والدین کی وفات کے بعد ان سے نیکی کے طریقے-محمد زبیر کلیم

بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

حمد وثناء کے بعد:پس میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ یہ تقویٰ ہی اللہ تعالیٰ کی پہلی اور آخری امتوں کے لیے وصیت ہے، اور یہی روزِ قیامت کے لیے بہترین زادِ راہ (سامانِ سفر) ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾

’’اور زادِ راہ حاصل کرو، پس بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے، اور مجھ سے ڈرو اے عقل والو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:197)

اے اللہ کے بندو!بیشک سب سے ضروری فرائض، سب سے بڑی قربتیں، اور سب سے افضل عبادتوں میں سے ایک: ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک (نیکی) ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے حق کو اپنے حق کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾

’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘ (سورۃ النساء: 36)

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو جوڑ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ﴾

’’میرا شکر ادا کر، اور اپنے والدین کا بھی، (بالآخر) میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔‘‘ (سورۃ لقمان:14)

اور اولاد پر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے کہ اس نے ان کے لیے ماں باپ کے ساتھ نیکی کے کئی دروازے کھول دیے ہیں، جو ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی بند نہیں ہوتے۔ان دروازوں میں سب سے عظیم دروازہ: والدین کے لیے دعا کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾

’’اور کہہ: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا۔‘‘ (سورۃ الإسراء: 24)

علامہ سعدی ﷫نے فرمایا:

“أَي ادْعُ لَهُمَا بِالرَّحْمَةِ: أَحْيَاءً وأَمْوَاتًا.”

’’یعنی ان دونوں کے لیے دعا کر رحم کی: چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہو چکے ہوں۔‘‘( تفسیر السعدی: 524)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ؛ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»

’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے، تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: جاری صدقہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1638)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:

“الوَلَدُ الصالِحُ: هُوَ الذي يَدْعُو لِوَالِدَيهِ بعدَ مَوْتِهِمَا، ولهذا يتأكَّدُ علينا أن نَحْرِصَ -غايةَ الحِرْصِ- على صَلَاحِ أَولَادِنَا؛ لأنهم يَدْعُونَ لنا بعدَ الموت.”

’’نیک اولاد وہ ہے جو اپنے والدین کے انتقال کے بعد ان کے لیے دعا کرتی ہے، اسی لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی اولاد کی اصلاح کی فکر کریں۔‘‘ ( شرح رياض الصالحين :4؍567)

اور والدین کے لیے دعا میں سب سے اہم دعاؤں میں سے ایک: ان کے لیے مغفرت کی دعا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ في الجَنَّةِ؛ فَيَقُولُ: أَنَّى هَذَا؟! فَيُقَالُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ.»

’’بیشک آدمی کے جنت میں درجے بلند کیے جاتے ہیں، تو وہ پوچھتا ہے: یہ درجے مجھے کہاں سے ملے؟کہا جاتا ہے: تیرے بیٹے کے استغفار (دعائے مغفرت) کی وجہ سے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 3660)

اور والدین کے انتقال کے بعد ان سے نیکی (برّ) کے دروازوں میں سے ایک دروازہ:ان کی طرف سے قرض کی ادائیگی ہے۔شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“بعضُ الظَّلَمَةِ مِنَ الوَرَثَة؛ يُؤَخِّرُونَ وفَاءَ الدَّيْنِ عَنِ المِيِّتِ؛ لِمَصَالِحِهِمُ الخاصة! فَتَجِدُ الميّتَ عليه ديون، وعندَه عقارات؛ فيقولون: “لا نَبِيْعُهَا؛ بل نُوفِيهِ مِنَ أُجْرَتِهَا ولَوْ بعدَ عَشْرِ سِنِين”، أو يقولون: “ننتظرُ حتى ترتفعَ قيمةُ الأراضي”، وهذا ظلمٌ -والعياذُ بالله-، وفيه مِنَ العقوقِ ما لا يَخْفَى على أَحَد؛ لأنَّ الميّتَ يَتَأَثَّرُ بالدَّيْنِ الذي عليه.”

’’بعض ظالم ورثاء میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مؤخر کر دیتے ہیں! چنانچہ میت پر قرض ہوتا ہے اور اس کے پاس جائیدادیں بھی موجود ہوتی ہیں؛ لیکن وہ کہتے ہیں: “ہم ان کو نہیں بیچیں گے، بلکہ ان کے کرائے سے قرض ادا کریں گے، چاہے دس سال بعد ہی کیوں نہ ہو۔‘‘، یا وہ کہتے ہیں:

’’ہم انتظار کریں گے یہاں تک کہ زمینوں کی قیمت بڑھ جائے‘‘،تو یہ ظلم اور والدین کی نافرمانی ہے؛ کیونکہ میت قرض کی وجہ سے تکلیف میں ہوتی ہے۔‘‘ ( الشرح الممتع : 5؍260 -261)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«نَفْسُ المُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ، حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ»

’’مومن کی روح اس کے قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔‘‘ (جامع ترمذی: 1078)

اور والدین سے نیکی (برّ) میں سے ایک عمل ان کے انتقال کے بعد یہ ہے:اللہ کے ذمے واجب قرضوں کی ادائیگی،چنانچہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے :

أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إلى النَّبِيِّ ﷺ، فقالت: «إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ؛ أَفَأَحُجَّ عَنْهَا؟»، قال: «نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟»، قالت: «نَعَمْ»؛ فقال: «اقْضُوا اللهَ الَّذِي لَهُ، فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ بِالوَفَاءِ»

’’کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا:’’بیشک میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی، لیکن وہ حج کرنے سے پہلے فوت ہو گئی؛ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:’’ہاں، اس کی طرف سے حج کرو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں!‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ کا قرض پورا کرو، کیونکہ اللہ ہی سب سے زیادہ اس کا حق دار ہے کہ اس کا قرض پورا کیا جائے۔‘‘ (صحیح بخاری: 7315)

اور والدین سے نیکی کے کاموں میں سے ایک ان کی وفات کے بعد یہ بھی ہے:

ان کی وصیت کو نافذ کرنا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾

’’وصیت کی تکمیل کے بعد، یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔‘‘ (سورۃ النساء: 11)

امام سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“قَدَّمَ الوصيةَ -معَ أَنَّهَا مُؤَخَّرَة عن الدَّيْن؛ لِلْاِهْتِمَامِ بِشَأْنِهَا، لِكَونِ إِخْرَاجِهَا شَاقًّا على الوَرَثَة.”

’’اللہ تعالیٰ نے یہاں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے کیا ہے، حالانکہ حقیقت میں وصیت قرض کے بعد ادا کی جاتی ہے، یہ اس لیے کہ وصیت کا ادا کرنا ورثاء پر بوجھ ہوتا ہے، اس لیے قرآن نے اس پر خاص توجہ دلائی۔‘‘ (تفسیر السعدی: 166)

اور والدین کے ساتھ نیکی کی ایک اور قسم ان کی وفات کے بعد:

ان کی طرف سے روزے رکھنا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا:

«يا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ -وفي روايةٍ: صوم نذر-؛ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟). فقال ﷺ: «لَوْ كَانَ على أُمِّكَ دَيْنٌ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟». قال: (نَعَمْ)؛ فقال: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»

’’اے اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزے باقی تھے۔‘‘

ایک روایت میں ہے:

نذر کے روزے، تو کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا، تو کیا تم وہ ادا کرتیں؟‘‘

سائل نے کہا: ’’ہاں!‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’تو اللہ کا قرض پورا کرنا اس کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم :1148)

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ مَاتَ وعَلَيْهِ صِيَامٌ؛ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ»

’’جس شخص پر روزے باقی ہوں اور وہ فوت ہو جائے، تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1952)

علماء نے کہا ہے کہ

“مَنْ ماتَ وعليهِ صيامٌ مِن رمضان؛ لم يَخلُ مِن حالَيْنِ: أَوَّلاً: أنْ يموتَ قَبْلَ إمكانِ الصيام: إِمَّا لِضِيْقِ الوَقْتِ، أو لِـمَرَضٍ، أو سَفَرٍ، أو عَجْزٍ؛ فهذا لا شيءَ عليه: فلا يُصَامُ عنه، ولا يُطْعَم. ثانيًا: أنْ يموتَ بعدَ إمكانِ القضاء: فَإِمَّا أنْ يَنْتَدِبَ لهُ واحِدٌ مِن الورثة ويصومُها، وإِمَّا أن يُطْعِمُوا عن كلِّ يومٍ مسكينًا.”

’’جو شخص رمضان کے روزے رکھے بغیر فوت ہو جائے، اس کے دو ممکنہ حالات ہیں:پہلا:اگر وہ روزے کی قضا کا موقع ملنے سے پہلے فوت ہوا جیسے عدم فرصت، سفر، بیماری، معذوری: تو اس پر کچھ بھی نہیں؛ نہ اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا اور نہ فدیہ دیا جائے گا۔دوسرا:اگر وہ قضا کی قدرت رکھنے کے بعد فوت ہوا:

الف) تو یا تو اس کے ورثاء میں سے کوئی ایک اس کی طرف سے روزہ رکھے۔

ب) یا ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔‘‘ (المغنی، ابن قدامہ: 3؍241؛ الشرح الممتع، ابن عثيمين : 6؍453)

اور والدین کی وفات کے بعد ان سے نیکی کے دروازوں میں سے ایک اور دروازہ:ان کی طرف سے صدقہ دینا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا:

«إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا -أي ماتت- وأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ؛ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟، قال: «نَعَمْ»

’’بیشک میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں، اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات کر سکتیں تو صدقہ کرتیں؛ تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہیں اس کا اجر ملے گا؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ہاں!‘‘ (صحیح بخاری: 1388)

بیشک والدین کی دنیا سے رخصتی کے بعد ان سے نیکی (برّ) کرنے کی اقسام میں سے ایک قسم صلۂ رحمی) رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا) اور ان کے دوستوں سے حسنِ سلوک کرنا ہے۔چنانچہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا:

يا رَسُولَ اللهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ، أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟، قال: «نَعَمْ: الصَّلاةُ عَلَيْهِمَا، والاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا»

’’یا رسول اللہ! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی کرنے کا کوئی ایسا عمل باقی رہتا ہے جس کے ذریعے میں ان سے نیکی کر سکوں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ہاں! ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے عہد و وعدوں کو ان کے بعد پورا کرنا، ان رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا جو صرف ان کی وجہ سے تعلق میں تھے، اور ان کے دوستوں کا اکرام و احترام کرنا۔‘‘ (سنن أبو داؤد: 5142)

اور ایک اور حدیث میں فرمایا:

«مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ؛ فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ»

’’جس نے یہ چاہا کہ وہ اپنے والد کو اس کی قبر میں (بھی) جوڑنے والا بنے، تو اسے چاہیے کہ اپنے والد کے دوستوں سے اس کے بعد تعلق قائم رکھے۔‘‘ (صحیح ابن حبان :432)

علامہ مناوی﷫ فرماتے ہیں:

“أَي يَصِل أصدقاءَهُ بعدَ مَوتِه.”

’’یعنی والد کے دنیا سے جانے کے بعد اس کے دوستوں سے تعلق رکھنا اور ان سے حسنِ سلوک کرنا ہی والد کے ساتھ صلہ رحمی ہے۔‘‘ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر: 2؍ 388)

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے:

” أَنَّ رَجُلًا لَقِيَهُ بِالطَّرِيقِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وحَمَلَهُ على حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ، وأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ على رَأْسِهِ؛ فَتَعَجَّبَ الناسُ مِنْ ذلك! فقال ابنُ عُمَر: إِنَّ أَبَا هذا، كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ، وإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يقول: “إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ: صِلَةُ الوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ.”

’’ایک آدمی ان سے راستے میں ملا، اس نے انہیں سلام کیا، تو حضرت ابن عمر ہ نے اسے اُس گدھے پر سوار کر دیا جس پر وہ خود سوار تھے، اور اپنی پگڑی اُتار کر اسے دے دی۔لوگوں نے اس پر تعجب کیا (کہ یہ سب کچھ صرف ایک سلام پر کیوں کیا؟(تو حضرت ابن عمر نے فرمایا:

’’بیشک اس آدمی کا باپ عمر ( ) کا دوست تھا، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

’’سب سے اعلیٰ درجہ کی نیکی یہ ہے کہ بیٹا اپنے والد کے دوستوں سے تعلق قائم رکھے۔‘‘( صحیح مسلم: 2552)

امام نووی.فرماتے ہیں:

“وفي هذا فَضْلُ صِلَةِ أصدقاءِ الأَب، والإحسانِ إليهم بِإِكْرَامِهِم، وتَلْتَحِقُ بِهِ أصدقاءُ الأم.”

’’اس حدیث میں والد کے دوستوں سے تعلق قائم رکھنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی فضیلت ہے اور اسی میں ماں کی سہیلیاں (یعنی ماں کی دوستیں) بھی شامل ہیں۔‘‘ ( شرح مسلم: 16؍110)

اے اللہ! ہمیں اور ہمارے والدین کو بخش دے،اے اللہ! ان پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے ہمیں بچپن میں پالا تھا،اور ہمیں ان کی زندگی میں بھی اور ان کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی (برّ) کرنے کی توفیق عطا فرما۔

٭٭٭

تبصرہ کریں