عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:تشہد اور درود وسلام کے متعلق (قسط50)

کتاب الصلاۃ:تشہد کے متعلق

حدیث نمبر: 116

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ رضي الله عَنْه قَالَ : «عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ التَّشَهُّدَ ــ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ ــ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إلَهَ إلاَّ اللَّـهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». 126 ــ وَفِي لَفْظٍ : «إذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ للصَّلاةِ، فَلْيَقُلِ : التَّحِيَّاتُ للهِ ــ وَذَكَرَهُ، وَفِيهِ ــ : فَإِنَّكُمْ إذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ، فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ــ وَفِيهِ ــ فَلْيَتَخَيَّرْ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ» (رواه البخاري، كتاب الاستئذان، باب الأخذ باليدين، برقم 6265، واللفظ له، وكتاب الأذان، باب التشهد في الآخرة:831، ومسلم، كتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة: 402. رواه البخاري، كتاب الدعوات، باب الدعاء في الصلاة، برقم 6328، وكتاب العمل في الصلاة، باب من سمى قوماً، أو سلم في الصلاة على غير مواجهة وهو لا يعلم: 1202، ومسلم، كتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة: 402)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ نے تشہد سکھلایا میری ہتھیلی آپکی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی جیسے کہ آپ مجھے قرآن کی کوئی سورۃ سکھلا رہے ہیں۔’’تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اے نبی ﷺ آپ پر سلامتی اللہ کی رحمت اور اسکی برکات نازل ہوں۔سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے بیٹھے تو وہ التحیات للہ آخر تک کہے۔اس روایت میں ہے جب تم اسطرح کرو گے تو تم نے ارض و سماء کے ہر نیک بندے کے لیے سلامتی کی دعا کر دی اور اس روایت میں ھےاسکے بعد نمازی جودل پسند کرے دعا کرے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – علَّمَنِیْ : اس نے مجھے سکھایا ۔

2 – كَفِّي : میری ہتھیلی 3 – بَيْنَ : درمیان ۔

4 – كَمَا يُعَلِّمُنِیْ : جیسے آپ مجھے سکھاتے ہیں۔

5 – التَّحِيَّاتُ : تمام قولی عبادتیں۔

6 – الصَّلَوَاتُ : تمام بدنی عبادتیں۔

7 – الطَّيِّبَاتُ : تمام مالی عبادتیں۔

8 – اَشْھَدُ : میں گواہی دیتا ہوں۔

9 – اِذَا قَعَدَ : جب بیٹھے ۔

10 -فَلْيَتَخَيَّرْ : پس چاہیے کہ وہ اختیار؍پسند کرے۔ 11 – مَا شَاءَ : جو چاہے ۔ یعنی دعا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔استاذ کو چاہیے کہ ضروری چیز بغیر مطالبے کے بھی شاگرد کو سکھائے جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھایا۔

2۔استاذ کو رحیم و شفیق ہونا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا یہ آپکی شفقت ، محبت اور رحمت تھی۔ بعض لوگوں نے اس حدیث سے مصافحہ دو ہاتھوں سے کرنے پر استدلال کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے بلکہ جہالت ہے کیونکہ یہ مصافحہ ہے ہی نہیں بلکہ تعلیم کے وقت استاذ کی شاگرد کے ساتھ محبت و شفقت ہے اور مزید یہ کہ اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کے دو ہاتھ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ تھا اور اگر ادب کو دیکھا جاۓ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دو اور نبی کریم ﷺ کا ایک ہاتھ ہونا چاہیے مگر یہاں نہ ہی مصافحہ کا مسئلہ ہے اور نہ ادب واحترام کا بلکہ یہاں استاذ کی شفقت محبت اور رحمت ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

3۔روایات میں مروی صیغۂ امر سے معلوم ہوتا ہے کہ تشہد کا پڑھنا ضروری ہے بلکہ دارقطنی کی روایت میں وضاحت ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تشہد فرض ہونے سے پہلے ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں کیا پڑھا جاتا ہے۔ (سنن الدارقطنی: 1؍350)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تشہد پڑھنا فرض ہے۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھنا ضروری ہے اس کو پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔

4۔تین اور چار رکعت والی نماز میں تشہد دو مرتبہ اور دو رکعت والی نماز میں ایک مرتبہ تشہد پڑھا جاتا ہے۔ اور محدثین کرام درود اور دعائیں آخری تشہد کے باب میں لیکر آۓ ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اس کو باب التشهد فى الآخرة یعنی آخری قعدہ میں تشہد پڑھنا میں بیان کیا اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے سات مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ اور یہ امام بخاری رحمہ اللہ کی عظیم فقاہت کی دلیل ہے ۔

5۔التحیات پڑھنے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے مسنون دعاؤں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے مسنون دعائیں جامع ہوتی ہیں اپنی دعاؤں میں وہ جامعیت نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ جوامع الکلم نبی کریم کے معجزات میں سے ہے۔

6۔نبی کریم ﷺ حدیث کی تعلیم بھی بڑے اہتمام سے کیا کرتے تھے جیسے قرآن مجید کی تعلیم جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے تشہد ایسے سکھائی جیسے قرآن مجید کی سورت سکھاتے۔

7۔جس طرح قرآن مجید دین ہے بلکل اسی طرح صحیح حدیث بھی دین اور دونوں کی تعلیم خود رسول کریم ﷺ نے دی ہے۔

8۔عبادات تین طرح کی ہیں قولی جیسے دعا و ذکر وغیرہ، بدنی جیسے نماز روزہ حج و عمرہ وغیرہ اور مالی جیسے صدقہ وغیرہ

کتاب الصلاۃ ۔ نماز میں رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام کے متعلق

حدیث نمبر: 117

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : «لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ : أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ إنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّم عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ : قُولُوا : «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ، وعلى آل إبراهيم، إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إبرَاهيمَ، إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». (رواه البخاري، كتاب الأنبياء، باب، برقم 3370، واللفظ له، وفي كتاب الدعوات، باب الصلاة على النبي ﷺ، برقم 6357، ومسلم، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبي بعد التشهد، برقم 406)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت ہے فرمایا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے تو اس نے کہا کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں؟ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ آپکو سلام کیسے کہیں لیکن ہم آپ پر دررود کیسے بھیجیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسطرح کہو۔اے اللہ محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آل اِبراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل کی تھی بےشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے اے اللہ محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پربرکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل کی تھی بےشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 – لَقِيَنِیْ : وہ مجھے ملا ۔

2 – اُهْدِیَ لَكَ: تجھے تحفہ دوں۔

3 – خَرَجَ عَلَيْنَا: ہمارے پاس تشریف لائے ۔

4 – عَلِمْنَا: ہمیں معلوم ہے ۔

5 – كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ؟: ہم آپ پر کیسے سلام بھیجیں؟

6 -كَيْفَ نُصَلِّی عَلَيْكَ؟: ہم آپ پر کیسے صلاۃ/ درودِ بھیجیں؟

7 – اَللّٰهُمّٰ: الہی ۔

8 – صَلِّ عَلٰى مُحَمٍدٍ: محمد ﷺ پر رحمت نازل کر۔

9 – بَارِكْ عَلَى مُحَمٍدٍ: محمد ﷺ پر برکت نازل کر۔

10 – حَمِيدُ : قابل ستائش و تعریف۔

11 – مَجِيدُ : بزرگی والا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ علم کی بات بھی تحفہ ہوتی بلکہ یہ قیمتی تحفہ ہے جس کا فائدہ دینا و آخرت دونوں میں ہے۔

2۔جس بات کا علم نہ ہو وہ کسی ایسے شخص سے پوچھنا جس کو علم جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا کہ ہم سلام تو جانتے ہیں یعنی السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ وغیرہ کہنا مگر صلاۃ جس کا سلام کے ساتھ حکم ہے وہ ہمیں معلوم نہیں ہے پھر نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ صلاۃ علی النبی کیا ہے۔

3۔ صلاۃ رحمت اور سلام سلامتی اور حفاظت کے معنی میں آتے ہیں اور اس کی ضرورت مخلوق میں سے ہر ایک کو ہے حتی کہ سید البشر محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی۔ جیسا کہ ایک دوسری صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے عمل کے بدلے جنت نہیں جائے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا کہ کیا آپ اے اللہ کے رسول ﷺ بھی تو آپ نے فرمایا ہاں میں بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاؤں گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ عمل صالح چھوڑ دے بلکہ اعمال صالحہ ذریعہ ہیں اللہ کی رحمت پانے کے۔

4۔ درود وسلام دونوں دعائیں ہیں جو کہ مومن کا عمل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ سے درخواست ہوتی ہے کہ اے اللہ رسول اللہ ﷺ پر رحمت فرما جیسے تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رحمت فرمائی اور اسی طرح یہی دعا آل محمد ﷺ کے لیے بھی ہے اور آل سے مراد آپ کی بیویاں اور ساری اولاد اور حضرت علی حسن و حسین اور سارے آپ کے متقی مومن امتی شامل ہیں ۔

5۔اہل ایمان کے لیے رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس پر درود وسلام بھیجنا یعنی آپ کے لیے یہ دعا کرنا واجب ہے۔

6۔تشہد میں درود ابراہیمی پڑھنا بعض اہل علم کے نزدیک رکن بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک سنت ہے۔واللہ اعلم بالصواب

7۔نبی کریم ﷺ کا اہل ایمان پر حق ہے کہ وہ آپ پر درود و سلام بھیجیں یعنی آپ کے لیے سلامتی و رحمت کی دعا کریں ۔

8۔نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کا تقاضا ہے کہ آپکانام سنتے ہی ہر امتی کی زبان پر درود وسلام کے الفاظ جاری ہو جائیں۔البتہ اونچا پڑھنا ضروری نہیں ہے جیسے بعض واعظین سامعین سے کرواتے ہیں۔

9۔عمومی حالات میں درود و سلام کے کوئی بھی الفاظ کہے جاسکتے ہیں مثلا اللھم صل و سلم علی محمد وآل محمد ۔ یا ﷺ ۔ وغیرہ ۔

تبصرہ کریں