مایوسی اور نا امیدی کے زندگی پر نفسیاتی اثرات۔ قاری شفیق الرحمٰن (الحکمہ انٹرنیشنل، لاہور)

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ، فَمَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَمَّا بَعْدُ!

اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ * بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (البقرة: 138 ﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنكُم مِّنى هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلَّ وَلَا يَشْقَى ﴾ [طه: 123] ﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا أَتيكُمْ﴾ [الحديد: 23]

﴿وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾ [الشمس: 8]

تمہید

دنیا کی زندگی میں آزمائش، امتحان اور حالات کا نشیب و فراز ہونا قانون فطرت کا حصہ ہے، لیکن مصائب آنے پر نا امید اور رحمت الٰہی سے مایوس ہونا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نا امیدی دل میں تکذیب پیدا کرتی ، تو کل علی اللہ کو کمزور کرتی اور تقدیر پر کامل ایمان کے منافی ہے۔ جب زندگی میں مایوسی کے سیاہ بادل چھا جائیں تو انسان کی دینی اور دنیوی زندگی کے تمام کام معطل ہو جاتے ہیں، اس کا علاج صرف قضا و تقدیر کے عقیدے پر کامل ایمان ہے۔

ایک مسلمان جب شعوری طور پر کلمہ پڑھتا ہے تو اس کی نفسیاتی بیماریوں کا علاج ہو جاتا ہے، اسلام نے لوگوں کو ظلمت وضلالت کے اندھیروں سے وحی کے نور کی طرف نکالا ہے۔ پاگل اور حواس باختہ وہی شخص ہے جس نے زندگی کی حقیقت اور اپنے جینے کے مقصد کو بھلا دیا ہے۔

اسلامی اور مسنون طرز زندگی ہی مایوسی ، ناامیدی اور ڈپریشن سے نکلنے کا واحد حل ہے، جسے آج کے طبی ماہرین بھی مان چکے ہیں۔ سائنسی ترقی کی راہ میں اسلام بالکل رکاوٹ نہیں، بلکہ دین کی بنیاد دنیا اور آخرت کی مصلحت اور منفعت پر ہے۔ اگر دنیا سے دین نکال دیں، یا زندگی سے آخرت کا تصور ختم کر دیں تو زندگی ظلمت کدہ، خیر وشر کی تمیز سے خالی اور

چنگیزیت رہ جائے گی۔ جس کے بعد امن کے بجائے بدامنی، خیر کی جگہ شر اور نفع کی جگہ نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔

دین الٰہی سے خالی سائنسی ایجادات اور بڑے بڑے عجائبات تو قوم عاد و ثمود اور مدین کی قوم نے بھی بنائے تھے، کیا وہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے ، ان کی زندگی عبرت کا نشان بن گئی ، فرعون کی نعش آج تک دیکھنے والوں کے لیے عبرت کا نشان ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نور وحی کے بغیر عقلی اور سائنسی ترقی دراصل اپنی ہلاکت کا سامان ہے۔

گناہوں کے زندگی پر نفسیاتی اثرات

گناہ انسان کو مایوسی اور نا امیدی کی طرف لے کر جاتے ہیں:

گناہوں کی زندگی پر بہت برے اثرات ہیں، جس کی مثال قرآن مجید کے اندر سید نا آدم علیہ السلام کا قصہ ہے کہ جب انہیں حکم ہوا کہ اس درخت کے قریب نہیں جانا، لیکن شیطان نے انہیں پھسلا دیا اور وہ اس درخت کی قریب چلے گئے، اس غلطی کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنت کا لباس اتار دیا ہے اور جنت سے اتار کر نیچے زمین پر بھیج دیا ۔ جس کے بعد استغفار اور توبہ قبول ہونے کی پریشانی اور غم نے گھیر لیا، اللہ تعالیٰ نے تو بہ کے کلمات سیکھائے اور اولاد آدم کو مایوسی ، غم وحزن اور نا امیدی کا علاج بتلایا:

﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (سورۃ البقرة:38)

’’پھر اگر کبھی تمہارے پاس میری طرف سے واقعی کوئی ہدایت آجائے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا سوان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔“

گناہ، ذلت ورسوائی اور ہلاکت میں ڈالتے ہیں:

گناہ انسان کو ذلیل اور رسوا کرتے ہیں۔ بے عزتی اور محرومی کا احساس انسان کو نفسیاتی طور پر مریض بنا دیتا ہے، اس لیے نیکی عزت اور گناہ ذلت کا باعث ہے۔ لہٰذا عقلی طور پر بھی اس چیز کو چھوڑ دینا چاہیے جو انسان کی بے عزتی کا سبب بنے اور جس سے نفسیاتی مسائل پیدا ہوں۔

امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الزھد میں نقل کیا ہے کہ جبیر بن نفیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

جب قبرص فتح ہوا تو وہاں کے لوگوں کو الگ الگ کر دیا گیا، جس سے وہ ایک دوسرے کی خاطر رونے لگے، میں نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو اکیلے بیٹھے روتے ہوئے دیکھا، تو پوچھا: اے ابو الدرداء ! آپ کو اس دن کس چیز نے رُلا دیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو عزت عطا کی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

مَا أَهْوَنُ الْخَلْقِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ تَرَكُوا أَمْرَهُ ، بَيْنَا هِيَ أُمَّةٌ قَاهِرَةٌ ظَاهِرَةٌ، لَهُمْ الْمُلْكُ تَرَكُوا أَمْرَ اللَّهِ فَصَارُوْا إِلَى مَا تَرَى

’’تجھ پر افسوس اے جبیر! اللہ تعالی کے نزدیک مخلوق کس قدر کمتر ہے، جب وہ اس کی اطاعت کرنا چھوڑ دیں۔ حالانکہ وہ اس سے پہلے ایک زبردست غالب قوم تھے، جن کی بادشاہت تھی، انہوں نے خدا کے احکام کو ماننا چھوڑ دیا تو ان کی یہ حالت ہوگئی ہے جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔‘‘

(حلیۃ الأولياء وطبقات الأصفياء:1؍216)

اس کے متعلق رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

((وَمَنْ بَطَّاً بِهِ عَمَلُهُ ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ )

’’اور جس کے عمل نے اسے (خیر کے حصول میں ) پیچھے رکھا، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“ (صحیح مسلم: 2699)

گناہ انسان کو مایوس کرتے اور مٹی کے ساتھ ملا دیتے ہیں:

گناہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کے حساب سے دنیا کی زندگی پر اور مرنے کے بعد بھی اس کا اثر لازمی ہوتا ہے۔ اس سلسلے قرآن مجید میں سابقہ قوموں پر مختلف عذاب، زمینی اور آسمانی آفتیں جو نازل ہوئیں تو اس کا سبب اُن کا کفر و شرک اور انبیاء کی مخالفت کرنا تھا، یہی وہ کبیرہ گناہ تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں صفا ہستی سے مٹا کر رکھ دیا۔

﴿وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾ (الشمس: 8)

’’اور یقیناً وہ نامراد ہو گیا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔“

دنیا میں دو طرح کے لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں :

1۔ جو لوگ ایمان سے محروم اور شرعی احکام سے بے لگام ہوں وہ لازمی نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

مغرب میں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں، کیوں کہ وہاں نفسانی خواہشات کی تکمیل اور بے راہ روی نے زندگی کا سکون برباد کر دیا ہے۔

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے:

﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا ﴾ (سورة طہ:124)

’’اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے۔“

2۔ اسی طرح دنیا میں بہت زیادہ مالدار لوگ بھی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں، کیوں کہ انہیں مال ومتاع کی فکری لگی رہتی ہے، وہ اسی سوچ میں گم رہتے ہیں کہ ہماری دولت کا مرنے کے بعد کیا بنے گا، کیا ہم یہ سب چھوڑ دیں گے ، یہی غم نفسیاتی اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ (التكاثر: 1 ، 2)

’’تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔“

ذکر الٰہی سے اطمینان اور ذکر سے اعراض بے چینی ہے:

لا محدود آرزوئیں، محدود زندگی کو عذاب بنا دیتی ہیں۔ یہ زندگی ایک خواب گراں ہے، ہم سب نیند کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، جب آنکھ بند ہو گی تو حقیقی طور پر آنکھ کھلے گی، حیرانی اس بات پر ہے کہ ملک میں گرتی ہوئی معاشی حالت، ذہنی اضطراب، ڈپریشن اور دگرگوں حالات کے باوجود ہم خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں، ہماری نوجوان نسل سکون باہر کسی جگہ تلاش کر رہی ہے، مادہ پرستی اور دنیا کے ساز سامان کو سکون سمجھ لیا ہے، حالاں کہ سکون تو دل کا ہوتا ہے، جس کو قرآن مجید نے اطمینان قلب کہا ہے، اندر کا سکون صرف ذکر الہی میں ہے۔

جیسے اللہ نے خود فرمایا ہے:

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴾ (الرعد: 28)

”وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔‘‘

آیت کریمہ کی تفسیر اور ذکر کا مفہوم:

فکری انتشار کے علاج کے لیے آیت کریمہ میں لفظ ذکر اللہ آیا ہے، اہل علم نے اس کے دو معانی کیے ہیں:

1۔ذکر کا معنی نصیحت ہے، قرآن مجید، حدیث مبارک اور ساری شریعت ہی خیر وخواہی اور نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی کو اپنی طرف ہدایت دیتا ہے اور ان کے دل کو وحی الٰہی سے ملنے والی نصیحت سے پوری تسلی ہو جاتی ہے۔

٭ ذکر کا دوسرا معنی یاد الٰہی ہے، یہ پختہ ایمان کی نشانی ہے کہ مسلمان بندہ جیسے ہی نماز یا قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتا ہے تو دنیا کے خیالات اس کے قلب ونظر سے محو ہونے لگتا ہے۔

کافر لوگ اسلام کے سچا ہونے کی دلیل مانگ رہے ہیں، حالانکہ سب سے بڑی نشانی قرآن مجید ہے، لوگ کفر وضلال اور ڈپریشن میں مبتلا ہیں جب کہ اہل ایمان اس سے اطمینان پاتے ہیں۔

ذکر الہی سے اعراض کے دو نقصان :

مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اللہ کے ذکر سے منہ پھیرنے والے کو لازمی طور پر دو حالتیں پیش آئیں گی :

1۔دنیا میں اس کی زندگی ضیق ( تنگی ) میں پڑ جائے گی ، یعنی وہ بظاہر کتنا ہی نہال ہو جائے لیکن دل کی طمانیت اور روح کا انبساط اسے کبھی نہیں ملے گا۔

2۔ آخرت میں بینائی سے محروم ہو جائے گا۔ سعید انسانوں کی نگاہیں روشن ہوں گی، وہ جمال الٰہی کا نظارہ کریں گی ، لیکن بینائی سے محروم لوگوں کو دیدار الٰہی سے روک دیا جائے اور ان کی نگاہوں پر ڈال دیا جائے گا، یہی اندھا پن ہو گا۔

﴿ وَ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلا ﴾ (الاسراء :72 )

’’اور جو اس میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راستے سے بہت زیادہ بھٹکا ہوا ہوگا۔“

گناہوں کی دلدل اور مایوسی زندگی سے ایمانی سفر کا واقعہ:

سید نا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اسے فرمایا: میرے قریب آجاؤ، وہ آپ کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا : کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی بھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا: کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا:

لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم بھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے ، پھر رسول اکرم ﷺنے ہم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعا فرمائی:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ ، وَطَهَّرْ قَلْبَهُ ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ) فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ

”اے اللہ ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔‘‘

راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی ۔ (مسند أحمد: 22211)

نیند میں کمی ، قانون الٰہی کی خلاف ورزی اور نفسیاتی مسائل:

ڈپریشن اور مایوسی کی بہت بڑی وجہ میڈیا اور انٹرنیٹ کا بکثرت اور بے تحاشہ استعمال ہے، نیند میں شدید کمی کی وجہ سے نفسیاتی مسائل اور چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے، انسان کے دل ودماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ رات سونے اور دن کام کاج کے لیے بنایا ہے ، نبی کریمﷺ کی سنت بھی ہے کہ آپ نماز عشاء کے بعد جلد سو جاتے اور نماز تہجد کے لیے بیدار ہوتے تھے ۔ لیکن آج کے انسان نے قانون الٰہی کے الٹ چلنا شروع کر دیا ہے، جس کے سبب زندگی بے سکون اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔

اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے:

﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا ﴾ (الفرقان: 74)

’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو آرام اور دن کو اٹھ کھڑا ہونا بنایا۔“

دجالی فتنوں سے بچیں اور ایمان کی فکر کریں

گناہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ، دلوں کو سیاہ اور زنگ آلود کرتے ہیں، اندر سکون کے بجائے بے چینی ڈھیرے ڈال لیتی ہے۔ نفسیاتی بیماری کا زندگی پر اتنا گہرا اثر ہوتا ہے کہ اس کے بعد بندہ زندگی بھر مکمل ٹھیک ہو پاتا۔ اس لیے سکون حاصل کرنے اور نفسیاتی مسائل سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے۔

دجالی فتنوں سے بچاؤ مسنون طرز زندگی میں ہے:

دجالی فتنوں سے بچنے کے لیے مسنون زندگی اور اسلامی طرز حیات کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرتا ، انہیں یاد کرنا اور سمجھ کر پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دجالی فتنوں سے محفوظ فرما لے گا۔

سیدنا ابودرداء رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ ثَلاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ

’’ جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا۔“

(صحیح سنن الترمذی: 2886)

سعادت و بشارت کی زندگی وحی الٰہی کی پیروی میں ہے:

انسان کی سعادت وحی الٰہی اور قرآن مجید سے جڑی ہے، جو آسمانی ہدایت کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہیں ہوگا اور نہ ہی دیکھی، بلکہ دو جہاں کی سعادتیں مقدر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اتارا ہی اس لیے کہ زندگی سے مایوسی، غم وملال اور تمام نفسیاتی بیماریاں ختم ہو جا ئیں اور سعادت و بشارت نصیب ہو۔

جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنكُم مِّنَى هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلَّ وَلَا يَشْقَى ﴾ (طہ: 123)

’’ اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا۔“

آخرت کی جنت کے لیے دنیا کی جنت حاصل کریں:

اگر آپ دل کا سکون اور روح کو جنت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو جنت کے خواب دیکھنے سے پہلے دنیا کی زندگی میں رزق حلال، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور اپنی نئی نسل کا مستقبل سدھارنا ہوگا، ان کی تعلیم و تربیت اسلامی اصولوں پر کرنا ہو گی، اپنے آپ کو حقیقی ایمانداری سے جوڑنا ہوگا، اگر چہ یہ راستہ بہت کٹھن ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو یہ راستہ ہر صورت حال میں عبور کرنا ہوگا۔

مذہب سے دوری اور بیزاری نفسیاتی مسائل کا باعث ہے:

مایوسی ، ناامیدی، پست حوصلہ ہونا یعنی ڈپریشن آج کے نوجوان کا بہت بڑا مسئلہ اور مرض ہے۔ لوگ اپنے نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے ماہرین نفسیات کے پاس جا کر سیشن لیتے ہیں۔ سارے تجربات کے بعد لوگ اپنے نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے مذہب کی طرف پلٹ رہے ہیں، آج کا انسان سکون کی تلاش میں سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی دنیا سے بیزار ہو کر مذہبی تعلیمات کی طرف پلٹ آیا ہے۔

یہی سکون کی حقیقت ہے، جس کے بارے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴾ (الرعد: 28)

”وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں ۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔“

مایوسی اور ڈپریشن کا شرعی علاج

وسوسے اور فکری انتشار کا نبوی علاج:

نفسیاتی مسائل تبھی پیدا ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ پر تو کل کمزور ہوتا ہے اور مخلوق سے کام ہونے کی امید لگائی جاتی ہے۔ دنیا کے اسباب کو اختیار ضرور کرنا پر چاہیے لیکن بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر کرنا چاہیے۔ ورنہ آپ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوں گے۔ ایک صحابی نے نبی کریم ﷺسے شکایت کی کہ مجھے نماز میں بہت زیادہ وسوسے آتے ہیں یعنی فکری انتشار کا شکار ہوں اور نماز صحیح طرح نہیں پڑھ پاتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

(( ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَيْرَبٌ ، فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْهُ، وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثلاثًا قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللهُ عَنِّى عنى

’’اس شیطان کا نام خنزب ہے، جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور (نماز کے اندر ہی ) بائیں طرف تین بار تھوک لے۔ سیدنا عثمان بن ابو العاص نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر اللہ تعالی نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا۔‘‘ (صحیح مسلم: 2203)

اسی طرح لاحول ولاقوة إلا بالله یہ کلمہ ہر قسم کی بے بسی اور نفسیاتی مسائل سے نکالتا ہے۔

اہل ایمان کا ماضی و مستقبل سب اللہ نے مقدر کر دیا ہے :

ہماری نوجوان نسل کو اپنے فیوچر کی بڑی فکر ہے، ماضی کا غم لے کر رونا اور مستقبل کو تعمیر کرنے کی فکر میں ہلکان ہو جانا مایوسی اور ناامیدی کا بڑا سبب ہے۔ حالانکہ اہل ایمان اپنی زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارتے ہیں، یہی کامیابی اور دلی سکون کا ذریعہ ہے۔ یہی بہترین نتیجے کی دلیل ہے۔ جس کے بارے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لكَيْلا تَأْسَوْا عَلى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا أَتيكُمْ ﴾ (الحديد: 23)

’’تا کہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمہیں عطا فرمائے۔“

رزق کا ذمہ اللہ نے لیا ہے، محنت کرنا ہمارے ذمے ہے:

مومن بندے کا فرض ہے کہ وہ ایسے حلال وسائل و ذرائع اختیار کرے کہ خود کو بھوک، بیماری اور غربت سے بچا سکے۔ وہ ان اسباب کی فراہمی میں ہرگز کوتاہی نہ کرے اور پھر معاملے کو اللہ پر چھوڑ دے۔ وہ ڈر اور خوف کے ساتھ زندگی نہ گزارے، رزق اول و آخر اللہ کے قبضے میں ہے۔ بلا وجہ خوف اور فکر مندی انسان کو ڈپریشن میں مبتلا کرتی ہے۔ ڈر اور تقویٰ صرف اللہ کا ہونا چاہیے۔ اس لیے اللہ ہی ہمارے اعمال وافعال کو اور ظاہر و باطن کو جانتا ہے، صرف اس سے ڈرنا چاہیے، اس کے سوا کسی سے مت ڈرو۔ جان لینا چاہیے کہ اطاعت میں سعادت و کمال ہے اور نافرمانی و معصیت میں شقاوت و نقصان اور ہمیشہ کی بے چینی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَكَأَيِّن من دَابَّةٍ لا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾

(العنكبوت: 60)

’’اور کتنے ہی چلنے والے ( جاندار) ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے ، اللہ انھیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی اور وہی سب کچھ سننے والا ، سب کچھ جاننے والا ہے۔“

قرآن کی تلاوت، رحمت الٰہی کا نزول اور دل کو سکون دیتی ہے:

قرآن کریم مسلمانوں کی تربیت حق پر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ حلال و حرام دونوں واضح ہیں۔ انسان کو شبہات سے بچنا چاہیے اور خالق کی فرمان برداری کو چھوڑ کر لوگوں کی فرماں برداری نہ کرنا چاہیے۔ اللہ کی پرواہ کرنے سے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، یہی مایوسی کا علاج اور امید افزا حقیقت ہے۔

﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُوْنَ الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا﴾ (الإسراء: 9)

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جولوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انھیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔“

دوسرے مقام پر قرآن خاموشی کے ساتھ پوری توجہ سے سنے پر رحمت الہی کے نازل ہونے کے بارے فرمایا:

﴿وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (الاعراف: 204)

’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“

اللہ تعالیٰ کی پناہ پکڑنا، مایوسی کا بہترین علاج ہے:

قرآن مجید اور سنت رسول میں ہر قسم کے شر، نقصان اور ڈپریشن سے بچنے کے لیے تعوذ باللہ کا حکم ہے، جب بندہ اللہ کی پناہ اور عافیت میں آجاتا ہے تو کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہی یقین انسان کو مایوسی سے نکال دیتا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَان نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ (الاعراف: 200)

’’اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بے شک وہ سب کچھ سننے والا ، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

دوسرے مقام پر یوں فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ ﴾ (الاعراف: 200)

’’یقیناً جو لوگ ڈر گئے ، جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔‘‘

لیکن کافر، مشرک اور قرآن سے اعراض کرنے والوں کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کے وقت شور کرتے اور اپنے شیطان سے ساتھیوں کہتے تھے:

﴿لا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ ﴾ (فصلت: 126)

’’یہ قرآن مت سنو اور شور کرو۔‘‘

رحمت الٰہی کے مستحق بننے کے لیے قرآن سننا، پڑھنا، غور وفکر کرنا اور اس کا سیکھنا وسیکھانا ضروری ہے۔ اسی لیے حدیث میں کہا گیا ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسرے کو سیکھائے۔

قرآن مجید کے ساتھ تعلق کی ہر صورت انسان کو ڈپریشن، مایوسی اور ناامیدی سے نکال کر روشنی اور نور وحی کی طرف لاتی ہے، جس سے زندگی کے مسائل حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے غموں ، دکھوں، وسوسوں اور ڈپریشن کا علاج وشفا مسنون طریقے اور قرآن مجید کے ذریعہ کریں، خود کو بدلنے ، تائب ہونے ، گناہ سے نیکی اور خواہش پرستی سے شریعت کی تابعداری کے مطابق زندگی گزارنے کی فکر نصیب فرمائے ۔ آمین

٭٭٭

آب زر سے لکھنے کے قابل

حضرت سفيان بن عيينہ رحمہ الله نے فرمایا :

روئے زمین پر کوئی بدعتی ایسا نہیں سوائے کے کہ اللہ تعالی اس پر اس کی بدعت کی وجہ سے ذلت و رسوائی مسلط کردیتا ہے۔

یہ بات میں نے کہتا بلکہ اللہ کی کتاب سے ثابت ہے۔

لوگوں نے پوچھا : اللہ کی کتاب میں یہ بات کہاں لکھی ہے؟فرمایا :

کیا تم نے اللہ کا فرمان نہیں سنا :

’’جن لوگوں نے بچهڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے۔‘‘ ( سورۃ الأعراف 152)

لوگوں نے کہا :

اے ابو محمد، یہ سزا تو بچهڑے کو معبود بنانے والوں کے لئے ہے۔ فرمایا :

نہیں ! آیت اگلا حصہ بھی پڑھیں :

’’ جهوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔‘‘

( الأعراف 152)

یہ سزا ہر صاحب بدعت اور جهوٹ گھڑنے والے کے لئے ہے۔

(شعب الإيمان : 7/72، حلية الأولياء: 7/280)

٭٭٭

تبصرہ کریں