیں۔ جیسا کہ اس دور میں رواج تھا کہ کنویں میں اترنے کےلیے کنویں کی دیوار میں پتھر کے چوڑے ٹکڑے نصب کر دیے جاتے تا کہ ان پر قدم رکھ کر آدمی کنویں میں صفائی وغیرہ کے لیے اتر سکے، اور انہی سیڑھیوں کی مدد سے باہر بھی آسکے۔ عورت نے انہی سیڑھیوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ان پر آہستہ آہستہ قدم رکھتی ہوئی کنویں کے اندر کچھ گہرائی تک اتر گئی، حتی کہ اس کے دوپٹے سے بندھا ہوا جوتا پانی تک پہنچ گیا۔ اس نے جوتا پانی سے بھرا اور باہر آ کر کتے کے سامنے رکھ دیا۔ کتے نے جب پانی پیا تو اس کی جان میں جان آئی۔ عورت نے دو تین مرتبہ یہی عمل دہرایا حتی کہ کتا سیر ہو گیا۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ اس بد کردار عورت کا ایک جاندار پر رحم کرنے کا عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ اس عورت کے تمام گناہوں کو معاف کر کے اس کے لیے جنت کا فیصلہ فرما دیا۔ (صحیح مسلم: 2245)
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظلم کرنے والا اسی دنیا ہی میں برے انجام سے دو چار ہو جاتا ہے۔
آیئے اس تعلق سے ایک واقعہ پڑھتے ہیں:
سیدنا وہب بن منبہ اس کے راوی ہیں ۔ ایک ظالم اور جابر بادشاہ نے اپنامحل بنایا ۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار اپنے محل کا معائنہ کر رہا تھا۔ اس نے محل کا چکر لگایا۔ ایک کونے میں جھونپڑی دیکھی ۔ ماتھے پر شکن پڑگئی، میرا اتنا خوبصورت محل اور اس کے ساتھ لگی ہوئی یہ جھونپڑی؟ اس نے تو سارے محل کی شان و شوکت ہی گہنا ڈالی ۔ اس نے پوچھا: یہ کس کی جھو نپڑی ہے؟ بتایا گیا : یہ ایک غریب بڑھیا کی ملکیت ہے جو اس میں رہائش رکھتی ہے۔ حکم دیا کہ اسے گرا دو۔ جب اسے گرایا جا رہا تھا تو بڑھیا کسی کام سے اپنی جھونپڑی سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ جب وہ آئی اور دیکھا کہ اس کی جھونپڑی کو گرایا جا چکا ہے تو آس پاس کے لوگوں سے پوچھا: کس نے اسے گرایا ہے؟ کہنے لگے: بادشاہ وقت نے اسے دیکھا اور گرانے کا حکم دے دیا۔ اس بوڑھی نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہنے لگی:
يا رب! إذا لم أكن أنا حاضرة فأين كنت أنت؟
’’میرے رب !اگر جھونپڑی گرائے جانے کے وقت میں وہاں موجود نہ تھی تو تو کہاں تھا؟‘‘
فأمر الله عز وجل جبريل أن يقلب القصر على من فيه فقلبه
’’اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کو حکم دیا کہ اس محل کو جڑ سے اوپر اٹھاؤ اور پھر اس کے مکینوں سمیت اسے الٹا کر زمین پر دے مارو۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
«لا تظلمن أحدا إذا ما كنت مقتدرا»
”جب تمہارے پاس قوت و اقتدار ہو تو کسی بے کس پر ظلم بھی نہ کرنا۔“ (التبصرة لابن الجوزی:1؍66)
اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمایئے:
یہ واقعہ میں محترم پروفیسر غلام سرور قریشی صاحب نے مورخہ 23 نومبر 2012ء کو محترم عرفان احمد صاحب پولیٹیکل کونسلر سفارت خانہ پاکستان ریاض کے گھر پر عشائیہ میں سنایا۔ پروفیسر غلام سرور سفارت خانہ پاکستان ریاض کے ایک آفیسر جناب عباس سرور قریش کے والد گرامی ہیں اور ان دنوں وزٹ ویزے پر اپنے لائق بیٹے کے پاس مقیم ہیں۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے:
میں ایک مرتبہ تیز رو ٹرین پر لاہور سے کراچی کے لیے سفر کر رہا تھا۔ اس گاڑی میں دو ہی درجے تھے ایک فرسٹ کلاس اور دوسرا تھرڈ کلاس کا درجہ تھا۔ حسن اتفاق کہ میں نے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لے رکھا تھا۔ جب میں بوگی میں داخل ہوا تو وہاں ایک ہی آدمی بیٹھا ہوا تھا، باقی سارا ڈبہ خالی تھا۔ ہم نے آپس میں گپ شپ لگانی شروع کر دی ۔ جب گاڑی رواں دواں ہوگئی تو مجھے نیند آنے لگی، میں نے اپنے سفر کے ساتھی سے کہا:
ہم باتیں تو کر ہی رہے ہیں مگر ممکن ہے مجھے اچا نک نیند آ جائے اور میں بیٹھا بیٹھا ہی سو جاؤں تو آپ اس کا برا نہ مانیے گا۔
میرے ہم سفر نے ایک آہ بھری اور کہنے لگا:
نیند آہ نیند! اور وہ بھی بیٹھے بیٹھے ! کیا خوش قسمتی ہے؟ میں ان کی آہ سے چونکا تو وہ کہنے لگے :
”15 برس ہوئے میں نیند سے محروم ہوں ۔ میں نے پوچھا: ’’وہ کیسے؟“ کہنے لگے۔ اب تو میں اپنے رب سے ایک ہی دعا مانگتا ہوں: الٰہی: یا تو مجھے نیند دے دے یا موت دے دے۔‘‘
قارئین کرام ! بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت نیند بھی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا﴾ (سورۃ النبا: 9)
’’ہم نے نیند کو تمہارے لیے آرام کا سبب بنایا ہے۔‘‘
دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد تھوڑی سی نیند بھی انسان کو راحت اور سکون مہیا کرتی ہے اور انسان بالکل ہلکا پھلکا اور دوبارہ کام کاج کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
پروفیسر صاحب کہہ رہے تھے ۔ میں اپنے ہم سفر کے ان الفاظ سے چونکا، اس طرح کی دعا تو شاید ہی کوئی کرتا ہوں، میں نے پوچھا تو۔ میرے سفر کے ہمراہی نے اپنی داستان کچھ اس طرح سنائی :
میں ایک زمانے میں تحصیلدار تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب تحصیلدار کا منصب بہت بڑا ہوتا تھا۔ جب بھی تحصیلدار دورے پر جاتے تو وہاں کے افسروں کی دوڑیں لگ جاتیں۔ قانون گو اور پٹواری تو ان کے سامنے بچھے چلے جاتے تھے۔ ان کے ایک اشارے پر وہ ہر چیز مہیا کرنے کے لیے تیار ہوتے ۔ میں ایک مرتبہ ایک علاقے کے دورے پر گیا جہاں میں نے رات بھی گزارنا تھی۔ یہ سردی کا موسم تھا اور اس علاقے میں شدید سردی تھی۔ جب اس علاقے میں پہنچا تو علاقے کے قانون گو اور پٹواریوں نے میرا زبردست استقبال کیا۔ میرے آرام اور کھانے پینے کے لیے ہر وہ چیز مہیا کر دی جو وہ کر سکتے تھے۔
رات ہوئی تو میرے سونے کے لیے بہترین انتظام کیا گیا۔ شدید سردی کی وجہ سے آگ کا آلا ؤ روشن کیا گیا۔ آرام کرنے کے کمرے کے پاس ہی ایک چوکیدار کی ڈیوئی لگائی گئی کہ رات گئے اگر کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے تو وہ اسے میرے لیے مہیا کر سکے۔
میں سونے کے بستر پر لیٹا تو نیند آنکھوں سے دور تھی۔ کمرے میں کتیا اور پلوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ میں جب بھی سونے کی کوشش کرتا کتیا کے پلوں کی مسلسل آوازیں میرے کانوں سے ٹکراتیں ۔ میں شدید الجھن میں تھا۔ میں نے چوکیدار کو بلایا اور اس سے کہا:
کسی طرح ان آوازوں سے مجھے نجات دلا ؤ۔ اس نے کتیا کو بھگانے کی کوشش کی مگر تھوڑی دیر کے بعد پھر آوازیں شروع ہو جائیں۔ میں سخت جھنجھلاہٹ کا شکار تھا۔ میں نے چوکیدار پر غصہ اتارا۔ اسے برا بھلا کہا: غالباً ایک آدھ تھپٹر بھی رسید کر دیا۔ سردی بڑی شدید تھی ۔ کتیا غالباً اپنے بچوں کے لیے محفوظ مقام تلاش کر چکی تھی۔ پلے بالکل چھوٹے تھے۔ ان کی عمر ابھی چند دنوں کی ہوگی ۔ کتیا نے ایک بچے کو منہ سے اٹھایا اور محفوظ مقام پر چھوڑ آئی ۔ تھوڑی دیر بعد پھر آئی، دوسرے بچے کو منہ میں دبایا اور اسے بھی لے کر چل دی۔ اس طرح ایک ایک کر کے وہ اپنے بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچاتی چلی گئی۔ آہستہ آہستہ آوازوں میں کمی آتی چلی گئی ۔ میں نے سکھ کا سانس لیا کہ چلیے ان کی آوازوں سے جلد ہی جان چھوٹ جائے گی۔ ان پلوں کی تعداد سات یا آٹھ ہوگی ۔ کتیا نے ایک کے سوا تمام پلوں کو محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔ پھر یا تو وہ اس پلے کو بھول گئی یا اسے آنے میں تاخیر ہوگئی۔ ادھر یہ پلا جو اکیلا رہ گیا تھا جب اس نے دیکھا کہ اس کی ماں اسے لےکر نہیں گئی اور وہ اکیلا رہ گیا ہے تو اس نے مزید شور مچانا اور آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ ہم دونوں اسے چپ کیسے کروا سکتے تھے۔ یوں بھی وہ چھوٹا سا تھا۔ میں غصے میں آتا چلا گیا۔ کچھ افسری کا زعم، کچھ نیند کا غلبہ، شدید غصہ آیا، میں غصے سے پاگل ہو گیا۔ بستر سے چھلانگ لگائی، اس پلے کو پکڑا اور اٹھا کر آگ کے الاؤ میں پھینک دیا۔ چھوٹا سا کتیا کا بچہ چونکتا چونکتا، آہستہ آہستہ جلنے لگا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ معصوم کوئلہ بن گیا۔ چندلمحوں کے لیے تو مجھے سکون ملا کہ اس کی آواز سے مجھے نجات مل گئی ، مگر اس پلے کے میری آنکھوں کے سامنے جلنے نے میری نیند کو اڑا دیا۔ ہاں بھائی میں نے ظلم کیا تھا ایک معصوم جان پر کہ اس بےگناہ کو میں نے آگ میں زندہ جلا دیا تھا۔
میرے دوست وہ دن اور آج کا دن، آج اس واقعہ کو 15 سال گزر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر مجھے نیند کی نعمت سے محروم کردیا ہے ۔ میں سونے کی ہر کوشش کر چکا ہوں، غذا میں تبدیلی، ادویات کا استعمال، دم جھاڑ، نفسیاتی معائین سے علاج ، مگر کوئی بھی طریقہ کامیاب نہ ہوا۔ میں آج تک اس نعمت سے محروم ہوں ۔ پروفیسر غلام سرور کہنے لگے۔ اس واقعہ کو سننے کے بعد اس سفر کے دوران میری آنکھوں سے بھی نیند دور ہو چکی تھی۔
اللہ تعالی نے ظالموں پر اپنی کتاب مقدس میں لعنت فرمائی ہے۔ (سورۃ ہود: 18)
جب تک وہ مظلوم اس کو معاف نہ کرے گا، اللہ تعالیٰ بھی تب تک اسے معاف نہیں کرے گا۔
٭٭٭
امام ابن قیم فرماتے ہیں:
’’آپ ﷺ نے بنفس نفیس ’ابواء‘ مقام پر غزوہ کیلئے تشریف لے گئے اس جگہ کو ’ودّان‘ بھی کہتے ہیں، یہ آپ ﷺکا پہلا غزوہ تھا، جو کہ آپ کی ہجرت سے بارہ ماہ بعد صفر کے مہینے میں رونما ہوا، اس غزوہ میں حمزہ بن عبد المطلب علمبردار تھے، آپ کا عَلم سفید رنگ کا تھا، آپ نے اس دوران مدینہ منورہ میں سعد بن عبادہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا ، آپ صرف مہاجرین کو لیکر قریش کے ایک تجارتی قافلے کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن وہ قافلہ پہلے ہی ممکنہ جگہ سے گزر چکا تھا۔
اسی غزوہ میں آپ ﷺ نے اس وقت کے بنی ضمرہ کے سربراہ مخشی بن عمرو ضمری کیساتھ امن معاہدہ فرمایا، جس میں فریقین کی طرف سے یہ طے ہوا کہ کوئی بھی ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کریگا، فریقین میں سے کسی کے خلاف بننے والے اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، اور نہ ہی ایک دوسرے کے دشمن کی کسی قسم کی مدد کرینگے، آپ ﷺ نے یہ معاہدہ باقاعدہ تحریر کروایا ، آپ اس غزوے میں پندرہ دن مدینہ سے باہر رہے۔‘‘( زاد المعاد : 3؍ 164 ، 165 )
تبصرہ کریں